جماعت اہل حرم پاکستان 27

نسخ فی القرآن

51 / 100

نسخ فی القرآن
از :مفتی گلزار احمد نعیمی
جب ہم نسخ فی القرآن کی بحث کرتے ہیںتو سب سے پہلے ہمیں نسخ کے معانی پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نسخ کیا ہے ۔ تا کہ ہم پھر احکام میں نسخ کی صحیح تفہیم تک پہنچ سکیں ۔ علمائے لغت نے عمومی طور پر نسخ کا لغوی معنی بدل دینا،زائل کر دینا ،ازالہ و رفع اور نقل و تحویل بیان کیا ہے۔ علامہ مجد الدین فیروزآبادی نے کہا ہے کہ نسخ کسی چیز کو زائل اور متغیر کرنا ، کسی چیز کو باطل کر کے دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کرنا ہے، علامہ زبیدی نے کہا :عرب کہتے ہیں نسخت الشمس الظل یعنی سورج نے سائے کو زائل کر دیا ہے ۔
مشہور مفسر علامہ سید محمود آلوسی نے کہا: النسخ فی اللغۃ ازالۃ الصورۃ أو مافی حکمھا عن الشیی واثبات مثل ذلک فی غیرہ ۔یعنی لغت میں نسخ سے مراد کسی صورت یا جو حکم صورت میں ہو، شئی سے زائل کر کے اس کی مثل کو ثابت کرنا ۔
نسخ کا اصطلاحی معنی بیا ن کرتے ہوئے علامہ محمد بن عبد العظیم الزرقانی نے کہا : رفع الحکم الشرعی بدلیل الشرعی ۔یعنی کسی حکم شرعی کو دلیل شرعی کے ساتھ اٹھا لینا
میر سید شریف جرجانی نے کہا : نسخ لغت میں تبدیل ، رفع اور ازالہ سے عبارت ہے۔ اور شریعت میں کسی حکم شرعی کی صاحب شرع کے حق میں انتہا ء کو بیان کرنا نسخ کہلاتا ہے ۔
امام سیوطی نے کہا : انما النسخ ازالۃ الحکم حتی لا یجوز امتثالہ یعنی نسخ سے مراد حکم کو زائل کر دینا حتی کہ اسکا بجا لانا جائز نہ رہے ۔
علامہ آلوسی نے نسخ کی لغوی اور شرعی تعریف ذکر کرنے کے بعد نسخ کا مفہوم بھی نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ بعض اصولین نے نسخ شرعی کا یوں مفہوم بیان کیا ہے کہ نسخ آیت سے مراد اسکو بطور عبادت تلاوت کرنے سے روکنا ہے۔ جیسے الشیخ والشیخۃ اذازینا فارحجوھما ۔ یا پھر نسخ سے مراد آیت سے ثابت ہونے والے حکم پر عمل کرنے سے روکنا ہے۔ جیسے والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً وصیۃ لأ زواجھم متاعاً الی الحول غیر اخراج ۔( البقرہ) یا نسخ سے مراد آیت کی تلاوت بطور عبادت یا ثابت شدہ حکم دونوں سے روکنا ہے۔ جیسے عشر رضعات معلومات یحر من ( یعنی دس دفعہ دودھ پلانا)
علامہ آلوسی نے کہا کہ جب ناسخ کسی حکم کو منسوخ کر رہا ہو تو اسکا ایسی مصلحت پر مشتمل ہونا ضروری ہے جو منسوخ حکم میں نہ پائی جائے کیونکہ مصالح کے وجو د سے احکام متنوع ہو جاتے ہیں ۔ ان احکام میں تبدیلی اوقات میں تبدیلی سے جڑی ہو تی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ناسخ منسوخ سے بہتر ہو ۔ ثواب کے لحاظ سے بہتر ہو یا کسی اورحجت کے لحاظ سے ۔ علامہ آلوسی کا خیال ہے کہ ناسخ کے لیے زیادہ منفعت بخش ہونا ضروری ہے۔
بعض علماء نے نسخ کو حکم شرعی کی انتہاء( اختتام ) کہا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے جو حکم ارشاد فرمایا ہے وہ اسکی مدت تنفیذ سے بخوبی آگاہ ہے لیکن محکوم علیہ اس سے نا واقف ہیںاس لیے وہ اسکو حکم دائمی سمجھ کر عمل پیر ا ہوتے ہیں ۔ جب اسکا متبادل حکم آتا ہے تو وہ پہلے حکم کو ختم کر دیتا ہے ۔ اب یہ شارع کے نزدیک منتہی للحکم الاول ہوتاہے جبکہ مکلف اس حکم کو اٹھانا یا زائل کرنا تصور کرتاہے۔ شارع کو حکم اول کی مدت نفاذ کا علم ہو تا ہے اس لیے شارع کے نزدیک یہ ازالہ یا رفع نہیں ہے ۔نسخ کے اس مفہوم کے پہلے تخلیق کا ر اہلسنت کے عظیم امام حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ ہیں۔ آپ ہی نے پہلی دفعہ مجمل ،تخصیص، تقیید اور استسنا ء وغیرہ پر کلام کیا ہے۔
نسخ کی اہمیت 
جب ہم ابتدائے اسلام کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ اسلام ایسے وقت اور ایسی جگہ پر ظاہر ہو ا جہاں قانون ، شریعت، اخلاق اور تہذیب و تمدن بالکل بے نشان تھے۔ایسے حالات جہاں صرف طاقت ہی قانون اورشریعت ہو وہاں دفعتاًایک بہت ہی مہذب اور منظم آئین و قانون کا نفا ذ بغاوت او رسرکشی کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے تدریجی رویہ کو متعارف کرایا اور شریعت مطاہر ہ کے قوانین کو تدریجاًنازل فرمایا۔ جیسے حرمت شراب ہے ۔ حرمت قمار ہے۔ خود رسالت مآب ﷺ کے رویہ کو بھی بہت نرم کردیا تاکہ نفاذ قانون کے تدریجی مرحلہ میں تحمل و تدبر کا رویہ اپنانے میں آپکو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اس حکم منسوخ کی قباحتوں سے پہلے مطلع نہیں تھا۔ ( معاذاللہ) اور اب مطلع ہوا ہے اور اس نے اس حکم کی جگہ ایک نیا حکم نافذ فرما دیا ہے۔ منکرین نسخ نے یہاں بہت بڑی خطا کھائی ہے۔وہ کہتے ہیں نسخ سے علام الغیوب کی شان’’بداء‘‘لازم آتی ہے اس لیے نسخ کا نظریہ درست نہیں ہے۔ ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ شئے کی تخلیق کرنے والا خالق اس کے نفع ونقصان سے واقف نہیں تھا۔ جب وہ خود کہ رہا ہے کہ ان دو چیزوں میں بڑے نقصانا ت ہیں اور منافع بھی ہیں تو یہ کیسے سوچا جا سکتاہے وہ ان کے نفع و نقصان اور معروضی حالات سے ناواقف ہو ۔ شارع کی ہر چیز پر نظر ہوتی ہے۔ اس لیے نسخ سے بداء بالکل لازم نہیں آتا ،یہ بالکل غلط مفروضہ ہے اس کی بنیاد پر نسخ کا انکار قرین عقل نہیںہے۔وہ ازل سے علیم و خبیر ہے اورابد تک رہے گا ۔
بعض علماء نے نسخ کو تخصیص قرار دیا ہے اور وہ بھی نسخ کا انکار کرنے لگے او ر بعض نے تخصیص کی کچھ صورتوں کو نسخ میں شامل کر دیا وہ بھی دھوکا کھا گئے۔نسخ اور تخصیص دو الگ الگ اصطلاحات ہیں ۔زرقانی نے اپنی کتاب منا ہل العرفان میں نسخ اور تخصیص کے درمیان سا ت جہتوںسے فرق بیان کیا ہے۔
شرائط نسخ
۔1۔ منسوخ پہلے ہواورناسخ بعد میں۔
۔2۔ نسخ خطاب کے ساتھ ہو۔
۔3۔  نسخ سرکار ؐ کے زمانے میں اور آپکی ہدایت کے مطابق ہو۔
۔4۔ منسوخ حکم شرعی ہو ، کوئی قصہ یا پیش انگوئی نہ ہو ۔
۔5منسوخ حکم کو اٹھا نے والی دلیل بھی شرعی ہو۔
۔ 6۔ حکم شرعی اور دلیل شرعی کے درمیان تعارض ہو ۔
۔ 7۔ دلیل شرعی حکم شرعی کے بعد ہو ۔
حکمتیں 
۔1۔ پہلے حکم شرعی کو منسوخ کرکے اس سے بہتر اور نسبتاً زیادہ مئوثر اور مفید حکم لانا مقصود ہوتا ہے اس وجہ سے پہلے حکم کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
۔2۔ بعض اوقات ایک حکم نسبتاًزیادہ سخت ہوتاہے اور اسکی بجا آوری مشکل ہوتی ہے اس لئے اسکو منسوخ کر کے نسبتاً زیادہ سھل اور قابل عمل لایا جاتاہے۔
منسوخ آیات
قرآن کی منسوخ آیات کی تعد اد میں مفسرین کرام کے درمیان اختلاف رہا ہے متقدمین علماء نے منسوخ آیات کی تعداد پانچ سو تک بیا ن کی ہے اور یہ اختلاف نسخ کی تعریف اور نسخ کی اصطلاح کے درمیان آنے والے فرق کی وجہ سے ہے متأخرین علماء میںعلامہ جلا ل الدین سیوطی نے الاتقان میں منسوخ آیا ت کی تعداد اکیس یا بائیس بیان کی ہے جلا الدین سیوطی کی گفتگو پر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے مزید بحث کی اور منسوخ آیا ت کی تعداد صرف پانچ بیان کی ،ڈاکٹر صالح صبحی نے منسوخ آیات کی تعداد دس بیان کی ہے جبکہ مفسر شھیر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ رحمۃ نے منسوخ آیا ت کی کل تعداد بارہ بیان کی ہے۔

حوالہ جات
۱۔(علامہ مجد الدین فیروزآبادی ،قاموس ،ج۱،ص۵۳۳دارالاحیاء التراث العربی بیروت ، ۱۴۱۲)
۲۔ ( علامہ زبیدی ،تاج العروس ج۲، ص۶۸۲، دارالاحیاء التراث بیروت)
۳۔(علامہ سید محمود آلوسی ،روح المعانی، ص 351،ج۱، مکتبہ امدادیہ ، ملتان)
۴۔( علامہ محمد بن عبد العظیم الزرقانی ،مناہل العرفان للزروقانی ، ما ھو النسخ ج۲،ص۱۷۶ دارالاحیاء التراث العربی ، بیروت)
۵۔( الجرجانی، السید الشریف علی بن محمد بن علی816ھ،التعریفات ص 167۔ مکتبہ حقانیہ ، ملتان)
۶۔(السیوطی ،جلا ل الدین، الاتقان فی علوم القرآن ، النوع السابع ۱/۲۱، مطبو عہ مصر )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں