95

مودی سرکار کے خطرناک عزائم

نریندر مودی کی حکومت آر ایس ایس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ آر ایس ایس کا واحد ایجنڈا بھارت میں ہندو توا کا فروغ ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک سیاسی جماعت نہیں، نہ ہی آر ایس ایس کوئی تنظیم ہے۔ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے صاف لگ رہا ہے کہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کا نام بی جے پی ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر آر ایس ایس کی متعصبانہ پالیسی کو آگے بڑھائے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی دشمن ہیں۔ ان کا مقصد بھارت میں صرف ہندو توا کا قبضہ اور فروغ ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس تو سکھوں کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن بوجہ ابھی ان کا نشانہ صرف مسلمان ہیں، وہ بھارت کے اندر ہوں یا مقبوضہ کشمیر کے مسلمان۔

اب مودی سرکار کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کے خلاف بہت خطرناک حالات بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اگر دیکھیں تو بھارتی غاصب فوج کی طرف سے گزشتہ آٹھ ماہ سے کشمیری مسلمانوں کا محاصرہ جاری ہے۔ یرغمال بنائے گئے مسلمان کھانے پینے کی اشیا اور ادویات سے محروم ہیں۔

بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف مذمتی بیانات تک محدود ہیں۔ بھارتی فوج گھر گھر تلاشی کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کیا جا رہا ہے۔

کشمیری مسلمانوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کے لئے مودی سرکار نے رواں ہفتے میں سات سو پچاس تازہ دم فوجی جموں پہنچا دیے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بڈگام، اسلام آباد، کپواڑہ، کشتواڑ، پلوامہ، بارہ مولا، گاندربل، کلگام اور شوپیاں میں کشمیری نوجوانوں کے خلاف بھارتی فوج کی طرف سے کریک ڈائون جاری ہے۔

ان علاقوں میں صورتحال بہت خراب ہے، گھروں سے جوانوں کو گرفتار کرکے لے جایا جاتا ہے اور پھر ان پر کورونا پابندیوں کو توڑنے کے جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ ان علاقوں سے اب تک 120سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ظلم کی انتہا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کورونا کے مریضوں کو مجاہدین بتا کر شہید کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوجی درندوں نے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام لگا کر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام کا خطرناک کھیل شروع کر رکھا ہے۔

اسی ہفتہ سوپور اور کشتواڑ میں کورونا وائرس کے چھ مریضوں کو ٹیسٹ کے بہانے گھروں سے لے جایا گیا اور پھر ان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا اور یہ بیان جاری کیا گیا کہ یہ افراد اصل میں مجاہدین تھے جو مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس پھیلانے میں مصروف تھے۔

قتل کرنے کے بعد ان شہیدوں کی میتیں بھی ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتیں بلکہ ان کی میتوں کو کورونا زدہ ظاہر کرکے ان کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دو نوجوانوں کو شہید کر کے ان کی میتوں کی بےحرمتی کی گئی۔مودی سرکار ایسے صحافیوں کو بھی برداشت نہیں کر سکتی جو حق اور سچ پر مبنی خبریں اخبارات کو دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سرینگر سے تعلق رکھنے والی 26سالہ فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کے خلاف بھی سائبر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے فیس بک پر ملک کے خلاف پوسٹ لگائی تھی۔

ان کے علاوہ پلوامہ سے گوہر گیلانی اور پیرزادہ عاشق نامی صحافیوں کے خلاف بھی ملک کے خلاف رپورٹنگ کے الزام میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

ادھر بھارت میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف پرچار جاری ہے جس میں بتایا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے ذمہ دار مسلمان ہیں۔ مسلمان دکانداروں حتیٰ کہ سبزی اور پھل فروش ریڑھی بان مسلمانوں سے خریداری تو درکنار ان پر تشدد کر کے بھگایا جاتا ہے۔

مسلمانوں پر تشدد پولیس کی نگرانی میں آر ایس ایس کے غنڈے کر رہے ہیں۔ بھارتی اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں اور مسلسل یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ بھارت میں کورونا وائرس مسلمانوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلایا جس کا مقصد بھارت میں ہندوئوں کو مارنا ہے۔اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔

مسلمان علما بار بار یہ اپیل کر رہے ہیں کہ مسلمان عبادات اور افطاری کے اوقات میں گھروں میں ہی رہیں اور مساجد نہ آئیں۔ یعنی وہ یہ خطرہ بھانپ گئے ہیں کہ ہندو انتہا پسند کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اس وقت پورے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں اور کسی بھی وقت مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ حملوں کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اب تو خواب غفلت سے جاگیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں