برآمدات میں اضافہ 21

معاشی اشاریے مثبت سمت میں

59 / 100

معاشی اشاریے مثبت سمت میں
وزیر اعظم عمران خان نے تمام معاشی اشاریے مثبت سمت میں ہونے کی اطلاع دی ہے ۔قومی رابطہ کمیٹی برائے سمال اینڈ میڈیم اینٹر پرائزز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو فروغ دے کر معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے روزگار کے مواقع بڑھنے ، بے گھروں کو گھر فراہم کرنے کے ساتھ راوی وربن منصوبہ اور آئی لینڈ منصوبے کو مستقبل قریب میں معاشی حوالے سے اہم قرار دیا ۔ رواں برس کے آغاز میں اقوام متحدہ نے پاکستانی معیشت میں بہتری سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی عا لمی معاشی صورتحال و امکانات 2020 کے نام سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ترقی کی راہ پر واپس گامزن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان مسلسل اصلاحات پر عمل کے ساتھ انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک صلاحیت بڑھانے میں سرمایہ کاری کرے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان ادائیگیوں میں توازن کے بحران اور بڑی تعداد میں عوامی قرضوں کے بوجھ سے نبردآزما ہے جس کی وجہ سے اسے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا، افراط زر اور سیکیورٹی خدشات نے مقامی طلب اور نجی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا ہے اور حکومت کی اس سست روی کو دور کرنے کی صلاحیت مالی مشکلات کی وجہ سے اثر انداز ہورہی ہے۔ پاکستان کو ڈالر کی قیمتوں میں غیر یقینی پن نے متاثر کیئے رکھا ۔یہ سابق حکومت کی خراب کارکردگی تھی جس کا خمیازہ نئی حکومت نے بھگتا۔یکم جنوری 2020ء کو پاکستان میں ڈالر کی قیمت تقریباً 154 روپے تھی اور دسمبر 2020ء میں اس کی قیمت تقریباً 160 روپے کے آس پاس ہے۔ لیکن اس ایک سال میں ڈالر کی قیمت 170 کے قریب بھی پہنچی تھی۔ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کی وجہ آئی ایم ایف سے کیا گیا معاہدہ ہے۔ اس کے تحت اسٹیٹ بینک ڈالر کو کنٹرول نہیں کرے گا اور طلب اور رسد کی بنیاد پر مارکیٹ خود ہی قیمت کا تعین کرے گی۔ حکومت نے ڈالرز کے ذخائر بڑھانے کے لیے جو قانون سازی کی ہے اس نے ملک میں روپے کی قدر کو مضبوط کیا ہے۔۔ حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ڈالر اکاوئنٹس پر 7 فیصد تک منافع کی پیشکش کی ہے جبکہ باقی دنیا میں یہ شرح 0.5 فیصد سے ایک فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بیرونِ ملک بیٹھے پاکستانیوں کو آسان شرائط پر آن لائن اکاونٹ کھلوانے کی سہولت مہیا کی گئی۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے مطابق پاکستان روزانہ تقریباً 20 لاکھ ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں وصول کر رہا ہے اور 23 نومبر 2020ء تک پاکستان تقریباً 16 ارب روپے حاصل کرچکا ہے۔پاکستان کو کورونا کی وبا کے باعث قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف ملا ہے۔ پاکستان جی20 ممالک سے بھی تقریباً 80 کروڑ ڈالر قرضوں کی ادائیگیوں میں وقت لینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔اس سے بھی مالیاتی مسائل کو سنبھالنے میں مدد ملی۔ بلا شبہ ترقی یافتہ ممالک وہ ہیں جن کے تاجر خوشحال ہیں۔ اگر آپ دنیا کو اپنی چیزیں بیچ نہیں سکتے تو آپ چاہے بے پناہ ذخائر کے مالک ہی کیوں نہ ہوں آپ معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوسکتے۔تحریک انصاف کی حکومت نے بھی برآمدات بڑھانے کے دعوے کیے تھے جس میں خاطر خواہ اضافہ دکھائی نہیں دیا۔ اگر پچھلے 12 ماہ کی بات کی جائے تو نومبر 2019ء میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 2 ارب ڈالر تھیں اور نومبر 2020ء کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ان کے مطابق برآمدات میں صرف 7.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ایک سال میں یہ کارکردگی زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہی، ممکن ہے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ اور کورونا کی وجہ سے حکومت غیر معمولی دباو میں رہی ہولیکن ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں معاشی سرگرمیاں کم عرصے تک بند رہی ہیں۔ اس وقت ٹیکسٹائل کی صنعت نے کاروباری بحالی کی ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے قوم کی امید جگا دی ہے ۔ دوسری طرف زرعی شعبہ مزید توجہ چاہتا ہے ۔رواں برس کپاس کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت کم ہوئی ہے۔ اس کی وجہ کسانوں کی کپاس کیکاشت میں عدم دلچسپی ہے۔ ناقص بیج ، مہنگی ادویات اور مارکیٹ سہولیات کم ہونے جیسے مسائل کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں ۔فی ایکڑ پیداوار اتنی کم ہوتی ہے کہ کسان کو جیب سے پیسہ لگانا پڑ جاتا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس لیے یہاں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ ٹیکسٹائل میں یہ کیسی بہتری ہے کہ ایک جانب برآمدات بڑھنے کی بات کی جارہی ہے اور دوسری جانب کپاس کی درآمدات بڑھ گئی ہیں۔ جس شعبے پر ہمیں سب سے زیادہ فخر ہے اگر وہاں یہ صورتحال ہے تو باقی شعبوں کے بارے میں بہتری کی امید کرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ حکومت نے برآمدات کو بڑھانے کے لیے پاک افغان تنازعات کو کم کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ اکتوبر 2020ء میں افغانی وفد پاکستان آیا اور تجارت بڑھانے کی بات ہوئی۔ نومبر 2020ء میں وزیرِاعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد افغانستان پہنچے ۔ وزیرِاعظم عمران خان بھی افغان صدر سے ملاقات کی۔ اس دورے سے تجارت کے راستے میں موجود بہت سی رکاوٹیں ختم ہوئیں۔ سب سے اہم موضوع پاکستان کے ٹرکوں کو ازبکستان، تاجکستان اور آزربائیجان تک براہِ راست رسائی دینے سے متعلق تھا۔ اطلاع ہے کہ اس معاملے پر کافی کام ہوچکا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں افغان امن عمل کامیاب ہونے پریہ راستے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے جس سے برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں