Mufti Gulzar Ahmed Naeemi 32

نزول قرآن

51 / 100

نزول قرآن
مفتی گلزار احمد نعیمی
ْ قرآن مجید کے حوالے سے ہم جانتے ہیں کہ یہ کم و بیش ۲۳ سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا نجما نجمانازل ہوا۔جبکہ دیگر کتب یک بارگی کے ساتھ نازل ہوئیں ۔قرآن مجید کی بعض سورتیں اور آیات عقیدے کی درستگی کیلئے نازل ہوئیں ۔بعض اخلاق کی اصلاح کے لیے اور بعض قیامت کے وقوع اور اس دن کی جواب دہی کے حوالے سے نازل ہوئیں ۔علامہ جلال الدین سیوطی نے اس حوالے سے ایک مستقل کتاب ’’لباب النقول فی اسباب النزول ‘‘ کے نام سے لکھی ہے ۔انہوں نے اپنی معروف کتاب ’’الاتقان‘‘ میں نزول قرآن کی دو قسمیں لکھی ہیں (۱) ایک وہ آیات ہیں جو ابتداء نازل ہوئیں ان کا تعلق عموما عقیدے ،اخلاق اور قیامت سے ہے۔ (۲ )دوسری وہ آیات ہیں جو کسی واقع کے رد عمل میں یا کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئیں۔
یہ بات بڑی اہم ہے کہ کسی آیت کے سبب نزول کی معرفت اگر نہ ہوتو اس کے اصل معانی اور مفہوم تک پہنچنا بہت مشکل ہو تا ہے ۔علماء نے کہا ہے کسی بھی آیت کی تفسیر کرنا اس وقت تک بہت مشکل ہوتا ہے جب تک اس کی سببت نزول پتہ نہ ہو کیونکہ سبب کے علم کے ذریعے سے مسبب کا علم حاصل ہوتا ہے۔
بعض اوقات آیت حکم کی عمومیت پر دلالت کرتی ہے لیکن حکم میں تخصیص قائم ہوجاتی ہے اور یہ صورت صرف سبب نزول کی وجہ سے ہی ممکن ہے
اسباب نزول میں یہ بات بھی اہم ہے ۔بعض اوقات ایک آیت کا نزول خاص اسباب کے تحت ہوا۔ مگر اس آیت کے خاص اسباب سے واضح ہونے والے احکام کے علاوہ غیر اسباب کی طرف بھی ا س کا رخ موڑا جا سکتا ہے اور ایک عمومی حکم بھی اس سے نکالا جا سکتا ہے مثلالعان کی آیت ھلا بن امیہ کے بارے میں نازل ہوئی لیکن اس کے نزول کے اسباب خاص ہونے کے باوجود اس سے عمومی حکم استباط کیا گیا ۔ اسی طرح حد قذف والی آیت کا سبب نزول حضرت عائشہ ام المومنین پر تہمت لگانے والوں کے خلاف تھا لیکن اس سے حکم خاص نہیں ہو گا بلکہ عام ہو گا۔
اعلان نبوت کے بعد سرکار دو عالم ﷺ مکہ مکرمہ میں ۱۳ سال تک قیام پذیر رہے جو آیا ت اور سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں انہیں مکی سورتیں کہا جاتا ہے مکی سورت سے مراد ہم وہ سورت لیتے ہیں جو ہجرت مدینہ سے قبل نازل ہوئی اور مدنی سورت سے مراد وہ سورت ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئی وہ کسی شہر کے ساتھ خاص نہیں ہے چاہے وہ مکہ میں ہی کیوں نہ نازل ہوئی ہو اگر وہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے تو وہ مدنی سورت ہے مکہ شریف میں تقریبا ۸۶ سورتیں نازل ہوئی تھیں یہ سورتیں چھوٹی سورتیں ہیں جو اپنے مضامین کے اعتبار سے بنیادی اور اصلاحی تعلیم پر مشتمل ہیں اور عقائد کی درستگی کا مواد ان میں موجود ہے مکی سورتوں میں فصاحت و بلاغت کلام کا تسلسل ، معانی اور معارف کا ایک عظیم سمندر موجودہے۔
جب آپ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے آیات کو زبانی یاد کرانے انکو زیر تحریر لانے اور اس کا دوسروں تک ابلاغ یقینی بنایا ۔اس کے لیے سب سے بڑا مرکز مسجد نبوی میں صفہ کا مقام تھا جہاں مستقلا طلباء بیٹھے رہتے اور علم حاصل کرتے ۔قرآن سیکھتے او ر دوسروں کوسکھاتے ۔قرآن مجید کو با ضابطہ طور پر حفظ کیا جانے لگا۔
ناظرین کرام قرآن مجیدکی کوئی سورت یا آیت نازل ہوتی تو ایک بہت ہی عجیب سماں ہوتا تھا جب بھی جبرائیل امین کوئی سورت لے کر آتے تو آپ کے ساتھ کئی اور فرشتے بھی ہمراہ ہوتے ۔اس سے نزول قرآن کی عظمت واضح ہوتی ہے ۔آپ اندازہ فرمائیں کہ بعض سورتیں اتنی اہم ہوتی کہ ان کو ایک سے زائد مرتبہ نازل کیا جاتا ۔
سورہ فاتحہ ایک سے زائد مرتبہ نازل ہوئی اور جب پہلی دفعہ نازل ہوئی تو جبرائیل امین کے ساتھ اسی ہزار فرشتے تشریف لائے ۔سورہ انعام بڑی سورہ ہے جو مکمل نازل ہوئی ۔جب کوئی سورت یا آیت نازل ہوتی تو سرکار ﷺ جو اسکے مناسب جگہ بنتی وہاں رکھوادیتے ۔
جہاںتک پاروں ،رکوعات اور منزلوں کی تقسیم ہے یہ کب ہوئی ہیں اس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔بعض روایات میں ہے یہ ساتھ منزلیں اس وجہ سے بنیں کہ آپ سات دن میں قران مجید ختم فرماتے تھے ۔
اسباب نزول ،تاریخ نزول کے حوالے سے ہمیں دو بزرگوں کے اقوال ملتے ہیں ۔ایک حضرت عبد اللہ بن مسعود جو فرماتے تھے خدا کی قسم !میں جانتا ہو ں کہ قرآن کی کونسی سورۃ کہاں اور کب نازل ہوئی ۔اور کس کے بارے میں نازل ہوئی۔اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب تو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اہل کوفہ سے فرماتے مجھ سے پوچھو اس لیے کہ بہت جلد وہ وقت آجائے گاکہ پوچھنے والے ہونگے بتانے والا کوئی نہیں ہو گا آپ کو خطیب ممبر سلونی کا خطاب حاصل ہے۔
سرکا ر نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایاااور اس خطبہ کے ۸۶ دن بعد آپ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے آپ نے خطبہ میدان عرفات میں ارشاد فرمایا اس وقت آخری آیت الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔نازل ہوئی یہ آیہ آپ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کے سامنے تلاوت فرمائی ۔حضرت عبد اللہ بن عباس جو آپ کے چچا زاد بھائی تھے اور کچھ دیگر لوگ جو وہاں موجود نہیں تھے انہوں نے جو آخری آیت آپ سے سنی تھی وہ واتقو ا یوما ترجعون فیہ الی اللہ والی آیت ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید کے مفاہیم ،مطالب آیات کے شان نزول ،سبب نزول پر مطلع فرما دے اور اپنی کتاب کی تفہیم جیساکہ اس نے خود فرمایا ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر ہمارے لیے آسان فرمادے
وما علی الا البلاغ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں