مل کر پاکستان بچائیں 27

مل کر پاکستان بچائیں

52 / 100

مل کر پاکستان بچائیں
پاکستان کی خدمت کے لئے ہماری زندگی وقف ہے
ریاض احمد جسٹس
اسلم مرزا صاحب!اور اپنے ابا جان کی روزانہ ہونے والی گفتگو کو ڈائری میں لکھ دیا کرتا تھا۔اُسے وہ سب یاد تھا کہ کس طرح مرزا صاحب اور ابا جان کی بیٹھک ہوا کرتی تھی کبھی تحریک آزادی پاکستان کی باتیں اور کبھی ماضی کے شاعروں کے قصے اُسے گزرے دنوں کا لمحہ لمحہ ازبر تھا۔
آج بھی وہ اُن گزرے لمحات کی کتاب کا ورق ورق کھولتا ہے تو اُسے اپنے ابا جان اور مرز اصاحب کی ہر بات سنائی دینے لگتی تھی۔وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ ابا جان نماز مغرب کے بعد ہمیشہ چھت پر مرزا صاحب کے آنے کا انتظار کرنے بیٹھ جایا کرتے تھے کبھی کرسیوں کو صاف کرتے تو کبھی میز پر رکھی کتابوں کو صاف کرنے لگ جاتے تھے۔
مرزا صاحب کیلئے حقے کا پانی بار بار تبدیل کرتے تھے کیونکہ مرزا صاحب کی عادت تھی کہ وہ کچے گھڑے کے پانی میں رات کو گڑ ڈال دیتے اس طرح پانی میٹھا ہو جاتا تھا اور حقہ پینے میں مرزا صاحب کو بہت مزہ آتا تھا۔

اسلم جوں جوں سوچتا گیا وہ واقعات اور حالات کی گہرائیوں میں اُترتا چلا گیا۔

ایک دن ابا جان نے بے چینی سے اسلم کو آواز دی کہ کہیں دروازہ تو بند نہیں کہ دروازہ بند دیکھ کر مرزا صاحب واپس نہ چلے جائیں تو اسلم نے بتایا کہ مرزا صاحب آگئے ہیں۔مرزا صاحب کی بغل میں کتابیں اور ہاتھ میں چھڑی تھی۔اسلم اُن کے ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں کے راستے چھت پر لے کر آگیا۔
ابا جان نے مرزا صاحب کو آرام دہ کرسی پر بیٹھا دیا اور مرزا صاحب کے ہاتھوں میں حقے کی نالی پکڑا دی اور ساتھ میں اِدھر اُدھر کی باتیں بھی شروع کر دیں۔حقے کے ”گڑگڑ“ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔مرزا صاحب نے تھوڑا کھانستے ہوئے دبی آواز میں پوچھا میاں شوکت !آج حقے کا پانی کیا کہیں اور سے منگوا لیا ہے؟میاں شوکت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پانی تو اپنے گھر کا ہی ہے مگر آج حقہ تازہ کرتے کرتے دل نے بزرگوں کو یاد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مرزا صاحب نے کہا ہم اُن سب کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے اپنے گھر بار اور پیاروں کی پرواہ کئے بغیر اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر ہمیں آزادی کی ہر نعمت عطا کی۔اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اسلم کو یہ بھی یاد تھا کہ ابا جان اور مرزا صاحب کے ساتھ دادا ابو بھی کبھی کبھی شامل ہو کر محفل کو اور خوشگوار بنا دیا کرتے تھے۔
وہ تحریک آزادی کے حوالہ سے بچوں کو بڑے پیار سے بتایا کرتے تھے۔ایک شام کو اسلم جب گھر میں داخل ہوا تو حویلی چراغوں کی روشنی میں جگمگا رہی تھی۔اسلم نے پوچھا کہ آج یہ حویلی میں چراغاں کیوں کیا گیا ہے تو دادا جان نے کہا آج 25 دسمبر ہے ہمارے قائداعظم کا یوم ولادت ۔
یہ چراغوں کی روشنیاں قائداعظم کی ولادت کے دن کے حوالہ سے ہمیں خوشیاں مہیا کر رہی ہیں۔ابا جان اور مرزا صاحب کے چہروں پر بھی خوشیاں رقص کر رہی تھیں دادا جان نے اسلم کے چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے پاس بیٹھا لیا اور کہا آج ہم سب مل کر بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی ولادت کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
تھوڑی دیر بعد باقی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا ہر مہمان خوش اور شاداں دکھائی دے رہا تھا۔اسلم کے چھوٹے بہن بھائیوں نے قومی ترانہ سنایا اور بزرگوں نے اپنے محبوب قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کا کیک کاٹ کر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
کیک کٹتے ہی حویلی تالیوں سے گونج اُٹھی۔دادا جان بہت خوش تھے کہ اچانک رو پڑے تو ابا جان نے پوچھا بابا کیا ہوا تو انہوں نے جواب دیا ہم پاکستان میں قائد کا زیادہ عرصہ ساتھ نہ دیکھ سکے اُن کی جدائی تڑپا رہی ہے۔دادا جان نے سب مہمانوں کو کہا کہ وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ جائیں تاکہ آرام سے وطن عزیز کی سلامتی اور ترقی کیلئے دعا کر سکیں۔
دعا کے بعد اسلم کے بہن بھائیوں نے پوچھا دادا جان قائداعظم کے کتنے بہن بھائی تھے؟تو دادا جان نے بتایا قائداعظم کا نام محمد علی جناح ہے اُن کے دوسرے بھائی احمد علی جناح اور تیسرے بچو بائی تھے اور بہنوں میں رحمت بائی،مریم بائی ،شیریں بائی اور فاطمہ بائی(جو بعد میں فاطمہ جناح کے نام سے پہچانی جاتی ہیں)تھیں۔
قائداعظم کے والد کا نام جناح پونجا تھا جو چمڑے کا کاروبار کرتے تھے اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء بروز اتوار اسلامی تاریخ 8 ذوالحجہ 1293ھ کو وزیر مینشن چھانگلہ سٹریٹ کراچی میں پیدا ہوئے۔
آپ نے قرآن مجید پڑھا اور سولہ برس کی عمر میں مشن ہائی سکول کراچی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان تشریف لے گئے جب آپ انگلستان پہنچے تو وہاں گائیڈ سے قانون کی تعلیم دینے والی درسگاہوں کی معلومات حاصل کیں جب آپ وہاں کی مشہور درس گاہ لنکن ان پہنچے تو اُس کے در و دیوار پر کچھ نگار کنندہ پائے نوجوان محمد علی اُن کو سمجھ نہ سکے۔
اُن کے پوچھنے پر گائیڈ نے بتایا کہ یہ فرسکو ہے اور اس میں دنیا کو بڑے بڑے قانون عطا کرنے والوں کے نام نگار کئے گئے ہیں۔
محمد علی نے پوچھا کہ سب سے اوپر کس کا نام درج ہے تو گائیڈ نے بتایا کہ سب سے اوپر جن قانون دان کا نام ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں چنانچہ آپ نے فوری اُسی درس گاہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
تعلیم مکمل کی واپس آئے وکالت کی اور پھر تحریک آزادی کی باگ ڈور سنبھالی۔مسلمانوں کے لئے الگ وطن کی خاطر دن رات محنت کی جب قائداعظم نے 1935ء میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تو مادر ملت فاطمہ جناح بھی سیاست میں فعال ہو گئیں۔انہوں نے مسلمان خواتین کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا۔
انہوں نے خواتین سے کہا کہ وہ اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کریں کیونکہ اُن کے تعاون کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن نہیں۔
پاکستان کا قیام عمل میں آگیا تو حضرت قائداعظم نے فرمایا پاکستان کا آئین قرآن مجید ہو گا میں نے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھا ہے۔
میرا پختہ یقین ہے کہ قرآن سے بڑھ کر کوئی اور آئین نہیں ہو سکتا میں نے مسلمانوں کا سپاہی بن کر پاکستان کی یہ جنگ جیتی ہے۔علماء قرآن کے عین مطابق پاکستان کا آئین تیار کریں۔
ابا جان نے کہا ہم یہ سب کس طرح بھول سکتے ہیں۔
میاں شوکت نے مرزا صاحب سے کہا آج ہمارے عظیم قائد کا یوم پیدائش ہے۔یہ دن ہمیں ہمارے عظیم رہنما کی یاد دلاتا ہے۔مرزا صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا مجھے ابھی تک یاد ہے قائداعظم نے لاہور میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعمیر پاکستان کی راہ میں مصیبتوں اور دشواریوں کو دیکھ کر گھبرائیے نہیں تازہ جوان اور نئی اقوام کی تاریخ میں کئی ابو اب ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں کہ انہوں نے محض قوت ارادی،عمل اور کردار سے خود کو بلند کر لیا۔
آپ خود بھی فولادی قوت کے مالک ہیں اور عزم و ارادے میں آپ بے مثال ہیں ۔مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ آپ دوسروں کی طرح اور اپنے اباؤ اجداد کی طرح کامیاب نہ ہوں۔آپ کو صرف مجاہدوں کاسا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔آپ ایک ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ شجاعت،بلند کردار اور آہنی ارادوں کے لوگوں اور کارناموں سے بھری پڑی ہے،اپنی شاندار روایات کے مطابق زندہ رئیے بلکہ ان میں عزم و ہمت کے ایک اور باب کا اضافہ کیجئے اور طالب علم خصوصی طور پر اپنی تعلیم پر دھیان دیں۔
اپنے آپ کو عمل کے لئے تیار کریں یہ آپ کا فریضہ ہے۔آپ کی تعلیم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ آپ دور حاضر کی سیاست کا مطالعہ کریں اگر آپ نے خود کو تعلیم یافتہ نہ بنایا تو نہ صرف آپ پیچھے رہ جائیں گے بلکہ خدانخواستہ ختم ہو جائیں گے۔
سچ کہا مرزا صاحب آپ نے قائداعظم کی باتیں تو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں انہی باتوں کو ہم تازہ کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔اسلم بیٹا تم کس سوچ میں گم ہو گئے ہو مرزا صاحب کو چاہئے تو ڈال کر دو۔اس کے بعد مرزا صاحب سے ان کا تازہ کلام سننا ہے مرزا صاحب کا کلام سن کر تحریک آزادی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں ۔
اسلام بیٹا تمہارے بزرگوں نے اس پاک وطن کے حصول کے لئے خون پسینہ ایک کر دیا۔تب جا کر ہمیں آزادی کی ہر نعمت ملی ہے۔
اسلم وہ سب باتیں یاد کرکے بہت اداس ہو جاتا تھا ابا اور مرزا صاحب کی بیٹھک اور ساری باتیں اور اس کا وہ ڈائری لکھنا سب یاد تھا۔
اس دن بھی ابا جان اور مرزا صاحب کی بیٹھک جاری تھی مرزا صاحب نے ابھی اپنا کلام سنانا شروع ہی کیا تھا کہ ریڈیو پر یہ اعلان نشر ہوا کہ پاکستان کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے ہیں۔یہ خبر سن کر مرزا صاحب پھوٹ پھوٹ کر خون کے آنسو رو دیئے۔
مرزا صاحب نے کہا آج مجھے انگریز پروفیسر کی کہی وہ بات یاد آگئی ہے جس نے اپنی کتاب میں قائداعظم کے بارہ میں کچھ یوں کہا تھا کہ کچھ رہنما سرحدیں تبدیل کر دیتے ہیں کچھ قوم کو بیدار کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں یہ کہہ کر مرزا صاحب نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنا سر میز پر رکھ دیا اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔
میاں شوکت نے کہا کہ ہم قائداعظم کو کیا منہ دکھائیں گے۔قائداعظم کے دیئے ہوئے پاکستان کے ہم نے دو ٹکڑے کر دیئے ہم سے ایک ملک بھی سنبھالا نہ گیا․․․آگے ملک کیسے چلے گا؟
اسلم نے قائداعظم کی تصویر کی طرف دیکھ کر کہا ہم بچے کھچے پاکستان کی حفاظت کریں گے۔پاکستان کی خدمت کے لئے ہماری زندگی وقف ہے۔نوجوانو!اٹھو اقبال کا شاہین بنو اور آگے بڑھو تب جا کر قائداعظم کی روح کو سکون ملے گا۔
پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں