واردات 40

واردات

57 / 100

واردات
ان کا مطالبہ تھا کہ 30 لاکھ روپے کالی پہاڑی پر پہنچا دیے جائیں تو ان کو بیٹا واپس مل سکتا ہے،ورنہ اس کی لاش ہی ملے گی
محمد احمد صدیقی،کراچی
سیٹھ عرفان جلالی کپڑوں کے ایک بڑے تاجر تھے ان کے دو بیٹے تھے۔بلال اور عمار۔ان کی بیوی بہت پہلے انتقال کر چکی تھی۔ایک دن تین نقاب پوش عمار کو اغوا کرکے گاڑی میں ڈال کر ویران کوٹھی کی طرف لے گئے۔
چند منٹ بعد ہی عمار کو ایک بڑے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ سیٹھ عرفان جلالی کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی خبر ملی تو ان کے ہوش ہی اُڑ گئے۔آخر ان کے دو ہی تو بیٹے تھے۔صبح ہی اغوا کاروں نے فون کیا۔
ان کا مطالبہ تھا کہ 30 لاکھ روپے کالی پہاڑی پر پہنچا دیے جائیں تو ان کو بیٹا واپس مل سکتا ہے،ورنہ اس کی لاش ہی ملے گی۔
سیٹھ عرفان نے کچھ سوچ کر انسپکٹر فرقان مرزا سے رابطہ کیا۔کچھ ہی دیر بعد فرقان مرزا پہنچ گئے۔سیٹھ عرفان نے تمام حالات شروع سے لے کر آخر تک سنا دیے اور بتایا کہ وہ اپنے دوست اطہر سے ملنے گیا تھا۔

اطہر کا پتا معلوم کرکے انسپکٹر فرقان ٹیم ساتھ لے کر اطہر کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

اُدھر اغوا کار اپنے باس کو رپورٹ دے رہے تھے کہ جب وہ اپنے دوست کے گھر سے باہر نکل کر جیسے ہی وہ ٹیکسی کی طرف بڑھا،ہم نے اس پر قابو پا لیا۔ٹیکسی والے کو بھی بے ہوش کر دیا۔
”ارے یہ کیا غضب کر دیا؟“باس چلایا۔
ٹیکسی والا ہوش میں آکر تمہارا حلیہ پولیس کو بتا دے گا۔
اب دوڑو اور ٹیکسی والے کو ختم کر دو۔وہ تینوں فوراً ہی باہر نکل گئے۔
انسپکٹر کو اطہر کا گھر تلاش کرنے میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔اسے دوست کے اغوا کے بارے میں بتایا گیا تو اطہر نے کہا کہ عمار اس کے پاس آیا تھا۔اطہر کے گھر سے وہ باہر نکلتے تو دو سپاہی دوڑتے ہوئے آئے:”سر!یہاں قریب ہی ایک ٹیکسی میں کوئی آدمی بے ہوش پڑا ہوا ہے، آپ چل کر دیکھ لیں۔

وہ ٹیکسی تک آئے تو دیکھا کہ وہاں ایک آدمی بے ہوش پڑا تھا۔انسپکٹر نے اسے ہوش میں لانے کی تدابیر شروع کر دی چند منٹ بعد ہی وہ ہوش میں آگیا۔معلومات حاصل کرنے پر نقاب پوشوں کا حلیہ پتا چل گیا۔وہ ٹیکسی ڈرائیور کو اپنی حفاظت میں لے کر تھانے آگئے۔
تھانے میں سب مجرموں کی تصویریں اسے دکھائیں تو اس میں سے ایک کو اس نے پہچان لیا اس طرح مجرموں کے نام بھی پتا چل گئے۔
تمام کے تمام سزا یافتہ تھے۔سب انسپکٹر نے کہا آج کل ان کا ٹھکانا شہر کے جنوب کی طرف ہے۔ادھر ایک پتلی سی سڑک ہے آگے کالی پہاڑی ہے،جس کے قریب ایک کھنڈر نما مکان ہے۔
انسپکٹر فرقان اپنی ٹیم کے ساتھ اس پرانی کوٹھی تک پہنچ گئے اور مجرموں کو گرفتار کرکے تہ خانے سے عمار کو بھی برآمد کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں