101

معاشرتی بگاڑ کے اسباب اور ان کا سدباب.آصف طاہر

معاشرتی بگاڑ کے اسباب اور ان کا سدباب
آصف طاہر
معاشرہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے مل جل کر زندگی بسر کرنا ،اصطلاح میں اس سے مراد لوگوں کا وہ گروہ ہے جو کسی مشترکہ نصب العین کی خاطر وجود میں آیا ہو۔ کسی معاشرے کے افراد میں مشترکہ فکری سوچ ،وحدت عمل ،ذہنی یکجہتی کا ہونا بڑا ضروری ہے اس قسم کے معاشرے میں جغرافیائی حد بندیوں کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی ۔ اس طرح معاشرہ کثیر التعداد بنی نوع انسان کی وہ جماعتی زندگی ہے جس میں ہر فرد کو رہنے سہنے اور ترقی ،حصول مقصد اور فلاح و بقاکے لیے دوسروں سے واسطہ پڑتا ہے اور جس ماحول سے کسی فرد بشر کو ضرر نہیں ،معاشرہ کہلاتا ہے ۔ (اردو جامع انسائیکلوپیڈیا)
لوگ جہاں مل جل کر رہنے لگیں وہاں معاشرہ وجود میں آتا ہے یعنی افراد سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔جیسےمرید ہندی علامہ محمد اقبال ؒ بڈھے بلوچ کی نصیحت میں فرماتے ہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ (ارمغان حجاز)
جرائم جریمۃ کی جمع ہے ۔جس کا معنی قصور ،خلاف قانون حرکت اور قابل سزا فعل کے ہے ۔کسی عاقل بالغ شخص کا شعوری طور پر قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم کہلاتا ہے .(اردو جامع انسائیکلوپیڈیا)
موجودہ دور میں جرائم ایک عام معمول اور معاشر ےکا جزو لازم بن گیا ہے ۔،وہ جرائم خواہ اخلاقی ہوں یا جنسی طور پرہوں یا لوٹ مار،قتل ،ڈکیتی سے متعلق ہوں،علاقائی اور شہری سطح پر ہوں، یا ملکی و بین الاقوامی ،اس کی زد سے نہ انفرادی زندگی مخفوظ ہے نہ اجتماعی ،آج پورے عالم میں جرائم اوربد اخلاقی کا تناسب بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہاہے،آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی کثرت کا جو عالم ہے ، وہ کسی بیان اور وضاحت کا مختاج نہیں ،ایسا لگتا ہے گویا پورا معاشرہ جرائم کی لپیٹ میںآنے لگا ہے ،آج نامی گرامی دانشور اور مہذب تعلیم یافتہ سے لے کر ان پڑہ ،گنوار تک ہر کوئی اپنے اپنے زاویے سے اس کے اصل محرکات واسباب کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے ،کوئی بے روزگاری کو وجہ قرار دیتا ہے کوئی کہتاہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معاشرہ جرائم کی زد میں ہے ،کوئی سیکیورٹی کے صحیح انتظامات نہ ہونے کو اس کا اصل سبب گردانتاہے ۔
اگر صرف یہی چیزیں جرائم میں اضافہ کا سبب ہوتیں تو پھر ان ممالک میں جرائم کا ارتکاب ہر گز نہ ہوتا ، جہاں نہ بے روزگاری ہے نہ نطم و ضبط کا کوئی تغیر ہے ،جہاں مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا ، اس کے باوجود بھی اگر وہاں جرائم کی سالانہ رپوٹ ملاحظہ کی جائے تو انسانیت کانپ اٹھتی ہے ،حال ہی میں مغرب میں جرائم کی شرح کے بارے میں سالانہ رپوٹ شائع ہوئی ہے ، اس میں بتایا گیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ جرائم امریکہ ہی میں ہوتے ہیں ۔
ہر معاشرے کاایک دستور ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ معاملات کو انہی اصولوں کے تحت انجام دیتے ہیں۔ اگر معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہ رہے تو معاشرے میں عدل نا پیدہو جاتا ہے۔جرائم کا پھیلاؤ عام ہو جاتا ہے۔عوامبدحالیاورناانصافیکاشکارہوجاتیہے۔جسکیوجہسےلوگوںمیںاحساساورذمہداریکاخیالنہیںرہتا معاشرہ ذلت و رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔آج بڑھتے ہوئے جرائم کے نوجوان نسل پر جس قدر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ شرح خواندگی کا بہت کم اور ہماری عملی تربیت کا اسلامی طرز زندگی کے اصولوں کے عین مطابق نہ ہونا ہے۔ اسلام میں ملت کی بقاءکیلئے معاشرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کیلئے اسلام نےقوانین بھی وضع کئے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ہم مسلمان اپنی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم نے اسلام سے دوری اختیار کی ۔ جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ جھوٹ، قتل و غارت، فریب اور چوری، رشوت خوری، سود اور شراب نوشی اور دوسروں کی حق تلفی جیسی برائیاں جنم لے چکی ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ حکومت ان جرائم کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات عمل میں نہیں لا رہی ہے۔بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری نے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوںکو انا کا مسئلہ بناکر رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے جو ہنگامی صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔ آج اسلامی تعلیمات سے دوری نے ہمارے ذہنوں کو اس قدر مفلوج کردیا ہے ۔ کہ حلال حرام، سچ اور جھوٹ، کی تمیز نہیں رہی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو کر ہم قبیح جرائم میں ملوث ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تباہی کی نظر ہو چکا ہے۔ کرپشن اور لوٹ مارنے معاشرے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ہر فرد زندگی کی آسائشوں کو ڈھونڈنے کیلئے کرپشن میں ملوث ہو رہا ہے۔ اسی طرح نشے جیسی بد ترین برائی بھی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔بہت سے لوگ ذہنی سکون حاصل کرنے کیلئے نشہ کی لعنت میں مبتلا ہیں جوکہ غیر اخلاقی جرم ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی۔ دین اسلام سے دوری نے صحیح اور غلط میں پہچان ختم کردی ہے۔ معاشرے میں تعلیم کا فقدان اور بہترین آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے دلخراشواقعات جنم لے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی اور عملاً اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے،جس طرح ہر چیز کے پیدا ہونے کےجواز ہوتے ہیں اسی طرح جرائم کے پیدا ہونےکے بہت سے اسباب ہیں ۔ ان میں سے چند چیدہ چیدہ اسباب درج ذیل ہیں جو معاشرتی بگاڑ کے اسباب مہیا کر رہے ہیں اور ان کے اصلاح کی تجاویز بھی فقیر کی ناقص رائے کیمطابق قارئین کی نظر کی جارہی ہے ۔
1۔خوف خدا اور فکر آخرت
آج ہمارا معاشرہ جن لا ینحل مسائل کی زد میں ہے اسکی ایک بڑی وجہ خوف خدا سے غفلت اور فکر آخرت کو ترک کرنا ہے ہم نے اس ناپائیداردنیا کو مقصود و مطلوب بنایا ہے اور آخرت کی دائمی اور نہ ختم ہونے والی زندگی کو بھلایا ہے انہی اجتماعی گناہوں ،غفلتوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں کہ آج پورا معاشرہ جرائم کی لپیٹ میں ہے اور نت نئے مسائل کا سامنا کر رہاہے ۔ بقول ساغر صدیقی
نہ خوف خدا ہے ،نہ خوف خدائی
بشر دے رہا ہے،بشر کی دہائی (کلیات ساغر)
اگر آج بھی لوگوں کے دل ودماغ میں یہ حقیقت راسخ کردی جائے کہ زندگی صرف اس دنیا تک محدود نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی زندگی ہوگی ،جس میں لوگوں کے حقیقی معنوں میں کامیابی اور ناکامی کا اعلان کیا جائے گا ، تو صرف ایک چیز ہے جو انسانوں کو تنہائی میں بھی مجرمانہ سرگرمیوں سے باز رکھنے پر مجبور کرسکتی ہےوہ ہے فکر آخرت۔ بعثت نبوی ﷺسے پہلے کا زمانہ دور جا ہلیت اور تاریک دور کہلاتا ہے جس میں انسانیت دم توڑ چکی تھی ، انسان اپنی پہچان کھو بیٹھاتھا ،ہر طرف قتل و غارت گریو فساد کا بازار گرم تھا ، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی ، اس کی آبرو و عزت محفوظ نہ تھی ، زنا روز کا معمول تھا ، لیکن جب حضور ﷺ تشریف لائے ، لوگوں کے دل و دماغ پر محنت کی تو پھر وہی جزیرہ جو جرائم کی آگ میں جل رہا تھا ،وہاں جرائم کا خاتمہ ہوا ، اور امن ومحبت کی بہاروں اور رحمت خداوندی کے نزول کا مرکز ٹھہرا۔وہ خطہ جو جرائم کی آماجگاہ تھی تاریک بستیوں کیلئے روشنی کا مینارہ ثابت ہوا۔
حقیقت میں کرۂ ارض پر فساد و بگاڑ کااہم سبب منعم حقیقی کی ناشکری و نافرمانی ہے، اس کے احکامات سے کھلی بغاوت اورنافرمانی ہے۔
اللہ پاک کتاب لاریب میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں سے کی ہوئی بداعمالیوں کی وجہ سے فسادوبگاڑ پھیل رہا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھا دے، شاید کہ وہ باز آجائیں(سورہ الروم:41) ایک دوسرے مقام پر کتاب مبین میں ارشاد رب العالمین ہے “اور جو کچھ مصیبتیں تمہیں پہنچتی ہیں وہ دراصل تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے اور بہت سی باتوں کو تو وہ معاف فرما دیتا ہے ” (الشوری:30)
یعنی بگاڑ کا اصل سبب اللہ رب العزت کےاحکام سے روگردانی ہے ۔ان حالات میں یقینا ایمان اور اعمال صالحہ اس دنیا کو امن و آمان کا گہوارہ بنا سکتے ہیں، انفرادی طور پر ایک انسان کی نیکی و پارسائی اور بحیثیت مجموعی پورے معاشرہ میں نیکی و پرہیزگاری ، صلاح و تقویٰ کی پاسداری بہتروپرامن معاشرہ کی ضمانت ہے۔جب ایسے انسان معاشرےمیں بکثرت ہوں گے تو وہاں اللہ کے گھر آباد ہوں گے ، سارے ماحول میں عبادات و ریاضات اور احکام الٰہیہ کی پابندی کا نور جگمگائے گا، عدل و انصاف، رواداری، پیارومحبت، امانت و دیانت، اخلاص و رضاجوئی کے انوار بکھریں گے، اسکی وجہ سے معاشرہ سکون و اطمینان کا مظہر بنتا ہےجبکہ بندگانِ خدا کی حق تلفی، ظلم و زیادتی، نارواتعصب و دشمنی، قتل و غارت گری و خونریزی ان سب کا رشتہ بے دینی سے جڑا ہوا ہے، جسکا جتنا تعلق اللہ سے کٹے گا اتنا ہی اسکا تعلق ان بداعمالیوں سے جڑے گا، نتیجہ میں معاشرہ کا سکون درہم برہم ہوگا۔اس وقت سارے عالم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ حقوق اللہ بھی پامال ہورہے ہیں اور حقوق العباد بھی، مساجد اور عبادتگاہوںکا احترام ختم ہوتا جارہا ہےاور اللہ کی کتاب قرآن مجید کی تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کیاجارہا ہے، غلط تاویلات کا سہارا لیکر انسانی جانوں سے کھیلا جارہا ہے ، قتل و خون اور انسانی جانوں کا ضیاع وہ بھی اسلام کا سہارا لیکر کیا جارہا ہے، یہ جوکچھ تماشہ ہورہا ہے وہ اپنوں کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے ۔ اگر مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشکی و تری کے سارے خطے اس وقت امن و سکون سے محروم ہیں، اس مصیبت کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود انسانوں کے پاس ہے، انسان جس دن الٰہ واحد کے حقیقی معنی میں پرستار بن جائیں گے اُسی دن وہ رحمت الٰہی کے سائبان میں آجائیں گے ، اور ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہسے آنے والے سارے خطرات ٹل جائیں گے۔ الغرض اس دنیا کومصائب وآلام سے چھٹکارہ دلانے اور اس کو گہوارۂ امن و سکون بنانے کی ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے اسلام۔معاشرتی بگاڑ کے اسباب بارے ممبر اقلیتی کمیشن پاکستان وسربراہ جماعت اہل حرم پاکستان مفتی گلزار احمد نعیمی کہتے ہیں کہ “قوموں میں فساد اپنی روایات سے انحراف ،اور دوسروں کی روایات کی تقلید سے آتا ہے ۔بقول اقبال
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین ومروت کیخلاف
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ،ملت کے گناہوں کو معاف (ضرب کلیم)
ہمارےتعلیمی ادروں میں دینی و مشرقی روایات کا فقدان ہے کیا وجہ ہے ایک بچہ اچھا انجینئر اور ڈاکٹر تو بن جاتا ہے لیکن اچھا مسلمان نہیں بنتا اس کی بنیادی وجہ اسلام کے بنیادی اصول تعلق باللہ میں کمزوری ہے ۔جب معاشرتی بگاڑ کے اسباب اور ان کے سد باب بارے سیدی حضور غریب نواز حضرت داتا گنج بخش ؒ کےمزار مبارک کے کلید بردار مولانا غلام فرید الحسنی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ”معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب ہے فکر آخرت اور خشیت الہی کا ہمارے دلوں سے مفقود ہو جانا ہے ۔اگر ہم معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ رب العزت سے اپنا رشتہ مضبوط کریں”۔
2۔ اتحاد ویگانگت کا فقدان
اتحاد و یکجہتی کی کمیابی بھی معاشرے میں جرائم کی پیداوارکا سبب ہے حالات کچھ اس نہج پر آگئے ہیںکہ ہر فرد ذاتی مفادات کے حصول کیلئے کو شاں ہے ، ایک دوسرے کی خبرگیری نہیں ، ہرفرد خود غرضی اور خود فریبی کے جنون میں مبتلا ہے ۔باہمی اعتماد کی کمی اور نظریاتی انتشار نے جرائم پیشہ عناصر کو جرائم کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے ۔ حالانکہ اسلام ہمیں باہمی اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتا ہے، اور ایک دوسرے کی ایذا رسانی سے منع کرتا ہے اس لئے اللہ وحدہ لا شریک فرماتے ہیں کہ”ایک دوسرے کی مدد نیکی اور تقوی میں کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو “( سورۃ االمائدہ:2)
معزز قارئین! اسلام کے نزدیک لڑائی جھگڑا کرنے والے لوگ فساد کی جڑ ہوتے ہیں اور انہیں کوئی بھی فرد ( خواہ اس کا تعلق کسی بھی معاشرے سے ہو ) تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔اسی بنا پر اللہ تعالی نےسورۃ الحجرات میں ارشاد فرمایاکہ” بے شک مسلمان (باہم ) بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “(سورۃ الحجرات:11)جان کائنات ﷺحضرت انس ؓسے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ” کوئی شخص مومن (کامل ) نہیں ہوسکتا تاآنکہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے “(صحیح بخاری)
معاشرے کو مربوط ومنظم کرنے کیلئے اور انتشار کی جڑ کاٹنے کیلئے اتحاد و یگانگت کا فروغ ضروری ہے۔
3۔معاشرے کا غیر ذمہ دار انہ رویہ
ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ خود تو جرائم سے بچنے کا اہتمام کرتے ہیں مگر جو لوگ مجرمانہ زندگی کی خطرناک لہروں میں پھنسے ہوئے ہیں ،ان کو اس برائی کے بھنور سے نکالنے اور بچانے کی فکر نہیں کرتے ،یہ ایسی اجتماعی غلطی ہے جو عام ذہنوں میں رچ بس گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم خواہ قتل وغارت ،ڈکیتی اور اغواء کی صورت میں ہو ں یا لسانی فسادات اور مختلف قسم کی دہشت گردی کی صور ت میں ہوں ، روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں لیکن ان کے سد باب کا اہتمام افراد معاشرہ سے نہیں ہو رہا ہے ۔ جرم لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔لیکن وہ اسکی روک تھام کیلئے رد عمل سے گریز کرتے ہیں۔ حضرت خاتم النبیبن ﷺ کےفرمان میں معاشرے کی غیر ذمہ داری بارے واضح انداز میں وعید آئی ہے ۔حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حدود الہیہ میں سستی اور نرمی کرنے والوں اور حدود الہیہ کو توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے کہ “کچھ لوگ ایک کشتی میں سوار ہوے اور کشتی کی نشستوں میں تعین کے لیے قرعہ ڈالا ، چنانچہ ان میں سے کچھلوگ کشتی کی بالائی منزل پر بیٹھے اور کچھ نچلی منزل میں تھے ،نچلی منزل والےپانی لینے کے لیے اوپر والی منزل میں جاتے تھے ،جس کی وجہ سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی ، پس نچلی منزل والے ایک شخص نے کلہاڑا لے کر کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کرنا شروع کردیا ، جب اس سے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو تواس نے جواب دیا کہ میرے آنے جانے سے آپ حضرات کو تکلیف ہوتی ہے اور ہمیں بہر حال پانی کی ضروت ہے ، اس لیے میں نے سوچا کہ کشتی کے نیچے سے سوراخ کر لوں تاکہ یہاں سے پانی لے لیا کروں ، اب اگر یہ لوگ اس سوراخ کرنے والے کا ہاتھ پکڑ لیں اور اسے سوراخ کرنے سے باز رکھیں تو اس کو بچالیں گے اور خود بھی بچ جائیں گے اور اگر اس کو اس حال پر چھوڑ دیا تو یقینا اس کو بھی ڈبوڈدیں گے اور خود بھی ڈوب جائیں گے ۔(صحیح بخاری)
اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے مثال سے سمجھا یا کہ پورا معاشرہ ایک ہی کشتی میں سوار ہے جب یہ کشتی جرائم اور گناہوں کے سوراخوں کی وجہ سے ڈوبے گی تو صرف گناہ گار ہی غرق نہیں ہوں گے بلکہ یہ کشتی نیک وبد سب کو لے ڈوبے گی ۔
حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کی حمد وثنا ءکے بعد فرمایا لوگو!تم یہ آیت :
(ایمان والو! تم اپنی فکر کرو ،جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی سے کوئی ضرر نہیں ہوگا(سورۃ المائدہ:105) )پڑھتے ہو ، تم اس آیت کا مفہوم غلط لیتے ہو کہ ہم پر دوسروں کو گناہوں سے روکنا ضروری نہیں ،صرف اپنی فکر کرنی چاہیے ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو عذاب عام میں مبتلا کردیں ۔ ( جامع ترمذی)
اسی طرح سنن ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بنی اسرائیل جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو روکا ، تاہم وہ باز نہ آئے ، تب بھی ان کے علماء نے ان مجرموں کے ساتھ کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا جاری رکھا ،پس اللہ تعالی نے سب کے دلوں کو ایک دوسرے کے مشابہ کردیا اور حضرت داؤد علیہ سلام اور حضرت عیسی علیہ سلام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی کیونکہ بنی اسرائیل نافرمان تھے اور حد سے نکل جاتے تھے ۔حضور ﷺ نے جب یہ بات ارشاد فرمائی ، اس وقت آپ ﷺٹیک لگائے ہوئے تھے ، پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، تم معذور قرار نہیں دیئے جاسکتے اور نہ ہی عذاب الہی سے بچ سکتے ہو، یہاں تک کہ تم ان گناہ گاروں کو حق پر مجبور کرو ۔( سنن ابی داؤد)
مسلم شریف کی روایت میں کچھ اس انداز سے افراد معاشرہ کو جرائم کی روک تھا کا حکم ہے کہ “جو کوئی تم میں سے برائی کو دیکھےتو اس کو ہاتھ سے روکے ،اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے ،اگر اس کی بھی قدرت نہ ہوتو دل میں برا جانے یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے” (صحیح مسلم)
ان احادیث مقدسہ سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عذاب الہی سے بچنے کے لیے صرف خود نیک ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق جرائم پیشہ افراد کو جرائم سے باز رکھنا ، ان کا ہاتھ روکنا ، انہیں قبول حق پر مجبور کرنا بھی ضروری ہے ، کیونکہ جرائم پیشہ افراد کا بغیر روک ٹوک کے کھلم کھلا جرم کرنا پورے معاشرے کا یہ اجتماعی جرم ہے جس پر اجتماعی عذاب و وبال نازل ہوتا ہے ۔آج ہم سب اس اجتماعی جرم کے مرتکب ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد معاشرہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور ہر فرد اپنی بساط کے مطابق جرم کی روک تھام کی کوشش کریں۔
4۔غربت
معاشرتی بگاڑ کے اسباب میں کچھ حد تک غربت کا بھی عمل دخل ہے جب لوگوں کو جائز طریقے سے ضروریات زندگی پورا کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو ایسی حالت میں لوگ عملی زندگیمیں پنپنے کیلئے جرائم سے وابستہ ہو جاتے ہیں ، احساس کمتریان کو جرائم کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ۔” حضرت انس ؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کبھی کبھار آدمی غربت کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوجاتاہے،اور کبھی کبھار حسد تقدیر پر غالب ہوجاتاہے”(البیہقی فی شعب الایمان)
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: اے اللہ میں کفر اور فقر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔(سنن نسائی)
حکومت وقت کی ذمہ داری اس معاملے میں مزید بڑھ جاتی کے غربت مکاؤمہم ( نہ کہ غریب مکاؤ)پر جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عالمی بینک کی رپورٹ کیمطابق ” پاکستان میں غربت کی شرح 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4فیصد ہو گئی ہے اور پاکستان میں غربت کا تناسب 39.3 فیصد ہے “( مہتاب حیدر،روزنامہ جنگ ،لاہور،20جون2021) بہت سے لوگ کرپشن،چوری وڈکیتی کی وارداتیں صرف غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کرتے ہیں ۔
5۔انصاف کی عدم فراہمی
عدل اور انصاف کی بلا تعطل فراہمی بہترین معاشرے کے لیئے نہایت ضروری ہے اور اس کا فقدان نہ صرف معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے بلکہ بعض اوقات ریاست کی بنیادوں کو بھی ملیامیٹ کر دیتا ہے ، اللہ تعالی نے ایک ریاست کے قاضی یا جج کو عدل واحسان کرنے اور صحیح فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ “اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے” ۔ ( سورۃ النحل:90) سورۃ النساءمیں اللہ تعالی کا ارشاد ہے
“بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو “۔ ( سورۃ النساء:58)
جس معاشرے سے عدل وانصاف اٹھ جائے اس معاشرے میں طر ح طرح کی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں جن میں سب سے خطرناک برائی جرائم ہے جو کہ معاشرے کے لیئےزہر قاتل ثابت ہوتی ہے ، اگر ہم آس پاس اپنے ملک و معاشرے میں) نظر دوڑائیں تو بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی کا شدید فقدان ہے۔جیونیوز کی ایک رپورٹ کیمطابق “پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت زیر التو کیسز کی تعداد21 لاکھ، 59 ہزار 655 ہیں”(جیو نیوز،18جون 2021) اتنی بڑی تعداد میں کیسز کا التوا کسی بھی ترقی پذیر ملک کیلئے باعث خیر نہیں کیونکہ جب کوئی معاشرہ کسی کو انصاف فراہم نہ کر سکے تو ظلم سے متاثر ہ شخص انتقام کی آگ میں جلنے لگتا ہے اور پھر وہ حصولِ انصاف کے لیئے خود میدان میں نکل آ تا ہے اورانتقامی کاروائی کے بعد وہ سزا کے خوف سے معاشرے میں واپس نہیں آتا اور جرائم کی تاریک دنیا میں پناہ لیتا ہے اور وہاں مفاد پرست لوگ پناہ دینے کے بہانے اسکو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں اور وہ انفرادی جرم کی ابتداء کر بیٹھتا ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ رفتہ رفتہ اسکے ساتھ مزید لوگ ملتے جاتے ہیں اور ایک گروہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور یوں اجتماعی جرائم کا ایک نیا باب وجود میں آجاتا ہے اور پھر معاشرہ جس ناسورکی پرورش کا ذمہ دار ہوتا ہے اسکے خاتمے کیلئے تمام تر توانائیاں صرف کرنے لگتا ہے اور اسکے ساتھ حکومت کی تما تر توجہ اور وسائل ان جرائم پیشہ عناصر اور ان کی کارروائیوں کو روکنے میں صرف ہونے لگتے ہیں۔معاشرے سے نا انصافی، رشوت اور ظلم کا خاتمہ ہی ایسی تلوار ہے جو کہ جرائم کی شرح کو بہت نیچے لاسکتی ہے، اور اس کے لیئے حکومت کو مخلص ہو کر متعلقہ اداروں سے کام لینے کی بے حد ضرورت ہے۔ جس معاشرے میں جرائم کی سطح آ خری حد کو چھو رہی ہو وہاں کبھی معاشی خوشحالی نہیں آ سکتی اور نہ ہی وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔
6۔بیروزگاری
مملکت خداداد پاکستان میں مستقل روزگار والے لوگ کم ہیں ،اچھے پڑے لکھے طبقے کو بھی ملازمت حاصل کرنا دشوار بن گیا ہے ، بے روزگاری سے تنگ آکر لوگوں میں لاقانونیت کا رجحان پیدا ہوتا ہے ۔بے روزگاری اکثر وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے ہی وجود میں آتی ہےسو بھوک اور بے روزگاری کی چکی میں پسنے والے لوگ اکثر جرائم کی طرف چل نکلتے ہیں ۔ضروری نہیں کہ وہ بندوق ہی اٹھائیں،جعلسازی ، اسمگلنگ ، منشیات فروشی اور ایسے دیگر جرائم سے وابستہ لاکھوں لوگوں کی نوے فیصد سے بھی زیادہ تعداد بے روزگاری سے تنگ آکر اسطرف چلی آئی ہے اور پھر اس دلدل میں ایسی دھنسی کہ نکلنا دو بھر ہو گیا ۔پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ” پاکستان میں ایک کروڑ لوگ بیروزگار ہیں جبکہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 15 فیصد ہے “۔(روزنامہ جنگ ،لاہور،11جون 2021)فقیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر آدمی کو سرکاری نوکری دینا ہی حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزگار کے صاف شفاف اور رشوت سے پاک مواقع اور ساز گار ماحول پیدا کرے اس مقصدکیلئے مختلف صنعتوں اور تجارتوں کو فروغ دے ،کارخانے اور فیکٹریاں قائم کرے ، قرض جو کہ بینکوں کے ذریعے دیئے جاتے ہیں ( روزگار کے لئے) ان کی ترسیل عام ضرورت مند لوگوں تک انصاف کی بنیاد پر یقینی بنائے ۔ مفاد پرست پالیسی میکرز جو کہ لمبی اور مشکل پالیسیاں بنا کر مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں ان پر کڑی نظر رکھے اور ان عہدوں پر مخلص اور اہل لوگوں کو تعینات کرے اور بینکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں کو رشوت اور سفارش کی لعنت سےپاک کرے اوران بد عنوانیوں میں ملوث لوگوں کوکڑی سے کڑی سزا دیکر عبرت کا نشان بنائے ۔
7۔شرح خواندگی کی کمی
تعلیم کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے اور تعلیم کا فقدان کسی معاشرے میں برائیوں اور دقیانوسی روایات کا موجد ہوتا ہے۔ جرائم کی پیداوار میں ایک سبب تعلیم کا فقدان یعنی شرح خواندگی کی کمیبھی ہے۔اقتصادی سروے کی 2021۔2020 کی رپورٹ کیمطابق پاکستان کی شرح تعلیم 60 فیصد پر مستحکم ہے “(ڈان نیوز، 11جون 2021) اکثر جاہل افراد جرائم کی سماجی ،اخلاقی اور مذہبی قباحت سے ناواقفیت کے سبب بہت سے جرائم کے مرتکب ہوجاتے ہیں ۔
پرائمری تعلیم ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اسکی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے تعلیم کی عمارت کمزور رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو صرف پڑھنے لکھنے کا ہنر گردانا جاتا ہے جو کہ ایک غلط اور خطرناک سوچ ہے تعلیم میں جب تک تحقیق کو ایک خاص مقام نہ دیا جائے تعلیم فائدہ مند نہیں ہو سکتی اور اسی طرح تعلیم تربیت کے بغیر ادھوری ہے ۔اس حوالے سے ممتاز مذہبی رہنماسابق ممبر اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان ،ممبر سینڈیکیٹ کمیٹی،پنجاب یونیورسٹی لاہور و پرنسپل دارالعلوم جامعہ نعیمیہ ،لاہور ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کہتے ہیں “معاشرے میں بگاڑ کا ایک سبب تعلیم کیساتھ تربیت کا فقدان ہے ۔والدین اور اساتذہ کرام کو اخلاقی تربیت کا لازمی اہتمام کرنا ہوگا کیونکہ پڑھے لکھے لوگ بھی چوکوں ،چوراہوں میں گالم گلوچ،مار دھاڑ کرتے دیکھائی دیتے ہیں جس کا مظاہرہ کچھ عرصہ قبل ہم نے وکلاء اور ڈاکٹرز کی لڑائی میں دیکھا،جب کچھ قانون کے محافظوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں اور انسانی جانوں کے محافظ ہی انسانوں کے دشمنوں کے روپ میں نظر آئے،اس موقع پرتربیت کا شدید فقدان نظرآیا۔موجودہ حالات کے تناظر میں اخلاقیات کو نصاب کالازمی حصہ بنایا جائے تاکہ معاشرتی بگاڑ کی اصلاح ہو سکے”۔
8۔قانون کی گرفت کی کمزوری
محکمہ پولیس جو کہ بہت سے یونٹس پر مشتمل ہے،معاشرے میں امن وامان کا ذمہ دار ہے، لیکن ہماری پولیس کو جرائم کی روک تھام سے زیادہ برسرِ اقتدار حکومتوں نے ہمیشہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے، جس محکمہ کے سپاہی کے خوف سے کبھی بڑے بڑے عہد دار اور معاشرے کے سرکردہافراد کانپتے تھے آج ہماری حکومتوں کی غلط روش کے سبب اور محکمہ میں بے جاسیاسی مداخلت کی وجہ اس محکمے کے اعلیٰ افسران وڈیروں اور چوہدریوں کے سامنے ہاتھ باندھے گڑ گڑا کر پیٹی ( بیلٹ) بچاتے نظر آتے ہیں یو ں معلوم ہوتا ہیکہ وہ سرکار کے نہیں بلکہ ان لوگوں کے ذاتی ملازم ہیں ۔حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کی جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ ذہنی تربیت کا انتظام کرنا چاہئیےتا کہ انکی مینٹلی اپروچ امپروو ہو سکے اور وہ اس جدید دور میں جرائم کے جدید طریقوں سے بہتر طور پر نپٹ سکیں۔ مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی اداروں اور حکومت کی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اور جزاو سزا کے عمل کے نا ہونےیا نہایت سست ہونے کی وجہ سے لوگ جوق درجوق مختلف قسم کے گھناؤنے جرائم سے وابستہ ہو رہے ہیں جو کے بعد میں بڑے ملزم بن کر بڑے دہشتگردوں یا ان کے حواریوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ قیام امن اور ظلم و نا انصافی کو مٹانے کے لئےفوری اور مضبوط اقدامات کرے تو انشاء اللہ یہی اقدامات امن کے فروغ اور ملک کی بقا و سلامتی کے لئے نئی روح اور طاقت کا سبب بنیں گے۔ قانون جتنا سخت اور غیر لچک دار ہو تو لوگ جرم سے اتنا زیادہ بچیں گے ، اگر قانون نرم اور لچکدار ہو تو مجرم جرم کے ارتکاب سے نہیں گھبرائے گا ، مملکت خداداد میں مختلف وجوہات کی بناء پر قانون کی گرفت ڈھیلی اور غیر مؤثر ہے یہی وجہ ہے کہ آج تقریبا ہر فرد کی طبیعت میں بدمعاشی اور قانون شکنی اور خود انتظامی کا تصور پایا جاتا ہے ، لوگوں کے دل ودماغ میں یہ بات موجود ہے کہ حکومت وعدالت کے پاس انصاف نہیں ، جس کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے ۔
9۔جیلوں کے نظام پر توجہ
جرائم کے تدارک اور معاشرہ سے بدامنی کو دور کرنے میں جزاوسز اکی ضرورت مسلم ہے ، جس کے لئے مجرم کو جیلوں میں قید کرنے کا نظام وضع کیا گیا ،لیکن اگر موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آج کل اس سزا سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ مجرم جیل کاٹنے کے بعد جرائم کا خوگر بن جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیل خانوں میں سنگین جرم کرنے والے عادی مجرمان اور پہلی مرتبہ معمولی جرم کرنے والے مجرموں کو ایک ہی جگہ میں رکھا جاتا ہے ، ان سب قسم کے لوگوں کو ایک ماحول میں رکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جرم کے جراثیم پھیل جاتے ہیں ، عادی مجرم جیل کی چار دیواری میں رہتے ہوئے اپنا آلہ کار بنالیتے ہیں ، اور یوں جیلوں کا اصل مقصود ( جرائم سے باز رکھنا ) فوت ہو جاتا ہے ، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار جیلوں کے نظام پر توجہ دے کر اسے بہتر کریں، جیلوں کے اندر اسلامی اور اخلاقی تعلیم کا معقول بندوبست کیا جائے ، عام جرائم کے مرتکب قیدی کو عادی سنگین جرائم کے قیدیوں سے الگ رکھا جائے تاکہ وہ ان کے اثرات سے محفوظ رہے ۔
10۔ مجرم کے تعین کی ضرورت
جرائم کی روک تھام میں مجرم کا تعین بھی بہت ضروری ہے ،ہمارے ہاں تو یہی ہوتا ہے کہ پولیس کے ناقص تفتیش کی وجہ سے اصل مجرم بچ جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے مزید حوصلہ ملتا ہے اور پھر وہ باقاعدگی کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کی تفتیش معیاری ہو تاکہ اصل مجرم ہی قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے ۔ اور اصل مجرم کا تعین ہوجائے ۔اور اسی سبب سےمزید جرائم پیشہ عناصر کے لیے عبرت ہو۔
11۔عدم برداشت
جرائم کے اسباب میں کچھ حد تک عدم برداشت کا بھی عمل دخل ہے ،جب کسی شخص کے مزاج او ر طبیعت کے خلاف کوئی کام ہوجائے ،اور کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جائے ۔تو وہ قوت برداشت کی کمیابی کی وجہ سے اس کا انتقام لینے کے در پے ہو جاتاہے ۔حالانکہ ہمیں تحمل اور برداشت سے کا م لینا چاہیئے کیونکہ تحمل کی تعریف یہی ہے کہ کسی نہ گوار بات کو انتقام کی قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کیا جائے ۔ اور کسی طرح کا بغض اپنے دل میں نہ رکھا جائے ۔کیونکہ اسلام ہمیں ایسے موقع پر برداشت ، تحمل اور برد باری کا درس دیتا ہے۔ اللہ رب العزت کتاب روشن ،قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ “وہ لوگ جو اپنے غصہ کو دبا لیتے ہیںاور لوگوں کا قصور معاف کردیتے ہیں ،اور اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ ( سورۃ آل عمران :134)
لوگوں کی خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کردینا اخلاق میں ایک بڑا درجہ رکھتا ہے ،اور اس کا ثواب آخرت میں نہایت اعلی ہے ۔ رسول رحمت ﷺنے فرمایا کہ” جو شخص یہ چاہے کہ اس کے محلات جنت میں اونچے ہوں اور اس کے درجات بلند ہوں اس کو چاہئے کہ جس نے اس پر ظلم کیا ہو اس کو معاف کردے اور جس نے اسکو کبھی کچھ نہ دیا ہو اس کو بخشش وہدیہ دیا کرے ،اور جس نے اس سے ترک تعلقات کیا ہو یہ اس سے ملنے میں پرہیز نہ کرے “( مکارم الاخلاق للطبرانی)
ایک دوسری روایت میں کہ ” حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میری ملاقات ہوئی آپﷺ نے فرمایااے عقبہ بن عامر،جو شخص آپ سے قطع تعلق کرے آپ ان سے ملیں،اور جو تجھے محروم کرے اسے دے دیں، اور جو آپ پر ظلم کرے آپ ان کو معاف کردیں۔(مسند امام احمد بن حنبل)
معاشرتی بگاڑ کے اسباب کےمتعلق جب ڈیپارٹمنٹ آف عریبک اینڈ اسلامک سٹڈیز،گورنمنٹ کالج ،یونیورسٹی ،لاہور کے معلم حافظ سفارش علی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ “معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت معاشرتی بگاڑ کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے،اخلاقی انحطاط کی وجہ سے زمانہ جاہلیت کے طور ،اطوارآج ہم میں فروغ پا رہے ہیں،معاشرتی اصلاح کیلئے گفت وشنید ،برداشت،بردباری اور تحمل کا رواج ضروری ہے”۔
12۔جرائم کے اثرات
معاشرے میں مثبت اقدامات اور رویوں کا مثبت اثر ہوتا ہے ،لیکن یہ اقدام اگر جرائم کی صورت میں منفی نوعیت اختیار کر لیں تو اس کے اثرات بھی یقینا منفی نوعیت کے ہی ہوں گے ، معاشرے میں جرائم کی زیادتی ہو اور ان کے سدباب کےلیے سنجیدگی سے توجہ نہ دی جائے اور حل کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں تو معاشرے میں جرائم پھیل جاتے ہیں ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام اور افراد معاشرہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے معاشرتی بگاڑ کے سد باب کے لئے اپنی حدود میں رہتے ہوئےکوشش کریں ورنہ یہ نہ ہو کے یہ بگاڑ ناسور بن کی معاشرتی تباہی کا سبب بنے۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں