مینو ں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے 15

مینو ں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے

59 / 100

مینو ں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے
پکچر انٹرول کے بعد شروع ہو گی،ابھی ”مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے“والا ایپی سوڈچل رہاہے،فلم ہٹ اور سپر ہٹ ہے ولن کو دی اینڈ پر بہت پھینٹی پڑنی ہے۔اللہ کا شکر ہے ہم میں شرم باقی نہیں ورنہ اس رشوت آمیز ویڈیو کے بعد کوئی دو ڈھائی لاکھ خودکشیاں تو اب تک ریکارڈ ہو چکی ہوتیں۔بھولے بادشاہو یہ جو”چن مکھناں تے ڈھول سجنا“ہیں نوٹ سمیٹتے نظر آ رہے ہیں دوبارہ الیکشن کرالیں یہی جیتیں گے،پھر کرا لیں یہی جیتیں گے،یہ نظام،یہ فضاء ان کے لئے ہے سیاست کا دھوم چڑکڑا انہی سائیوں کے لئے ہے اور ان کے اوپر بیٹھے سیاست کے ڈان ملکی خوشیاں کتن والے ایسے ہی جیویں گے۔ صحافت آزاد ہے پر سب صحافیوں کے ہاتھ سردی کی وجہ سے بغلوں میں تھے اس لئے باہر نہ نکلے۔میرا یقین ہے اگر ان سے پوچھا جاتا کہ کیا ہمارے عدالتی فیصلے آزاد ہیں تو بھی ان کے ہاتھ کچھوں سے باہر نا نکلتے۔ اللہ ماشا اللہ یہاں پر بندہ بریلی کے بانس کی طرح نو فٹ کا ہے،موچی سے لے کر رکن اسمبلی تک،سب ”بھور بہے پنگھٹ نٹ کھٹ رام ستائے“ہوئے ہے ۔لہذٰا پاکستان میں باپ بڑ ا نا بھیا سب سے بڑا روپیہ ہوتا ہے۔

مزا تو تب ہے کہ سپریم کورٹ ارکان اسمبلی کی جانب سے نوٹوں کو جپھے ڈالنے والی ویڈیوز پر سو موٹو لے اور ان کی رکنیت تا عمر ختم کر دے۔ورنہ یہ کھنڈ کھاؤ تے ونڈ کھاؤ والا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔بھانجہ بلاول کہتے ہیں کہ عمران خان سینٹ الیکشن متنازعہ بنانا چاہتے ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا پیسے سے ارکان کولالو لال کر دیا جائے تو الیکشن غیر متنازعہ ہو جائیگا۔لیکن کیا کریں جس ملک میں آوے کا آوا بگڑا ہو،جہاں کونسلر بننے سے لے کے رکن اسمبلی بننے پر لاکھوں،کروڑوں انویسٹ ہوتے ہوں وہاں ارکان اسمبلی سیاست میں اس لئے تھوڑا آئیں گے کہ قوم سے مدر ٹریسا یا مولانا عبدالستار ایدھی کا ایوارڈ لیں۔سیاست ایک کاروبار ہے اور جب بندہ کروڑوں روپے خرچ کر کے آئے گا تو پھر سینٹ میں اپنی قیمت تو وصول کرے گا۔کلاس میں ٹیچر نے سنتا سنگھ سے کہا کہ نقشے پر بتاؤ امریکہ کہاں ہے؟،سنتا نے نقشے پر امریکہ تلاش کر کے انگلی رکھ دی،ٹیچر نے بنتا سے پوچھا تم بتاؤ امریکہ کس نے دریافت کیا؟،وہ بولا سر دو منٹ پہلاں سنتا سنگھ نے۔

جب تک ہماری سیاست میں وچوں وچ،اندرو اندری نقشے پر انگلیاں رکھوانے کا سلسلہ رہے گا ہماری سیاست کے یہ ننھے کولمبس امریکہ دریافت کرتے رہیں گے۔افسوس تو جمہوریت کی سب سے بڑی دعویٰ دار بلکہ دانے دار پیپلز پارٹی پر ہے جس نے چارٹر آف دیموکریسی عرف ”ٹالہی دے تھلے بہہ کے،پیار دیاں گلاں“کرَن والی فلم میں خود تجویز پیش کی کہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعہ ہونے چاہیں،لیکن ان نجانے کس خوف سے ان کے ”ڈھڈ پیڑ“ ہو رہی ہے۔چلو جی ”جنہاں گاجراں کھادیاں ٹیکنیکلی ان کے ٹھڈ میں سخت وٹ بھی پڑنے چاہئیں۔ویسے بھی سیاست بھُل چک لین دین کا نام ہے اور پھر امام سیاست حاجی زرداری صاحب فرما چکے ہیں کہ میثاق جمہوریت کوئی حدیث نہیں لہذٰا اسے مزاق جمہوریت تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ہمارے ن لیگ کے نظام سقّہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں گے تو کیا آئین یہ کہتا ہے کہ ملک لُٹ کے کھا جاؤ قوم بھوکی مرے اور آپ کے کتے بھی ریڈ بل پیئں۔بنتا سنگھ اپنا دُنبہ ذبح کروا رہا تھا قصائی سے بولا اس کے گردوں،کپوروں کے تکے بنواؤ نگا، گوشت کے کباب،سری پائے بنوا کے ناشتہ کرونگا،کلیجی بھون کے کھاؤنگا،چربی نو گھی کی جگہ استعمال کرونگا اور اس کی کھال کی جیکٹ بنواؤنگا،قصائی بولا ایس دنبے دی آواز وی ریکارڈ کر لو اس کی رنگ ٹون بنا لینا۔

دھن جگرا اس قوم کا یہ سیاست دان اس کی کلیجی کھائیں،نکے کباب بنائیں،اس کی اوجڑی کالی مرچوں میں پکائیں اور ان کی باں باں بطور الیکشن کمپین استعمال کریں مجال ہے کہ دُنبہ شریف زرا سا کُسک جائے۔جب اسمبلیوں میں ایسے بے ضمیرے،ٹکہ ٹوکری بیٹھے ہوں گے تو قانون سازی میں روحانیت کی بوند یں نہیں ٹپکیں گی۔رہی اوپن بیلٹ کی بات تو جب سارے چور اکھٹے ہو ں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سر ِ عام اپنی اصل شکل دکھائیں۔لیکن کب تک یہ کھل نائک اسمبلیوں میں بکل مار کر نائیک بنے رہیں گے۔ہم تو کب سے کہہ رہے تھے ”ماہی میریا روندھ نا ماریں“قوم نے تو جند جان کا داؤ لگایا ہو اہے۔بے ایمان کا منہ کالا ہو جاتا ہے ہو گیا نا،ہُن آرام اے۔کمرے میں ایک ہی اینگل میں نوٹوں کے تھبو سنبھالنے والے آگئے نا سامنے۔لیکن میں اس خاتون کی ایمانداری کو ضرور داد دوں گا جس نے ہتھی نوٹوں کی گنتیاں کیں۔

میں اپنی وکلاء برادری کو اپنے جسم کے پُور پُوُر کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اسلام آباد میں قانون کا علم ڈنڈی پٹی بلند کیا۔کہتے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن کل اسلام آباد میں وٹے پڑنے سے ان کی آنکھیں ضرور کھل کئی ہوں گی۔میں یہاں پوری قوم کو انصاف کی ایک آنکھ سے دیکھنے والے افتخار محمد چودھری کو بھی انہے واہ خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہو ں نے وکلاء کو جگایا انہیں بتایا کہ قانون کی عزت دوبالا بلکہ قانون سے بالا بالا کیسے بنائی جاتی ہے۔وکلاء سے جج بننے والے تمام معززین خوش ہو ں گے کہ انصاف کے حصول کی جو عظیم جدو جہد انہوں نے افتخار محمد چودھری کے علم تھلے شروع کی تھی اب ایک عالمگیر تحریک بن چکی اور ا سکے ثمرات سڑکوں،کچہریوں سے نکل کر اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں