495

نفرتوں کے سوداگر:نیوزی لینڈ کے شہید مسلمانوں کا خون رنگ لائے گا

نفرتوں کے سوداگر
از قلم: مفتی گلزار احمد نعیمی
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دومساجد النور اور لن ووڈن پر دہشتگردانہ حملے دل سے محو نہیں ہورہے ان حملوں میں 9 پاکستانیوں کی شھادت اہل پاکستان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے.تمام شھداء کے اللہ درجات بلند فرمائے.سلام عقیدت ہے پاکستان کے سپوت نعیم راشد کو جس نے پیٹھ پر نہیں سینے پر گولیاں کھائیں اور دہشتگرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو سینے سے لگایا.ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں نعیم رشید کی بہادر بیوی کو جس نے اپنے شوہر اور بچے کی میتیں اٹھا کر بھی بہت ہی اعلی بیان دیا کہ “دہشتگردوں کا دل نفرتوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ ہمارا دل محبتوں سے لبریز ہے”.ہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کو بھی اعلی روایات قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نےبہت خوبصورت بات کہی.نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد کا نام مٹ جائے گا جبکہ شھیدوں کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا.
یہ بات بہت قابل افسوس ہے کہ ترقی یافتہ دنیا محبتوں کے پھول اگانے کی بجائے نفرتوں کے بیج بو کر عداوتوں کے کانٹے اگا رہی ہے.آج ترقی یافتہ دنیا کا سب سے بڑا ہدف مسلمان ہے.9/11 کے بعدایک دفعہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشتگرد اور انتہا پسند بنا کر مارا گیا اب دوسری دفعہ وائٹ سپرمیسی کے تصور کو لیکر یہ ترقی یافتہ دنیا اسلام اور مسلمانوں پر حملہ آور ہے.نیوزی لینڈ میں جس آسٹریلوی بدبخت نے مساجد پر حملہ کر کے 50 مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا اس سے جب پوچھا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے مسکراتے ہوئے ok کہا اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے ایک خاص قسم کا نشان بنایا جسکا مطلب یہ تھا کہ میں نے سفید فام بالادستی کے لیے ایسا کیا ہے.اس واقع کے بعد ایک آسٹریلین سینٹر نے جس قابل نفرت انداز میں مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ بھی بہت قابل افسوس ہے.آسٹریلین سینٹر نے میرے نقطہ نظر کو تقویت دی کہ یہ لوگ اپنے ملکوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خائف ہیں اس لیے مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں مسلمان بہت پر امن اور سکون سے رہ رہے ہیں کوئی دہشتگردی یا انتہاء پسندی کا واقعہ ابھی تک ان کے ساتھ منسوب نہیں ہوا.اس کے باوجود ان پر دہشتگردانہ حملے کو میں مسلمانوں کے خلاف نفرت یاسفید فام بالادستی کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا.مغرب میں امریکہ انگلینڈ ,جرمنی اور فرانس مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں.یہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو مسلمانوں کے خلاف استعمال  کررہے ہیں اور جنوبی ایشاء میں بھارت کو اپنا بغل بچہ بنا کر نہتے کشمیریوں کے ساتھ ہر قسم کے ظلم وستم کو روا رکھے ہوئے ہیں.

تمام اہل اسلام اور تمام مکاتب فکر کے خواتین و حضرات سے مودبانہ التماس ہے کہ خاتون جنت کانفرنس جو کہ 31 مارچ کو جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے بھر پور شرکت فر مائیں، خواتین کے لیےبھی پردے کا بہترین اہتمام کیا گیا ہے۔ #khatoonejanat_Conference

Posted by Mufti Gulzar Ahmed Naeemi on Wednesday, March 20, 2019

.
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جہاں گئے انہوں نے نفرتوں کے خاتمے کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ وہ عظیم حسن سلوک کیا کہ تاریخ میں ڈھونڈے سے بھی ایسی مثالیں نہیں ملتیں.مسلمانوں نے سسلی پر264 سال تک حکومت کی.ان اڑھائی صدیوں میں جو سلوک انہوں عیسائیوں کے ساتھ کیا میری نہیں انگریز مورخ ایس پی کاٹ کی زبان سے سنیئے.وہ لکھتا ہے”سسلی کے عیسائی مذہبی وقومی تعصب کے باوجودمسلمانوں کی عادلانہ حکومت کو اچھی نظر سے دیکھتے تھے,جب یہی عیسائی رعایا بازنطینی حکومت کے نیچے آئے تو یہ مسلم حکومت پر رشک کیا کرتے تھے.”(ہسٹری آف دی مورش ایمپائر)
لیکن جب.اسی سسلی میں عیسائی حکمران راجر اول کی حکومت آئی تو اس نے مسلمانوں کو ملازمتوں سے نکال دیا, ان سے زمینیں اور دکانیں بھی چھین لیں.عیسائی بدمعاشوں کے ذریعے مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا کرجلایاڈالا.اذان پر پابندی لگا دی اورجمعہ پربھی پابندی لگا دی.فریڈرک دوئم نے اسی ہزار(80) مسلمانوں کو سسلی سے نکال دیا.وہ مسلمان جنہوں نے یورپ کو ایک تابناک مستقبل دیا ,بداخلاقی کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر اعلی اخلاق کی بابرکت منازل پر براجمان کیا,بے مثال تعلیمی ادارے اور شاندار تہذیب عطا کی, انہیں کپڑے پہننااورنہانا سکھایا ,ان جانوروں کو انسانوں کی طرح رہنا سکھایا.مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک انہیں اپنی حکومتوں میں اعلی مناسب پر فائز رکھا لیکن جونہی مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو انہوں نے مسلمانوں پر جبرواستبداد کے وہ پہاڑ ڈھائے کہ قلم لکھتے ہوئے کانپ اٹھتا ہے.اس وقت سے یہ لوگ نفرتیں پھیلا رہے ہیں اور ابھی تک پھیلاتے جارہے ہیں.
آج آپ مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر انہیں قابل نفرت قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں ,تمہیں شرم آنی چاہیے.تم نے دنیا کے ہر خطے میں نفرتوں کے بیج بوئے.مجھے بتاو کہ پہلی جنگ عظیم شروع کر کے انسانوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کس نے کھڑی کیں?.ہم نے یاتم نے?.6 ملین یہودیوں کو قتل کرنے والا ہٹلر ہمارا نہیں تمہارا ہی تھا.20 ملین abrorigines کو آسٹریلیا میں کس نے قتل کیا تھا.? جاپان کے شھروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کی صورت میں آگ تم ہی نے برسائی تھی.شمالی امریکہ میں سو ملین اور جنوبی امریکہ میں پچاس ملین ریڈانڈینز(Red Idians) کو قتل کرنے والے امریکی تھے مسلمان نہیں تھے.وہ تمہارے ہی تھے جنہوں نے 180 ملین افریقیوں کو پکڑ کر غلام بنایا اور پھر انہیں جہاز پر بٹھا کراٹلانٹک اوشین میں پھینک دیا.یہ سب کچھ کرنے والے تم تھے مسلمان نہیں تھے.مسلمان توجہاں گئے انہوں نے اعلی اخلاقی روایات کو پروان چڑھایا.اعلی اخلاقیات کے نمونے دنیا کے سامنے پیش کیے اور اعلی انسانی روایات کی حفاظت کی.آج کا امریکہ ہو یا کل کا یہ جہاں گیا اس نے انسانیت پر ظلم کیا,اخلاق باختہ روایات کو پروان چڑھایا.جس ملک میں گیا وہا زنا خانے,شراب خانے اور جوئے کے اڈےکھولے.اگر یقین نہ آئے تو تھائی لینڈ ,فلپائن ,ویت نام اور کمبوڈیا جیسے ممالک کو وزٹ کر لیں.آج دنیا میں نفرتوں کے پھیلنے کی ایک اور وجہ امریکہ کی فارن پالیسی کا دوہرا معیار ہے.یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ دہشگردی کے خلاف فرنٹ لائین میں کھڑے ہونے والے پاکستان کو دنیا کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے.جب فاکس نیوز کے ایک صحافی نے امریکی وزیرخارجہ مارک پومپیو سےکلامیٹ چینج کو بڑے خطرات میں شمار کرنے کے حوالے سے سوال کیاتو پومپیو نے کہا کہ ٹاپ فایئو کی میری لسٹ میں کوئی تبدیل نہیں ائی.چائینا شمالی کوریا اور پاکستان دنیاکے لیے خطرہ ہیں.پاکستان دنیا کے لیے نہیں بلکہ امریکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے.
تم نے دنیا کے ہر کونے میں نفرتوں کو پروان چڑھایا.مسلم معاشروں میں فرقہ بندی کی نفرتوں کو تم نے اربوں ڈالر خرچ کر کے پروان چڑھانے کی کوشش کی. 80 کی دہائی سے پہلے یہاں کوئی نفرتیں نہیں تھیں.جب سے تمہاری مداخلت ہوئی ہے ہمارا جینا مشکل ہوگیا ہے.
ہم مسلمان ہیں, ہمارے نبی نے تو ہمیں نفرتیں مٹانے اور محبتیں بڑھانے کی ھدایت کی ہے.ہم تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر گامزن ہیں اور رہیں گے.ہم کسی عربی کی عجمی پر ,کالے کی گورے پر اور گورے کی کالے پر فضیلت کے قائل نہیں ہیں.ہم سب کو انسان سمجھتے ہیں اور سب کی بحیثیت انسان عزت و تکریم کےقائل ہیں.
مجھے یقین ہے نیوزی لینڈ کے شھید مسلمانوں کا خون رنگ لائے گا اور اللہ ان علاقوں میں ان شھیدوں کے خون کے صدقے اسلام کو غالب فرمائےگا.مسجدیں ویسے خون آلود نہیں ہوتیں,انکا خون آلود ہونا ایک انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں