Kashif Gulzar Naeemi 260

وبائی امراض سے نجات کیلئے اذان. تحریر: کاشف گلزار نعیمی

وبائی امراض سے نجات کیلئے اذان
تحریر: کاشف گلزار نعیمی
اذان پر جاری بحث(جو کہ نہیں ہونی چاہیئے تھی) اس حوالے سے چند معروضات پیش خدمت ہیں
1۔اذان نماز کے علاوہ بھی دی جا سکتی ہے۔(دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث مبارکہ:حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا عبد الله بن دينار، سمعت عبد الله بن عمر رضي الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:” إن بلالا ينادي بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن ام مكتوم”.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال (رمضان میں) رات ہی میں اذان دیتے ہیں (وہ نماز فجر کی اذان نہیں ہوتی) پس تم کھاؤ پیو، یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم اذان دیں (تو کھانا پینا بند کر دو)۔“۔۔بعض احادیث میں دونوں صحابہ کا نام ایک دوسرے کی جگہ تبدیلی سے آیا ہے۔
اس حدیث مبارکہ میں ایک اذان تو نماز کیلئے جبکہ قبل از وقت اذان کا فیصلہ آپ کریں۔
2۔ اذان خیر کے کلمات ہیں جو کسی بھی وقت ادا کیئے جا سکتے اور آذان کی آواز سے شیطان دور بھاگتا ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس بیماری کے اثرات کو دور بھگانے کیلئے اللہ پاک کی مدد لی جائے تو غلط نہ ہو گا۔
3۔ ہر چیز میں اصل حکم اباحت کا ہے یعنی جب تک اس کی ممانعت نہیں آتی تب تک وہ جائز ہے۔ شریعت میں نماز کے علاوہ اذان دینا منع نہیں ہے اس لیئے جائز ہے۔
4۔ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اذان کے کلمات کوئی شرکیہ یا غلط کلمات نہیں ہیں لہذا کسی بھی نیک عمل کو اس کے مقام سے ہٹ کر بھی سرانجام دینا اچھی نیت سے باعث ثواب ہو گا۔
5۔ اس تمام عمل کے دوران اجتماعیت،روحانیت اور للہیت میں اضافہ ہو گا لہذا یہ عمل مستحب ہو گا۔
یہ خالصتا میرا ذاتی تجزیہ ہے۔ اس سے اتفاق یا اختلاف کا آپ کو حق حاصل ہے۔ جزاک اللہ خیرا
طالب دعا
کاشف گلزار نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں