میں ایک مرد ہوں 9

میں ایک مرد ہوں

61 / 100

میں ایک مرد ہوں

خاطرات: امیرجان حقانی

میں ایک مرد ہوں. اور آج مردوں کا عالمی دن ہے. میری کفالت میں سات خواتین ہیں. میں ان کے حقوق اور عزت و راحت کے لیے دن بھر اپنا خون جلاتا ہوں. گلگت کی ٹھٹھرتی سردی کے ان دنوں میں بھی موٹرسائیکل پر رات عشاء کے بعد گھر پہنچتا ہوں. سردی سے کانپ سا جاتا ہوں مگر گھر میں موجود انگیٹھی والے گرم کمرے میں پہنچ کر مسکرا دیتا ہوں. ماں جی سے خیریت دیارفت کرتا ہوں.ان کے گلے لگ جاتا ہوں. بیٹی کو گلے لگاتا ہوں. فروٹ اور دیگر سامان کا بیگ ان کی طرف سرکا دیتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھ کر آگ تاپنے لگتا ہوں. ان خواتین کی ہر جائز خواہش کو اپنی کیپسٹی میں پورا کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں. ان میں سے چار خواتین(بہنوں اور بھانجیوں) سے صرف بہتر تعلیم حاصل کرنے کی ڈیمانڈ کرتا ہوں اور روز فریادی بن جاتا کہ محنت سے پڑھیں اور ان کو ہر ممکن سہولت پہنچانے کی سعی کرتا ہوں. ایک خاتون(ماں جی) سے صرف اور صرف دعا کی درخواست کرتا ہوں. ایک خاتون(اہلیہ) سے صرف محبت کا متقاضی ہوں. ایک خاتون(بیٹی) سے صرف “بابا بابا ” سننے کی تڑپ رکھتا ہوں.ان میں سے جو بھی میری ان معصومانہ خواہشات کا خیال رکھتی ہیں تو نہال ہوجاتا ہوں. خوشی کے شادیانے بجاتا اور ان کی تعریفات کرتا ہوں.

ان تمام خواتین سے آج تک کوئی ڈیمانڈ نہیں کی. ان کو کھبی یہ نہیں جتایا کہ میرے بھی آپ پر حقوق ہیں. اپنے آپ کو سپیریئر نہیں رکھا.کما کر دینے کا طعنہ نہیں دیا بلکہ ان کے بہت سارے طعنے ہنستے ہوئے سنتا ہوں. میرے والد مکرم نے بھی یہی کیا ہے اور دادا جان نے بھی.

واللہ! میں تو گھر کا جھاڑو بھی ہر تیسرے دن دینے کی گزارش کرتا ہوں تاکہ انہیں تکلیف اور تھکاوٹ نہ ہو مگر خود روز کولہوں کے بیل میں جُت جاتا ہوں. ماں جی بیمار ہے. باقی سب صحت مند ہیں. میری بس میں ہو تو گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی کوئی خادم رکھ لوں مگر ممکن نہیں.اللہ نے گنجائش دی تو یہ بھی کرلونگا. معصوم بیٹی کی تعلیم اور جہیز(تعلیمی اخراجات) کے لیے ابھی سے فکر مند ہوں.

میں سرکاری نوکری کیساتھ رزق حلال کے لیے بہت سے چھوٹے موٹے کام کرتا ہوں کھبی عار محسوس نہیں کی. تاکہ میری کفالت میں موجود لوگ مزید راحت و سکون سے زندگی بسر کریں.انہیں کسی چیز کی کمی نہ ہو.

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب کرکے مجھے لطف اور سکون ملتا ہے کہ میری محنت سے سات عدد خواتین روز سکون سے زندگی جی رہی ہیں. میری موجودگی سے انہیں ہر قسم کا سماجی اور معاشی پروٹیکشن ملا ہوا ہے. میرے نام اور کام سے وہ اپنا بھرم بھی جاری رکھی ہوئی ہیں.وہ میرا نام استعمال کرتی ہیں مگر میں ان میں کسی کا نام استعمال نہیں کرتا. میرے ریفرنس سے اپنی برترتی جتاتی ہیں مگر میں نے کھبی ایسا نہیں کیا ہے.

یہ سب کرنے پر مجھے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اکسایا ہے. یہ صرف میں نہیں کررہا ہوں. ہر غیرت مند مسلمان مرد یہی کررہا ہے. وہ اپنی خواتین(ماں، بہنیں، بیٹیاں اور بیوی) سے کھبی کمانے کی ڈیمانڈ نہیں کرتا بلکہ خود ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر اپنی خواتین کو عزت و احترام اور سکون و تحفظ کیساتھ رکھتا ہے.جان تک نچھاور کرتا ہے. گھر سے دور رہ کر کماکر سب گھر پہنچا دیتا ہے.

کاش!. مرد کے اس ایثار و قربانی کو کوئی سمجھتا. کوئی اس کے دکھوں کا مداوا کرتا. مگر ایسا نہیں ہوتا. مغرب کی اندھی تقلید میں مسلمان عورت بھی اپنے ہی بھائی، بیٹے، باپ اور شوہر کو کٹہرے پر کھڑا کرتی نظر آتی ہے. حقوق مرداں یا یوم مرد پر کوئی تقریب نہیں ہوتی. کوئی کالم نہیں لکھتا اور نہ ہی کوئی ٹی وی مکالمہ/مذاکرہ کرتا.مرد کے ایثار اور قربانی کا کوئی عورت قبولیت نہیں بخشتی. پڑھی لکھی بہنوں نے کھبی مرد کے اس خلوص و جذبہ کو ہائی لائٹ نہیں کیا ہے.
مگر
مرد خواتین کے حقوق پر ریلیاں بھی نکالتا ہے. جمعہ کے دن تقاریر بھی کرتا ہے. مسائل و فضائل بھی بیان کرتا ہے. ٹی وی اور ریڈیو میں حقوق نسواں پر ڈھاڑتا بھی ہے مگر حقوق مرداں پر سکوت طاری ہوتا سب پر.

یہ سب کیا ہے؟

کیوں مرد کا ایثار کسی کو نظر نہیں آتا.؟

سچ یہ ہے کہ مسلمانوں کا فیملی سسٹم بہت مضبوط ہے. مغرب نے اس کو کسی طرح برباد کرنا ہے جس کے لیے ہزاروں خوش نما نعرے وضع کیے گئے ہیں.مشرق کو بطور تجربہ گاہ چُن لیا گیا ہے. حقوق نسواں کے پریکٹیسز مشرقی دنیا میں ہورہے ہیں.

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد خون جلا کر، دنیا بھر کی تکالیف سہہ کر، دن بھر کی تھکن کے بعد شام کو، آٹے کا تھیلہ اور سبزی کا بیگ لئے گھر پہنچے اور عورت نعرہ لگائے کہ” میں تیرا کھانا گرم نہیں کر سکتی”
یہ انصاف نہیں ظلم ہے. یہ محبت اور خلوص نہیں نفرت اور خود غرضی ہے. یہ گھر بچانا نہیں برباد کرنا ہے.یہ فیملی سسٹم کی بربادی کا سامان ہے.

میری تمام بہنوں سے گزارش ہے کہ مرد کے اس ایثار کو سمجھیں. مرد کو عزت دیں، مرد کو اسکا مقام دیں.
واللہ! عورتوں کی عزت و توقیر اور راحت و سکون اور تحفظ مردوں کے دم سے ہے.
ان خواتین سے پوچھ لیں جن کے سروں پر مرد کا سایہ نہیں. وہ کتنی ڈسٹرب ہیں.ان کی سماجی اور معاشی لائف اجیرن بنی ہوئی ہے. وہ ہر اعتبار سے خوفزدہ ہیں.
کہنے کو بہت کچھ ہے مگر مردوں کے عالمی دن کے موقع پر اتنا کافی سمجھا جائے.

احباب کیا کہتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں