اشرافیہ کی باندی 107

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں آنکھ مچولی

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں آنکھ مچولی

نسیم شاہد
حیرت اس بات پر ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری میں بہن بھائی کا رشتہ قائم ہونے اور گہری انڈرسٹینڈنگ کے باوجود آج یہ بحث چل رہی ہے کہ دونوں نے کس کو کیا کہا۔ اصل میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں افواہوں اور شکوک و شبہات کی چاندی ہو جاتی ہے مجھے یاد ہے کہ اچھے دنوں میں مریم نواز نے کہا تھا کہ بلاول اور مجھ میں اب کوئی غلط فہمیاں پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ جو بات بھی ہو گی ہم دونوں ایک دوسرے سے براہِ راست کر لیا کریں گے، لاڑکانہ کے جلسے میں تو انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کر کے سب کے سامنے اس کا وعدہ بھی لے لیا تھا، مگر صاحب سیاست بڑی ظالم شے ہے پل میں تولہ پل میں ماشہ دیکھنا ہو تو سیاست کو دیکھئے ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی محبت آگ اور پانی کا ملاپ ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں، لیکن بغضِ عمران میں یہ سب کچھ بھی ہوا اور ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل بھی باندھے گئے۔ مخالفانہ باتیں قصہئ پارینہ بن گئیں اور ہر طرف اتفاق ہی اتفاق نظر آنے لگا۔ مگر ایسے بے جوڑ تعلق آخر کب تک چل سکتے ہیں، جن میں ایک ازلی دشمنی چھپی ہو، سو آج ایک محاذ گرم ہے۔ ابھی تھوڑی سی وضع دارانہ شرم ہے کہ بات اشاروں کنایوں میں کی جا رہی ہے لیکن جلد ہی سب پردے ہٹ جائیں گے اور پھر جوتیوں میں دال بٹنے لگے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی قرنطینہ سے نئی تصویر آ گئی ، کیا کر رہے ہیں ؟ جانئے
اس سارے کھیل کی چابی آصف علی زرداری کے پاس تھی جب تک چاہا اختلافات کا دروازہ بند رکھا اور جب وقت آیا کہ اب کھیل کو دوسرا رخ دیا جائے تو دروازہ کھول دیا۔ بات صرف اتنی ہی نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی نے استعفے دینے سے انکار کیا، اسے تو ایک مؤقف سمجھ کر قبول کیا جا سکتا تھا، تاہم کھیل اس وقت بگڑا جب آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم اجلاس میں ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کو نشانے پر لیا اس کا موقع تھا اور نہ ضرورت، اس بات کی تو بالکل ہی ضرورت نہ تھی کہ نوازشریف کو یہ طعنہ دیا جائے کہ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا، پھر نوازشریف کے ملک واپس آنے سے تحریک کو منسلک کرنا ایک ایسی بات تھی جو خود حکومت کے بیانیئے کی تائید تھی۔ استعفوں سے انکار، نوازشریف پر تنقید اور واپسی کی شرط ایسی باتیں تھیں جو مریم نواز تو کیا خود نواز شریف کو بھی ہضم نہ ہوئیں۔ مسلم لیگی رہنماؤں کے لئے بھی یہ باتیں مایوس کن تھیں اور انہیں پیپلز پارٹی کے بارے میں پیدا ہونے والی خوش فہمی کا غبارہ پھٹتا دکھائی دینے لگا تھا۔ اسی فضا میں اور اسی دباؤ میں مریم نواز نے جب یہ کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان اپنی فکر کریں کہ ان کا متبادل سلیکٹرز نے تلاش کر لیا ہے تو بظاہر یہ عام سی بات تھی مگر نشانے پر لگی جس طرح کہتے ہیں کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے اسی طرح پیپلزپارٹی نے یہ سمجھا کہ مریم نواز نے یہ بات آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں کی ہے کچھ دن تو جبر کے ساتھ پیپلزپارٹی خاموش رہی پھر لاہور میں امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری خاموش نہ رہ سکے اور کہہ دیا کہ ان کی رگوں میں سلیکٹڈ بننے والا خون نہیں یہ تو پنجاب کے ایک خاندان کی میراث ہے ان کا یہ کہنا تھا کہ ہر طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوٹ گئی ہے۔

مریم کو کرپشن چارجز پر بلالیا تو مولانا رینٹل بھی میدان میں آگئے ، حلیم عادل شیخ
کہاں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری میں اتنی زیادہ انڈر سٹینڈنگ اور کہاں اب جوابات اشاروں کنایوں میں دیئے جا رہے ہیں۔ جب مریم نواز سے دو روز پہلے صحافیوں نے یہ سوال پوچھا کہ انہوں نے عمران خان کا متبادل کسے قرار دیا ہے، تو انہوں نے کہا میں نے جو اشارہ کرنا تھا کر دیا۔ اسی طرح جب بلاول بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ ان کا اشارہ لاہور کے کس خاندان کی طرف ہے تو وہ بھی جواب دینے کی بجائے کنی کترا گئے۔ اب کچھ دال میں کالا تو ضرور ہے وگرنہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ایک دوسرے کو فون کر کے وضاحتیں مانگ لیتے ایسا تو نہیں ہوا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلاول بھٹو زرداری جاتی عمرہ پہنچ جاتے تھے اور مریم نواز بھی بلاول بھٹو کی دعوت پر بلاول ہاؤس جاتی تھیں لیکن اس معاملے پر دونوں ایک دوسرے سے دور کھڑے ہیں اور مختلف اشاروں سے ایک دوسرے تک بات پہنچا رہے ہیں۔ دونوں نے کوشش کی کہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے ایک دوسرے کی وضاحت طلب کی جائے مگر یہاں بھی بات بنتی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ کھل کے ان دونوں میں سے کوئی بھی کچھ کہنے کو تیار نہیں۔

مریم نواز کی پیشی پر پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ساتھ جائیں گے، قمرالزمان کائرہ
اب یہ بات صرف ایک تکلف ہی رہ گئی ہے کہ پیپلزپارٹی 4 اپریل کو سی ای سی کے اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی۔ حالانکہ فیصلہ تو اسی وقت ہو گیا تھا جب آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے استعفوں کے مطالبے کو مضحکہ خیز اور بے وقت کی راگنی قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں دراڑ پڑ چکی ہے اور یہ دراڑ دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی وجہ سے پڑی ہے۔ دونوں شروع دن سے ایک دوسرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں دونوں کا ایک دوسرے پر بالکل بھروسہ نہیں، بھروسہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ تین دہائیوں تک ایک دوسرے کے خلاف گرد اڑا چکی ہیں۔ یہ تو عمران خان کی مشترکہ دشمنی ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں پی ڈی ایم میں اکٹھی بیٹھ گئیں۔ آصف علی زرداری پی ڈی ایم میں اس لئے شامل رہے کہ وہ حکومت پر ایک دباؤ رکھنا چاہتے تھے تاکہ سندھ کے معاملات بھی چلتے رہیں اور حکومت طاقت کے نشے میں اٹھارہویں ترمیم بھی ختم نہ کر دے۔ اٹھارہویں ترمیم سے جتنا فائدہ سندھ میں پیپلزپارٹی نے اٹھایا ہے، اتنا کسی سیاسی جماعت نے نہیں اٹھایا۔ اب بھی اس ترمیم کی موجودگی میں سندھ پیپلزپارٹی کے لئے سونے کی کان ہے۔ آصف علی زرداری کا یہ مقصد تھا ہی نہیں کہ عمران خان کی حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھیجا جائے کیونکہ یہ ان کے اس نظریئے کے خلاف ہے جو انہوں نے پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے ضمن میں دے رکھا ہے اور اسی کے تحت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھی آئینی مدت پوری کرنے میں مدد دی۔ استعفوں سے انکار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاہم غرض مند دیوانے کی طرح پی ڈی ایم والے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید آصف علی زرداری ان کی طرف لوٹ آئیں۔ حالانکہ زرداری صاحب اب لوٹ کے آنے نہیں اگلی نئی منزلوں کی طرف جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں