وزنی اسکول بستے بند 18

وزنی اسکول بستے بند

56 / 100

وزنی اسکول بستے بند
وطن عزیز میں بھاری بھرکم اسکول بستوں کا رجحان اس لحاظ سے ایک دیرینہ مسئلہ چلا آرہا ہے کہ ان کا وزن بچوں کی عمر اور استعداد سے بہت زیادہ ہوتاہے جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ صحت کے ماہرین کے مطابق حد سے زیادہ وزن اٹھانے سے نہ صرف بچے کی جسمانی نشو و نما متاثر ہوتی ہے بلکہ غیر ضروری وزن ان کے لئے کسی بھی حادثے کا موجب بن سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ابتدائی سے بارہویں جماعت تک اسکول بیگز کے وزن کا تعین کرتے ہوئے اس حوالے سے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور لیمیٹیشن آف ویٹ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کرکے دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ منظوری کے بعد قانون کا اطلاق صوبے کے تمام سرکاری نجی پرائمری اور ثانوی اسکولوں پر ہوگا۔ کے جی کے لئے ڈیڑھ کلو، پہلی دوسری جماعت 2.4، تیسری کلاس تین کلو، چہارم 4.4 ،پنجم5.3، کلاس ششم 5.4، ساتویں کے لئے 5.8 آٹھویں جماعت 5.9،نویں کے لئے 6 کلو، دسویںکے لئے 6.5 جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لئے بیگ کا وزن سات کلو تک مقرر کیا گیا ہے۔ بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی اور دو لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا یہ ایک اچھی پیشرفت ہے جس کا اطلاق یقیناً ملک بھر کے تعلیمی اداروں پر ہونا چاہئے تاہم یہ بات بھی ملحوظ ہونی چاہئے کہ بہت سے بچے از خود نصابی کتب سے ماورا سامان اور کھیل کھلونے بھی بستوں میں رکھ لیتے ہیں جس سے ان کا وزن بڑھ جانا قدرتی بات ہے اس ضمن میں والدین کو بھی بچوں کے بستوں پر نظر رکھنی چاہئے اور ٹائم ٹیبل کے مطابق ان میں کتب اور اسٹیشنری رکھنی چاہئے اساتذہ کو بھی اس ضمن میں بستے چیک کرنے کا پابند بنایا جائے البتہ اس کا اطلاق لنچ پر نہیں ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں