Muslim voices againt France 15

میکرون نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی: وزیر اعظم عمران خان

7 / 100

فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور بعد میں صدر میکرون کی جانب سے ان کے دفاع میں بیان کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ مذمتی پیغامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور بعد میں صدر میکرون کی جانب سے ان کے دفاع میں بیان کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ مذمتی پیغامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
کئی عرب ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے مہم چلائی جا رہی ہے کو اب پاکستان تک بھی پہنچ چکی ہے اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی فرانس مخالف پیغامات جاری کر رہے ہیں۔
جبکہ بعض صارفین کی جانب سے ان کے سوشل میڈیا پیجز پر پروفائل فوٹوز بھی تبدیل کر دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں اس مہم کا آغاز فرانس میں میگزین چارلی ایبدو میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت، پیرس کے قریب ایک مسجد کو عارضی طور پر بند کرنے، مسجدوں پر چھاپے اور ’اسلام مخالف مہم‘ جیسے اقدامات کے بعد ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔
ان خاکوں کی اشاعت کے بعد فرانس میں چارلی ایبدو کے پرانے دفتر کے باہر چاقو سے حملہ اور سکول میں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے والے استاد کا قتل جیسے واقعات پیش آئے جن کے بعد مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا شروع کر دیا گیا۔
بعد میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان خاکوں کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے بلکہ یہ میگزین کا اپنا فیصلہ ہے۔
قتل کیے جانے والے استاد کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ان خاکوں کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
ان کے اس بیان اور بعض حکومتی اقدامات پر کئی ممالک جن میں ترکی، اردن، کویت اور پاکستان شامل ہیں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹوئٹر پر ہی ایک پیغام جاری کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ ’قائد کی علامت یہ ہے کہ وہ تقسیم کی بجائے لوگوں کو متحد کرتا ہے جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے جب صدر میکرون دوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے کی بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھتے اور شدت پسندوں کو جگہ دینے سے انکار کرتے۔‘
بدقسمتی سے انہوں نے تشدد پر آمادہ دہشت گردوں (خواہ وہ مسلم، سفیدفام نسل پرست یا نازی ازم کے پیروکار ہوں) کی بجائے اسلام پر حملہ آور ہو کر اسلاموفوبیا کی حوصلہ افزائی کا راستہ چنا۔ مقام افسوس ہے کہ صدر میکرون نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو جن میں ان کے اپنے شہری بھی شامل ہیں کو مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی۔‘
پاکستان کے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلام اور رسول اکرم کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام پر اپنے بلا سوچے سمجھے حملے سے صدر میکرون یورپ اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ آور ہوئے ہیں اور انہیں مجروح کرنے کا سبب بنے ہیں۔‘
ادھر پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز اس بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فرانس کے صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادیِ اظہار رائے کی آڑ میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔‘
دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے ایک بیان میں فرانسیسی صدر کی مسلمانوں کے خلاف پالیسیوں پر کہا کہ انہیں ’دماغی معائنے‘ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم مختلف مذاہب کے لاکھوں افراد کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھنے والے ملک کے سربراہ کے بارے میں کیا کہیں۔ پہلے تو انہیں (فرانسیسی صدر) کو دماغی معائنے کی ضرورت ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں