ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت 10

نبی کریم ﷺ پر صلٰوۃ و سلام کی فضیلت

62 / 100

نبی کریم ﷺ پر صلٰوۃ و سلام کی فضیلت
ڈاکٹر سید اشرف الدین
جس طرح درود شریف پڑھنے کا اہل ِ ایمان کو جس اہتمام کے ساتھ حکم دیا گیا ہے اور اس کے فضائل بیان ہوئے ہیں اس طرح درود شریف نہ پڑھنے پر وعیدیں بھی سخت ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ’’ رغم انفٌ‘‘۔یعنی” ذلیل و خوارہو وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے ۔”
یہ ارشادِ مبارک اُس طویل حدیث کا حصہ ہے جس میں یہ بھی فرمایا گیاہے : ذلیل وخوا ر ہو وہ شخص جس کیلئے رمضان کا مہینہ آئے اور اس کے گزرنے سے پہلے اس کی مغفرت کا فیصلہ نہ ہو جائے اور ذلیل وخوار ہو وہ آدمی جس کے ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک اس کے سامنے بڑھاپے کو پہنچے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کا استحقاق نہ کرے ۔
حضرت کعب بن عجرہ انصاری ؓ سے دوسری حدیث میں روایت ہے، اس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بد دعا کی اور رسول اللہ نے ان کی بد دعا پر آمین کہا ۔ اس سخت ترین بد دعا میں انتہائی ناراضی اور بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ سخت ترین انتباہ ہے ۔ نیز اس سے معلوم ہوتا ہے رسول اللہ کو محبوبیت کی وجہ سے فرشتوں اور ملاء اعلیٰ میں عظمت اور محبوبیت کا وہ بلند ترین مقام حاصل ہے کہ جو شخص آپ کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کرے توسارے ملاء اعلیٰ کے امام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے دل سے سخت بد دعا نکلتی ہے اور اس پر رسول اللہ کے آمین نے اور بھی انتہائی سخت بد دعا بنا دی ۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی ہر تقصیر اور کوتاہی سے ہمیںمحفوظ رکھے اور آنحضرت کی حق شناسی اور حق کی ادائیگی کی تو فیق دے ۔ انہی احادیث کی بنا ء پر فقہاء نے یہ رائے قائم کی ہے کہ جب رسول اللہ کا ذکر آئے تو درود بھیجنا ذکر کرنے اور سننے والے پر واجب ہے (معارف الحدیث)۔
درود شریف پڑھنے کی حکمتیں :
حکمتِ اوّل :
رسول اللہ کے امت پر بے شمار احسانات ہیں کہ صرف تبلیغ مامور بہ پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ ان کی اصلاح کیلئے رات بھر کھڑے ہو کر دعائیں کیں ۔ان کے احتمال مضرت سے دلگیر ہوئے ۔ آپ محسن بھی ہیں اور واسطۂ احسان بھی ہیں۔اس حالت میں مقتضیٰ فطرت سلیمہ کا یہ ہوتا ہے کہ ایسی ذات کے واسطے دعائیں نکلتی ہیں خصوصاً جبکہ ان کے احسانات کا بدلہ نہ ہو سکے اور یہ ہمارا عاجز ہونا اس سے ظاہر ہے اور دعائے رحمت سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں اور اس میں بھی رحمت خاصّہ کاملہ کی دعا جوکہ مفہوم ہے درود کا ، اس لئے شریعت نے اس فطرت سلیمہ کے مطابق درود شریف کا امر کہیں وجوباً اور کہیں استحباباً فرمایا ۔
حکمتِ دوم :
رسول اللہ حق تعالیٰ کے محبوب ہیں اور محبوب کیلئے کسی چیز کی درخواست کرنا خود سبب ہوتا ہے درخواست کرنیوالے کے تقرب کا ۔ پس درود شریف میں چونکہ درخواستِ رحمت ہے محبوب حق کے لئے یہ ذریعہ ہو جائے گا خود اس شخص کو حق تعالیٰ کی رضاو قرب میسر ہونے کا ۔
حکمتِ سوم :
انبیاء علیہم السلام اور خاص کر سید الانبیاء کی خدمت میں درود سلام بھیجنے کی حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے مقدس اور محترم ہستیاں انبیاء علیہم السلام ہی کی ہیں۔ جب ان کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ ان پر درود سلام بھیجا جائے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور نظر کرم کے محتاج ہیں اور ان کا حق اور مقام عالی یہی ہے کہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ سے اعلیٰ سے اعلیٰ دعائیں کی جائیں ، اس کے بعد شرک کیلئے کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ کتنا بڑا کرم ہے رب کریم کا کہ اس حکم نے ہم بندوں اور امتیوں کو نبیوں اور رسولوں کا اور خاص کر سید الانبیاء کا دعا گو بنا دیا ۔ جو بندہ ان مقدس ہستیوں کا دعا گو ہو، وہ کسی مخلوق کاپرستار کیسے ہو سکتا ہے ( معارف الحدیث ،از مولانا منظور نعمانی ؒ ) ۔
درود شریف کے فوائد و ثمرات :
حضرت شیخ الاسلام الحافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف ’’ جلا ء الافہام ‘‘ میں فضائل درود شریف کی صحیح احادیث نقل فرمانے کے بعد ان احادیث کے ثمرات وفوائد بیان فرمائے ہیں ۔ اختصار کی غرض سے چند فوائد و ثمرات نقل کئے جاتے ہیں ۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :ان فوائد سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ درود شریف آپ کے دیگر حقوق کی ادائیگی کا ذریعہ ہے اور آپ کے حقوق میں سے بہت ہی قلیل حق کی ادائیگی ہے اور اس نعمت کا شکر ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ہم پر انعام کیا حالانکہ جس کے آپ مستحق ہیں وہ نہ علم میں آسکتا ہے نہ اس کی ادائیگی پر کوئی قادر ہو سکتا ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندے سے تھوڑے ہی شکر اور تھوڑی ادائیگی پر راضی ہو جاتے ہیں ۔
درود شریف حضور سے دوام محبت اور اس میں خوب ترقی کا سبب ہے اور یہ چیز ایمان کی کڑیوں میں سے ایسی کڑی ہے کہ جس کے بغیر ایمان پورا نہیں ہوتا کیونکہ بندہ جتنا محبوب کے ذکر میں کثرت کرے گا اور محبوب کو اپنے قلب میں مستحضر کرتا رہے گا نیز محبوب کے محاسن اور وہ باتیں جو محبوب کی محبت پیدا کریں ،ان کا استحضار کرتا رہے گا، اتنی ہی محبت بڑھتی رہے گی اور اگر محبوب کے ذکراور محسن سے اعراض کرے گا تو محبت قلبی میں کمی ہو جائے گی ۔ محب کی آنکھوں کی ٹھنڈک رؤیتِ محبوب سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں اور محب کے قلب کی ٹھنڈک ، محبوب کے ذکر اور محبوب کے محاسن کے اظہار سے بڑھ کر اور کسی چیز میں نہیں ۔ یہ چیز محسوس ہے اور مثل مشہور ہے : مَنْ اَحَبَّ شَیْئاً اَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہٖ ۔
’’جس چیز سے محبت ہوتی ہے اُس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت سے درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اپنی اور اپنے حبیب کی محبت اور رضا نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
واللہ الموفق والمعین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں