Nawaz Sharif 17

’نواز شریف کی واپسی، لندن سے مثبت اشارے‘: فیصل واوڈا

43 / 100

پاکستان میں مختلف مقدمات میں مطلوب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو برطانیہ سے تحویل میں لینے کے لیے حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور تین خطوں کے علاوہ سفارتی سطح پر بات چیت اور متعدد ٹیلی فون کالز بھی ہو چکی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے رکن وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے بی بی سی اردو سروس سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سزا یافتہ اور متعدد مقدمات میں مطلوب سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تحویل حاصل کرنے کے لیے برطانوی حکومت سے بات چیت کے لیے وفاقی وزراء پر مشتمل ایک وفد بھی جلد لندن بھیجا جا سکتا ہے۔
برطانوی حکومت سے اب تک ہونے والے رابطوں کے بارے میں فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ برطانوی حکام کا رد عمل اس بارے میں کافی حوصلہ افزا ہے اور حکومت پاکستان کو لندن سے مثبت اشارے موصول ہو رہے ہیں۔
فیصل واوڈا جو ماضی میں بھی نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی جائیدادوں کی تحقیقات ذاتی سطح پر کرتے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت سے مثبت اشارے ملنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اور وہ علاج کا بہانہ بنا کر لندن آئے تھے۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی گیارہ جماعتی اتحاد کے پاکستان کی گیریزن سٹی گوجرانوالہ میں پہلے جلسے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کے سربراہ اور ملک کے خفیہ ادارے آئی آئی ایس کے سربراہ کے نام لے کر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
نواز شریف کی اس تقریر کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑے غصے میں یہ کہا تھا کہ وہ اب ہر قمیت پر نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی کوشش کریں گے اور انھیں ہر قیمت پر واپس لایا جائے گا۔
فیصل واوڈا نے برطانوی حکومت سے ہونے والے رابطوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف اس یقین دہانی پر لندن آئے تھے کہ وہ علاج کے بعد واپس پاکستان لوٹ آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کے سامنے نواز شریف کی تقاریر کا متن بھی رکھا گیا اور انڈیا کی طرف سے پاکستان اور خاص طور پر پاکستان کی فوج کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈہ کے ثبوت بھی پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ بات اجاگر کی جا سکے کے دونوں کے بیانیے میں کس قدر مماثلت اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔
فصل واوڈا نے کہا کہ برطانوی حکومت کے سامنے نواز شریف کی نااہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھی رکھی گئی ہے جس کے تحت نواز شریف تاحیات نہ تو کسی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی سربراہی کر سکتے اور عملی سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو بھی پاکستان سے نکلنے کی اجازت دینے کے لیے حکومت پاکستان پر زور ڈال رہے تھے جس پر انکار کے بعد انہوں نے پاکستان کے اداروں پر تنقید شروع کر دی ہے۔
یاد رہے کہ برطانوی حکومت پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی طرف سے بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں سے ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت لے کر برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے والے بدعنوان عناصر کا سدِ باب کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل نے پاکستان کی برطانیہ سے نواز شریف کی واپسی کی درخواست کے بارے میں اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک خبر ریٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بیرونی ممالک کے کرپشن کے جرائم میں سزا یافتہ سیاست دانوں کو برطانیہ میں آزادی سے رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا کہ ان کی دولت جس کی وہ کوئی وضاحت نہیں دے سکتے اس دولت سے خریدی لندن کی پر تعیش جائیدادیں قانون کے ہاتھوں سے دور نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان نااہل قرار دیے جانے والے وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں خبریں برطانوی اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں۔
لندن میں پاکستانی سفارت خانے اور پاکستانی سفیر معظم احمد خان سے بھی ذرائع ابلاغ پاکستان کے اس انتہائی حساس اور اہم سیاسی معاملے پر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مسلسل رابطے کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں