منشیات کا خاتمہ سب کی ذمہ داری 18

منشیات کا خاتمہ سب کی ذمہ داری

48 / 100

من حیث القوم ہمارے لئے لمحہ ٔ فکریہ ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کی آبادی کا 10فیصد ہے لیکن یہاں سگریٹ نوشی کی شرح 32فیصد ہے جبکہ نشہ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے جن میں اکثریت نوجوان نسل کی ہے اور منشیات کا شکار بیشتر افراد بیکاری کا چلتا پھرتا نمونہ بنے ہوئے پورے کنبے اور معاشرے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف منشیات فروش کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں حالانکہ اُن کی سرکوبی کے لئے قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دونوں ہی موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بیشتر پولیس اہلکار منشیات فروشوں کو پکڑنے کے بعد رشوت لیکر چھوڑ دیتے ہیں جبکہ اثر و رسوخ کی وجہ سے بڑے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے مطابق احساس محرومی‘ معاشی تفریق‘ نمودونمائش اور عدم توجہی نوجوانوں کے معاشرے سے راہِ فرار اختیار کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ منگل کے روز اینٹی نارکوٹکس فورس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ادارے کے سربراہ میجر جنرل محمد عارف ملک (ہلال امتیاز ملٹری) نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد خصوصاً تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال کی روک تھام اور سپلائی کرنے والے عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ بڑے اسمگلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے جس کے تحت یہ مہم بلاامتیاز اس وقت تک جاری رہنی چاہئے جب تک ملک میں ایک بھی منشیات فروش موجود ہے۔ اِس حوالے سے جامع ایکشن پلان مطلوبہ نتائج تک پہنچنے میں مدد دے گا‘ حکومت کو منشیات کے خلاف آگاہی مہم کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں