نیپال میں ہندو مسلم دوستی 16

نیپال میں ہندو مسلم دوستی: ’یہاں بی جے پی جیسی پارٹی نہیں ہے اسی لیے نیپال مذہب کی بنیاد پر نفرت سے آزاد ہے‘

61 / 100

نیپال میں ہندو مسلم دوستی: ’یہاں بی جے پی جیسی پارٹی نہیں ہے اسی لیے نیپال مذہب کی بنیاد پر نفرت سے آزاد ہے‘
دسمبر 1992 کو جب انڈیا میں بابری مسجد کا انہدام ہوا تو موہنا انصاری پانچویں کلاس میں زیر تعلیم تھیں۔

موہنا کا تعلق نیپال کے ضلع بانکے کے علاقے نیپال گنج سے ہے۔

موہنا یاد کرتی ہیں کہ اس دن وہ پورے خاندان کے ساتھ شادی میں شریک ہونے کی غرض سے انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے شہر نانپارہ گئی تھیں۔ ’اسی روز اُتر پردیش میں جہاں ہم تھے وہاں ہنگامہ برپا ہوا تھا۔‘

موہنا کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کے پولیس سے اچھے تعلقات تھے۔ میرے والد اور نیپال گنج کے پولیس افسر کے مابین دوستی تھی۔ ان کے ذریعے میرے والد نے یو پی پولیس سے رابطہ کیا اور ہمیں نانپارہ سے نکالا۔‘

’میرے بچپن کی یہ یاد میرے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوتی۔ اس کے بعد علاقے میں ہونے والے فسادات سے نیپال کے مسلمان متاثر ہوئے۔ خاص طور پر وہ مسلمان جو یو پی اور بہار سے ملحقہ نیپال کے سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں۔‘

موہنا کا کہنا ہے ’جب بھی انڈیا میں کوئی دہشت گرد حملہ ہوا، اس نے قدرتی طور پر ہماری زندگیوں کو بھی متاثر کیا۔ لوگ چیزوں کو عجیب انداز میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ (ہم پر) شک کرنے لگتے ہیں۔‘

گذشتہ سال جب کووڈ 19 کی وبا انڈیا میں پھیلی تو تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں پر انگلی اٹھائی گئی۔ موہنا انصاری بھی اس کی گرفت میں آئیں۔

موہنا کا کہنا ہے کہ ’میں مارچ میں اپنے رشتہ دار کی شادی کے لیے اترپردیش میں کانپور گئی۔ اتفاقاً انڈیا میں اسی دوران تبلیغی جماعت کا پروگرام ہوا تھا۔ میرے اہل خانہ نے آج تک کسی ایسے مذہبی پروگرام میں حصہ نہیں لیا ہے۔‘
’شادی سے واپسی کے دوران انڈیا میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ میرے پاس ٹریول پرمٹ تھا۔ اپنی کار بھی تھی۔ میں اس وقت نیپال میں انسانی حقوق کے لیے متحرک بھی رہی۔ شاید اسی لیے یو پی پولیس نے مجھے نیپال جانے دیا۔‘

موہنا کے مطابق ’میں نیپال گنج سے کھٹمنڈو آئی۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر لکھنا شروع کر دیا کہ میں جماعت اسلامی کے اجتماع میں شامل ہونے انڈیا گئی تھی۔

’جب میں آفس پہنچی تو لوگوں نے پوچھا کہ ’میڈم آپ جماعت میں گئی تھیں؟‘ اور ’پی سی آر ٹیسٹ کے بغیر کیوں واپس آئی ہیں؟‘ مجھے اس دوران کافی مشکل سے لوگوں کو سمجھانا پڑا۔‘
24 اکتوبر کی صبح نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے سندرا نامی علاقے میں کچھ لوگوں نے ایک مسجد کی دیوار گرا دی۔ اس مسجد کی آراضی کی ملکیت پر تنازع تھا۔

لوگوں نے یہ اقدام کسی بھی فوجداری مقدمے کی طرح سمجھا۔ پولیس کو شکایت کی گئی اور مسجد توڑنے والے کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت نے ایک بار پھر مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔ یہ معاملہ کسی بھی طرح ہندو بمقابلہ مسلمان کا نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے ایسا کرنے کے لیے ہوا دی۔ یہاں تک کہ جب اس مسجد کی دیوار کو منہدم کیا گیا تب بھی وہاں کوئی اجتماعی ہجوم نہیں تھا۔

اس علاقے کے مسلمان اور ہندو دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ اس زمین کی ملکیت پر تنازع موجود ہے لیکن یہ گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلمانوں کے پاس ہے۔ یہاں مسلمان گوشت بیچتے تھے اور بعد میں جب لوگوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو ایک مسجد بنائی گئی۔

سنہ 2018 کے دوران نیپال میں مسلمانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کے پی شرما اولی کی حکومت نے مسلم کمیشن تشکیل دیا۔ شمیم میاں انصاری اس کمیشن کے پہلے چیئرمین بنے۔ انصاری کہتے ہیں کہ یہ ’ہندو بمقابلہ مسلم‘ معاملہ نہیں تھا۔

انصاری کے مطابق ’زمین کو لے کر جھگڑا ہوا تھا اور یہاں مسجد ہونے کے باوجود مذہب کا زاویہ نہیں آیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کی اور اب ایک نئی مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔

’نیپال میں مسلمانوں کے خلاف ایسا کوئی تعصب نہیں ہے۔ کھٹمنڈو میں دو لاکھ سے زیادہ مسلمان کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں لیکن اس فارم میں کبھی بھی کسی امتیازی سلوک کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔‘

محمد ایوب نیپال کے علاقے ترائی میں لمبینی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلی کی جنوبی ایشین یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا۔ سنہ 2013 میں دلی چھوڑنے کے بعد سے وہ کھٹمنڈو میں محقق کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

ایوب نیپالی زبان نہیں جانتے۔ وہ ہندی، اردو اور اودھی میں بولتے ہیں۔ ایوب کہتے ہیں کہ اودھی زبان لمبینی میں بولی جاتی ہے۔

ایوب کہتے ہیں کہ ’کھٹمنڈو میں مسلمانوں سے زیادہ مدھیسی آبادی ہے۔ انھیں زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ جب آپ کھٹمنڈو میں پہاڑی مکان مالک کا گھر کرایے پر لینے جاتے ہیں تو انھیں چہرہ دیکھ سمجھ آ جائے گی کہ آپ ترائی سے ہیں یعنی مدھیسی ہیں۔‘

’اگر آپ نیپالی نہیں بولتے ہیں تو انھیں شبہ ہو گا کہ آپ یو پی اور بہار سے ہیں۔ پہلا امتیاز یہاں سے شروع ہو گا۔ اس کے بعد وہ نام پوچھیں گے۔ نام سے انھیں پتا چل جائے گا کہ آپ مسلمان ہیں۔ تب ہی تفریق کی ایک اور قسم شروع ہو گی۔‘
محمد ایوب کہتے ہیں کہ نیپال میں کوئی فرقہ ورانہ جماعت موجود نہیں ہے ورنہ مسجد کی دیوار گرانے کا معاملہ بڑا ہو سکتا تھا۔

ایوب کا کہنا ہے کہ نیپال کی انتخابی سیاست میں مذہبی پولرائزیشن کی کوئی برائی نہیں ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ’مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔‘

’اگر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے تو مدھیسی میں بھی ہندو ہیں۔ کمل تھاپا کی جماعت مطالبہ کر رہی ہے کہ نیپال کو ہندو قوم بنایا جائے لیکن انھوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ ترائی کے مسلمان بھی اپنی پارٹی میں ہندو قوم بننے کے مطالبے میں شامل دکھائی دیتے ہیں۔

نیپال کمیونسٹ پارٹی کے رہنما رام چندر جھا کا کہنا ہے کہ نیپال کی سیاست میں انڈیا کی طرح مذہب کی بنیاد پر تقسیم پیدا کی جاتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں انتخابات جیتنے کے لیے تفریق کی سیاست کی جاتی ہے۔ نیپال ابھی بچا ہوا ہے۔ نیپال میں امتیازی سلوک کا معاملہ اب ’ترائی بمقابلہ پہاڑ‘ ہے۔ چنانچہ مسلم بمقابلہ ہندو جیسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ یہاں بی جے پی جیسی پارٹی نہیں ہے لہذا نیپال مذہب کی بنیاد پر نفرت سے آزاد ہے۔‘

رام چندر جھا کا کہنا ہے کہ ہندی ذرائع ابلاغ نیپال میں ایسی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا اثر کچھ حلقوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیپال کی سیاست کو اس معاملے میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ’انڈیا میں مودی حکومت کے آنے کے بعد نیپال میں بھی مذہبی جارحیت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

محمد ایوب کہتے ہیں کہ سنہ 2014 میں نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد انڈیا کے مسلمانوں پر اس کا اثر پڑا ہے، اس کی جھلکیاں نیپال کے مسلمانوں پر بھی آ چکی ہیں۔

ایوب کہتے ہیں کہ ’2014 کے بعد انڈین میڈیا بھی بدل گیا۔ یہاں کے لوگ ہندی نیوز چینلز بھی دیکھتے ہیں۔ ہندی نیوز چینلز میں مسلمانوں کو کیسا دکھایا جاتا ہے، اس سے نیپال کے معاشرے پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ جعلی خبروں کا پھیلاؤ سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔‘

ایوب نے ایک مثال دی کہ ’پاکستان میں ایک مندر کو منہدم کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کا اثر لمبینی میں بھی پڑا۔ میں نے لمبینی کے لوگوں کو گفتگو میں یہ کہتے سُنا کہ ’نیپال میں اس سے بھی زیادہ مسلمان ہیں، ہمارے مندر بھی پاکستان کی طرح تباہ ہو جائیں گے۔‘

اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایک خدشہ ہے کہ نیپال میں اقتدار کے لیے مذہب کا استعمال کیا گیا تھا لہذا نیپال کے مسلمانوں کی حالت بھی انڈیا جیسی ہو سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انڈیا کے مقابلے میں نیپال کا معاشرہ اب بھی بہت روادار ہے۔‘

دنیش پنت اتراکھنڈ سے متصل نیپال کے ضلع کنچن پور کے رہائشی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال دلی میں جنوبی ایشیا یونیورسٹی سے ماسٹرز مکمل کیا۔

دنیش یاد کرتے ہیں کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کے دوران انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہیلتھ ورکرز کے لیے بالکونی سے پلیٹ بجانے اور چراغ جلانے کی اپیل کی تھی۔ تب ان کے علاقے کے لوگوں نے بھی ایسا کیا تھا۔ دنیش کا کہنا ہے کہ لوگوں نے برتن بجائے اور چراغ بھی جلائے۔
دنیش کہتے ہیں ’انڈیا میں وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے عسکریت پسند ہندوؤں کا ایک گروہ متحرک ہوا اور اس کا براہ راست اثر مسلمانوں پر پڑا۔ یہاں ایک رپورٹ بھی نشر کی گئی جس میں مسلمانوں پر کورونا انفیکشن پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔‘

’انڈیا کا میڈیا یہ کر رہا تھا اور اس کا براہ راست اثر یہاں بھی پڑا ہے۔۔۔ انڈیا ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس کی جمہوریت اور سیکولرازم نیپال میں بادشاہت کے خلاف تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر انڈیا میں جمہوریت اور سیکولرازم کو کمزور کر دیا گیا تو اس سے نیپال کو متاثر کر سکتا ہے۔

دنیش کا کہنا ہے کہ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں گائے کی ذبح کرنے پر پابندی کا براہ راست اثر نیپال پر پڑا ہے۔

پنت کہتے ہیں کہ لوگ یہاں گائیں بوڑھی ہونے کے بعد بیچ دیا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ فروخت کرنے سے قاصر ہیں اور مسلمان بھی گائے کا گوشت کھانے سے گھبراتے ہیں۔ پنت کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں بلکہ یہاں ہندو بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔

دنیش پنت کہتے ہیں ’نیپال میں مسلمان انڈیا کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ لہذا یہاں مسلمان کچھ بھی کہنے یا کرنے سے پہلے اکثریت کی آبادی سے تصدیق حاصل کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے نیپال کے مسلمانوں نے ’ہندو قوم کے خاتمے کا جشن‘ نہیں منایا۔ وہ ہندو قوم کی تشکیل کا مطالبہ نہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘

کھٹمنڈو سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی سکالر قاضی مفتی ابوبکر صدیقی قاسمی کا کہنا ہے کہ نیپال میں مسلمان کم ہیں لیکن وہ بہت آرام سے رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’نیپال کے ہندو بہت اچھے ہیں۔ ہم میں مذہب کے بارے میں کوئی تنازع نہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم انڈیا کے مسلمانوں سے زیادہ سکون میں ہیں۔‘

اس سب کے باوجود، ماضی میں نیپال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فسادات ہو چکے ہیں۔ لیکن زیادہ تر کا تعلق انڈیا کے واقعات سے ہے۔ ڈیوڈ سیڈن نے اپنی کتاب ’دی نیشنل مسلم کمیونٹی آف نیپال‘ میں لکھا ہے کہ جب بھی انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فسادات کی صورتحال پیش آتی ہے اس کا اثر نیپال میں بھی دیکھا جاتا ہے۔

ڈیوڈ سیڈن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’1994 اور 1995 کے دوران نیپال کے ضلع بانکے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فسادات ہوئے۔ اس کی وجہ اترپردیش میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد تناؤ ہے۔ نیپال گنج میں مسلم عبادت گاہ کی جگہ ہندو مندر بنانے کے لیے تین دن سے ہنگامے ہوئے۔ لیکن یہ عبادت گاہ مقامی سطح پر برقرار رہی۔ تیرہ خطے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تناؤ 1990 کی دہائی میں سب سے زیادہ تھا۔ بابری مسجد کے انہدام کی وجہ سے انڈیا کی سرحدوں پر کافی تناؤ تھا۔‘

انڈیا اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے دوران بھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ سنہ 1997 میں شیو سینا نے نیپال گنج میں ایک دفتر کھولا تھا۔ شیوسینا نے میونسپل انتخابات میں نیپال گنج میں میئر اور دیگر امیدواروں کو اپنی حمایت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں