UEA next step after accepting the Israel 20

مسلم ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اور بڑا اقدام

44 / 100

اسرائیلیوں کو عرب امارات آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اکتوبر2020ء) قرآن کریم میں ہے کہ یہودی اور نصرانی کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔اور اقبال نے اپنی شاعری میں کہا تھا ”خاک فلسطیں پہ یہودی کا ہے اگر حق۔۔۔ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا“۔سرزمین فلسطین پر قبضہ کرنے والے یہودی ایک عرصے سے اپنا وجود تسلیم کروانے کی جدوجہد میں مبتلا تھے اور اب کہیں جا کر انہیں کامیابی بھی مل گئی ہے اور کامیابی بھی ایسی کہ نہ صرف ان کے وجود کو مسلم ممالک تسلیم کرتے جا رہے ہیں بلکہ وہاں آنا جانا اور کاروبار کرنے کو بھی جائز اور حلال قرار دے رہے ہیں۔
اب متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کے بعد اس ناجائز ملک کے ساتھ چار کاروباری معاہدے کر ڈالے ہیں جن میں سے سرفہرست ویزا فری پالیسی ہے۔
سرائیل اور متحدہ عرب امارات نے چار اہم معاہدوں پر اتفاق کرلیا ہے جن میں سے ایک معاہدے میں شہریوں کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اسرائیل پہنچنے والے وفد نے وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی، قبل ازیں اہم حکام سے ملاقاتوں میں 4 معاہدوں پر اتفاق کرلیا گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے معاہدے پر دستخط کردیئے۔
ان میں سے ایک معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے نئے ویزہ فری پالیسی پر اتفاق کرلیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے شہری ویزے کے بغیر بھی مخصوص شہروں میں سفر کرسکیں گے۔وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یو اے ای کے وفد کے اسرائیلی دورے اور معاہدے پر اتفاق کو”امن کے لیے سنہری“قرار دیا۔اس معاہدے کے بعد عرب دنیا میں اماراتی پہلے شہری بن جائیں گے جنہیں اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ عرب ممالک میں سے مصر نے 1979 اور اردن نے 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا جب کہ کئی برس بعد اب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں