7

مہنگائی کا عذاب اور عوام کا حالِ

54 / 100

روز مرہ ضرورت کی تمام ہی اشیا کی قیمتوں میں موجودہ دور میں جس رفتار سے اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے، ملک کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مہنگائی پر قابو پانے کی جو یقین دہانیاں کرائی جاتی تھیں، اب ان کا تکلف بھی نہیں کیا جاتا۔ اس حوالے سے تازہ ترین کارروائی بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے فیصلوں کی شکل میں سامنے آئی ہے جو گزشتہ روز وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے۔ کمیٹی نے وزارتِ صنعت و پیداوار کی سفارش پر حکومت کے یوٹیلٹی اسٹوروں پر گھی کی قیمت میں تقریباً 53فیصد کا اضافہ کردیا جس کے بعد قیمت 170روپے سے بڑھ کر 260روپے فی کلو ہو گئی۔ علاوہ ازیں گندم کے آٹے کی قیمت میں تقریباً 19فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد 20کلو کی بوری 800روپے سے بڑھ کر 950روپے کی ہو گئی۔ اسی طرح چینی کی قیمت 25فی صد بڑھا کر 68روپے سے 85روپے کردی گئی۔ ایک سرکاری بیان میں ان اضافوں کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹور کی رعایتی قیمتوں اور مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے مابین بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لئے ان چیزوں کے نرخ بڑھائے گئے ہیں۔ تاہم اس منطق کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ کھلے بازار میں ان بنیادی اشیا کے نرخوں میں کم و بیش اسی تناسب سے اور اضافہ ہو جائے گا۔ صورت حال اس بنا پر مزید ہولناک ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی وغیرہ کے نرخ آئے دن بڑھ رہے ہیں۔ یہ وہ اشیا ہیں جن کی مہنگائی سے تمام صنعتی اور زرعی اشیا کی قیمتیں لازماً بڑھتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پچیس پچاس ہزار آمدنی والا پانچ چھ افراد کا ایک کنبہ مہنگائی کے اس سیلاب میں اپنے وجود کو کس طرح برقرار رکھ سکتا ہے۔ حالات یہی رہے تو لوگ بھوک کے ہاتھوں خودکشیوں پر مجبور ہوجائیں گے۔ ذمہ داران حکومت کو عوام کے حال زار کا کچھ تو احساس ہونا چاہئے۔ لوگوں کے لئے یہ سمجھنا بھی محال ہے کہ جو حکومت بیش بہا کاروں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی کررہی ہے وہ آٹے، چینی اور گھی تیل جیسی لازمی ضروریات زندگی میں مسلسل اضافے پر کیوں تلی ہوئی ہے۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی صدارت میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے جس اجلاس میں آٹے گھی اور چینی جیسی ہر گھر کی ضرورت کی اشیا کے نرخوں میں بھاری اضافوں کے یہ فیصلے کیے گئے، اس میں کمیٹی کے 14میں سے صرف دو ارکان شریک تھے جس کی بنا پر گمان ہوتا ہے کہ غریب غربا ہی نہیں اعلیٰ متوسط طبقوں تک سے تعلق رکھنے والے کروڑوں پاکستانیوں کے لئے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کو مشکل سے مشکل تر بنانے والے یہ اقدامات عوام کے حال زار کے بارے میں کسی سنجیدہ فکر مندی سے بالاتر رہتے ہوئے کیے جارہے ہیں۔ اسٹریٹجک ذخائر کے لئے 2لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا حکم اورکپڑے کی صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 2لاکھ گانٹھ روئی کی درآمد کی اجازت کے نتائج امید ہے کہ مثبت ہوں گے لیکن یہ اقدامات پہلے کرلئے جاتے تو شاید صورت حال بہتر ہوتی۔ گردشی قرضے روکنے کے لئے بجلی پیدا کرنے والے سرکاری شعبے میں 116ارب روپے کی نان کیش بک ایڈجسٹمنٹ بھی اچھا فیصلہ ہے۔ تاہم بنیادی اشیائے صرف کے نرخوں میں اضافے کے بجائے کمی کی ہر ممکن تدبیر عوام کو فاقہ کشی سے بچانے کے لئے ناگزیر ہے۔ سرکاری اخراجات کم کرکے عام آدمی کی ناگزیر ضروریات کے لئے سبسڈی کا فراہم کیا جانا وقت کا لازمی تقاضا ہے، اس کے لئے وفاق اور صوبوں میں وزرا اور مشیروں کی بھاری تعداد میں کمی پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ ہم سے کہیں زیادہ بڑی معیشتوں میں بھی ہم سے کہیں زیادہ مختصر کابینائیں پورا کاروبار مملکت سنبھالتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں