مساجد کا معاشرتی کردار 7

مساجد کا معاشرتی کردار

59 / 100

مساجد کا معاشرتی کردار
سید مجتبیٰ داوودی
وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد کے معاملات اور بنیادی کردار میں کچھ تعبدیلیاں کرنی چاہیں۔۔۔۔۔
بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر، اٸر کنڈیشن اور اٸر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ
مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں
مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟
چند تجاویز
1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو-
2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔
3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو
4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے
5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو-
6۔ آپسمیں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے-
7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ-
8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو-
9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو-
10۔ ھماری جامعہ مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں-الغرض مسلمانوں کے لئیے مسجد محض عبادت کی جگہ نا ہو بلکہ مکتب بھی ہو کردار سازی و
معاشرتی و باہمی معاملات کے حل کا کا ادارہ بھی ہو
سب سے اہم تجویز
اگر کسی علاقے میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ آباد ہیں اور انکی اپنی اپنی مساجد موجود ہیں تو ان کو اتحاد بین المسلمین کے تحت خالص اسلامی روح کے مطابق مکمل اتحاد کی فضا قائم و برقرار رکھنی چاہیے۔
ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے مساجد کے منبر ایک دوسرے کےخلاف فتوے بازی کے لئیےاستعمال نہیں ہونے چاہیئں۔
کوشش کرئیں کے عیدین کے مواقع پر ایک بڑا اجتماع کیا جائے
ایک سال ایک مکتبہ فکر کا امام نماز پڑھائے تو اگلے سال دوسرے مکتبہ فکر کا امام امامت کے فرائض سرانجام دے۔۔
قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کیلیۓ استعمال کیا جا سکتا ہے-
اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں
ان میں سے کوٸ بھی تجویز نٸ نہیں ہے
ایسا ہی کردار مساجد کا ہوتا تھا
جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں
خدا را
اب رک جاٸیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔
اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ تا کہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گذار سکیں
۔آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں