علامہ محمد اقبال 11

ملت کو نئی زندگی اقبال کے بخشی

21 / 100

ملت کو نئی زندگی اقبال کے بخشی
خنساء سعید

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعتِ پر واز پر

علامہ محمد اقبال کی ملی شاعری میں مرثیہ خوانی کا رنگ موجود ہے، وہ مسلمانوں کی حالتِ زار کو دیکھ کر کڑھتے ہیں، مسلمانوں کو اپنے آباء کی عظیم الشان فتوحات کے بارے میں بتاتے ہیں اور ان کو حرکت و عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شارحین نےانھیں فلسفہ اسلام کا عظیم محقق اور دانائی کا سر چشمہ بتایا۔ مورخین نے ملت ِ اسلامیہ کا زبردست مصلح اور انقلاب آفرین تحریک سے معنون کیا۔ قوموں کے عروج و زوال پر اقبال کی فکر انگیز تحقیق کو روشنی کا مینار تسلیم کیا۔علامہ اقبال کی نظم نے سنگ ِ امروز کو آئینہ فردا کردیا۔ قطرہ شبنم بے مایہ کو دریا میں بدلنے، لیلی کے بیدار ہونے پر قیس کو آرزوئے نو سے شناساکرنے، خود جلنے اور دیدہ اغیار کو بینا کرنے کی تمنا لے کر اقبال یورپ سے لوٹے تو ان کی بانگِ درا نے ناتوانوں کو توانائیاں بخشیں، ان کی بال ِ جبریل نے مردہ قوم کے بدن میں روح پھونکی،ان کی ضرب ِ کلیم شعلہ طور بن گئی ،ان کی اسرارِ خودی نے کم نگاہوں کو ذوق ِنظر عطا کیا ۔
اقبال نے جب اس عالم رنگ و بو میں قدم رکھا تو تمام ایشیا پر خصوصامسلمانوں پر حزن و یاس کی کیفیت چھائی ہوئی تھی ۔مسلمانوں کے ذہنوں پر مغربی تہذیب اپنا جادو جگا رہی تھی، مسلمان اپنا تمام سرمایہ خود اپنے ہی ہاتھوں دوسروں کے ہاتھ دے چکی تھی ۔ایک طرف تاتاری یلغاروں اور چنگیزی یورشوں نے مسلمانوں کے ضمیر مردہ بنا رکھے تھے تو دوسری طرف طاغوتی طاقتیں ترکوں کونیست و نابود کر رہی تھیں اور مسلمان سر تا پاؤں زوال کی کشتی میں ہچکولے کھا رہے تھے ۔علامہ محمد اقبال نے اس بے حس اور سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے کا عزم کیا اور اس بیمار قوم کا علاج بھی تشخیص کر لیا ۔
شاعر مشرق کی نگاہ مسلمانانِ برصغیر کے ذہنوں پر سے پرواز کرتی ہوئی عالم اسلام کے شعور تک پہنچی توانھیں فورا پتہ چل گیا کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب جسمانی کاہلی سے زیادہ روحانی عشرت و جمود ہے جو انھیں تہہ و بالا کر رہا ہے. اقبال اس روحانی تعیش کو بدلنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو رازِ خودی سے آشنا کرنے لگے ۔

اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفق خا ور پر

بزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں

بانگِ درا کی ابتدائی نظموں مثلا “ہمالہ”،”صقلیہ “(جزیرہ سسلی )،”بلادِ اسلامیہ “اور “طلوع اسلام ” میں وہ ملی شاعری کرتے ہوئے دلی ، بغداد ، قرطبہ ،قسطنطنیہ غرض ایک ایک کا نام لے کر انتہائی رقت انگیز پیرائے میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ اور سطوت ِ پارینہ کا مرثیہ پڑھتے ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ مسلمانوں کو امید بھی دلاتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد “بالِ جبریل “میں “مسجد قرطبہ “میں کس خوبصورتی کے ساتھ امت مرحومہ کی تجدید و احیاء کا پیغام دیا گیا اور کیسے جذبہ پرور انداز میں ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی دعوت دی گئی۔در اصل اقبال کی ملی شاعری کا مثبت اور تعمیری پہلو جو انہیں ملت کے سابق مرثیہ خوانوں سے ممتاز اور ممیز کرتا ہے۔یہ کہ آپ کے ہاں صرف درد انگیز نالے ہی نہیں ہیں انتہائی ولولہ انگیز پیغام عمل بھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک شاندار مستقبل کی خوشخبری بھی ہے جس نے یاس اور قنوطیت کی ظلمت کا پردہ چاک کردیا اور دلوں میں امید کے چراغ روشن کر دیے۔
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

1857کے انقلاب سے پہلے مسلمانوں کے تمام حقوق سلب کیے جا چکے تھے. مسلمانوں کو جو آزادی حاصل تھی وہ صرف نام نہاد تھی ۔سامراجی طاقتوں کا تسلط تھا ۔انگریز اپنی مان مانی کر رہا تھا۔ مسلمانوں کی شبیہ ہندو ازم کے آئینے میں دھندلی تھی، وہ مسلمانوں کا تصور آزادی موہوم سمجھتے تھے۔ جب علامہ اقبال نے مسلمانوں کے دریدہ دامن کو پھیلا دیکھا تو اُن کے دل کوبہت ٹھیس پہنچی اور وہ مسلمانوں کو دوبارہ ان کا کھویا ہوا وقار واپس دلاتے ہوئے کہنے لگے۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

اقبال غلامی کے مخالف ہیں اور حریت کے حق میں ہیں۔ علامہ اقبال کے خیال میں وہ قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہو. اقبال کہتے ہیں غلامی کا طوق گردن سے اُتارنے کے لیےنہ فہم و فراست کی ضرورت ہو تی ہے اور نہ ہی عقل کی بلکہ دل میں جذبہ اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے ۔اقبال مسلمانوں کو عمل اور مسلسل عمل کا درس دیتے ہیں ۔ان کے نزدیک ایک مسلمان کی منزل آسمان سے بھی آگے ہے اور اس کے عمل کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔علامہ اقبال مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اگر ایک دفعہ بیداری تمہارا مقدر بن گئی تو پھر زمین و آسمان کی تمام تر وسعتیں تمہارے سامنے سمٹ کر رہ جائیں گی ۔منزل کو پانے یعنی گردوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اگر کوئی قوم سعی کرے تو ستارے اس کے راستے کی خاک بن کر رہ جاتے ہیں اور وہ قوم جلد ہی رفعتوں سے ہم کنار ہو جاتی ہے اسی بنا پر اقبال کہتے ہیں۔

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے

اقبال اسلاف کے کارناموں کو حرف ِشیریں کی طرح ذہن میں بٹھا دیتے ہیں ۔بلال حبشی کی دنیا سے لے کر محمد بن قاسم کی کم سنی کے تمام کارہائے نمایاں ان کے قلم سے آج بھی ٹپک رہے ہیں جو مسلمانوں کے لیے درس عبرت اور مقام رشک بھی ہیں ۔ملت کو نئی زندگی بخشنےوالے علامہ محمد اقبال کبھی سومنات کے مندر میں غزنوی سے بت پاش پاش کراتے ہیں اور کبھی طارق بن زیاد کی کشتیاں ساحل پر جلتے ہو ئے دیکھتے ہیں ۔کبھی مغرب کی تقلید کے خلاف جہاد کرتے ہیں اور کبھی مسلمانوں کے سامنے کھڑے یہ انکشاف کرتے ہیں کہ :

یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں