mufti gulzar ahmed naeemi 18

مزاحمت کااستعارہ

60 / 100

مزاحمت کااستعارہ۔
تحریر: مفتی گلزاراحمد نعیمی
علامہ خادم حسین رضوی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے، دین اسلام کے دفاع میں بولنے والا اس دنیا سے رخصت ہوا،تحفظ ناموس رسالت کا ایک دلیر جرنیل اپنی سپاہ کوحرارت عشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے کر اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔نوجوانوں کےقلب و جگرکو عشقِ مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سےلبریز کرنے والا داعئی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ہر دل غمگین ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر گھر نوحہ کناں ہے۔پورا پاکستان بلا تفریق مسلک علامہ کی رحلت پر غمزدہ اور رنجیدہ ہے۔بلا کی قوت مزاحمت رکھنے والا علامہ خادم رضوی آیا اور آتے ہی چھا گیا۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ مزاحمت کا یہ استعارہ اپنے ساتھ سب کچھ لے گیا ہے اور اب محفل میں اندھیرا چھا جائے گا۔خدا جانے اب اس چراغِ عشق کے گل ہوجانے کے بعد کتنے ہی چراغ جلانیں پڑیں اور تیرگی پھر بھی ختم نہ ہو۔
ہمارے بعد محفل میں اندھیرا رہے گا
بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لیے۔
میں علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کی سیاست کا ہمیشہ ناقد رہا ہوں مگر آپکی بہت سی خدمات کا ہمیشہ معترف بھی رہا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہےکہ پاکستان میں اہل سنت اپنے اکابرین کی جدو جہد کو بھولتے جارہے تھے۔یہ علامہ خادم حسین رضوی ہی تھے جنہوں نے اپنے اکابرین کی یاد کوتازہ کیا۔ہم لوگ علامہ فضل حق خیرآبادی،حضرت مجدد الف ثانی، علامہ کفایت اللہ کافی اور دیگر اکابرین سے بالکل بیگانہ ہوچلے تھے۔ان بزرگوں کی قربانیوں کو نوجوان نسل تک منتقل کرنے میں علامہ کی خدمات کو ہم کبھی بھی نہیں بھول سکیں گے۔آپکی دوسری بڑی خدمت اہل پاکستان کا اقبال کے ساتھ کٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔اقبال جیسا عظیم انسان کسی بھی قوم کے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے۔مگر مغربی تہذیب و تمدن کی اندھا دھند تقلید نے ہمیں اقبال سے محروم کردیا ہے۔علامہ خادم حسین رضوی نے بڑی کامیابی سےقوم کے نوجوانوں کو اقبال کی طرف راغب کیا ہے۔تحریک لبیک کے جلسوں میں جس طرح وہ اقبال کاولولہ انگیز کلام بہت ہی تسلسل کے ساتھ پڑھتے تھے، یہ انہی کا ہی خاصہ تھا۔انہوں نے پوری قوم کو اقبال شناسی کی طرف متوجہ کیا۔میں اگر اپنے وجدان کی بات کروں تو مجھے یوں لگتا ہے علامہ رضوی علامہ محمد اقبال سے ہر وقت محوِ کلام رہتے تھے اور کلام اقبال بھی ان سےکلام کرتا تھا۔اقبال کے فلسفئ عشق کا صحیح معنوں مفسر اور راز داں بابا خادم رضوی ہی تھا۔” میں اقبال کو پچھیا دس اوئے اقبال”کیا ہی اپنائیت بھرے الفاظ ہیں۔!!
عشق رسول امت کا وہ سرمایہ ہے جس کی مدد سےامت نےبے سروسامانی کے عالم میں بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دی۔ہم سے یہ سرمایہ چھیننے کے لیے استعمار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوچکا ہے۔علامہ رضوی نے نوجوانوں کے دلوں میں عشق مصطفیٰ کا دیپ دوبارہ فروزاں کیا۔سخت ترین سردی میں بھی نوجوان اپنے آقا کی ناموس کے لیےانکی کال پر نکلتے رہےاور پورا پاکستان “لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ” کے نعروں سے گونجتا رہا۔عشقِ شاہ ابرار کو دلوں میں جاگزیں کرنے کے لیے علامہ رضوی نے کلام اقبال سےخوب استفادہ کیا۔
مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت جب مغربی قوتوں اور اقوام متحدہ کے سامنےبے بس نظر آئی اور اس نے مغرب کے دباؤ میں آکر ارکان پارلیمنٹ کے ڈیکلیریشن فارم میں مذہب کو ختم کرنے کی کوشش کی تو سیسہ پلائی دیوار کی مانند اس کے مقابلے میں جوشخص کھڑا ہوا اسے خادم رضوی ہی کہتے ہیں۔یہ قادیانیوں اور ان کے آقاؤں کی طرف سے ناموس رسالت پر بہت بڑا حملہ تھا جسے خادم رضوی نے جرآت وبہادری کے ساتھ پسپا کیا تھا۔خادم رضوی کی اس ثابت قدمی نے طاغوت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔طاقتور ترین حکومت کو اپنا غدار وطن وزیر گھر بھیجنا پڑا اور یوں ختم نبوت کے دشمنوں کے سب منصوبے خاک میں مل گئے۔اس وقت مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں اور علماء ومشائخ سب حکومت کے ساتھ کھڑے تھے۔ مگر اللہ نے ایسے شخص کو اس کام کے لیے منتخب فرمایا جو اپنے قدموں پر چل بھی نہیں سکتا تھا۔
ابھی جب فرانس میں دوبارہ خاکے بنے اور فرانس کے ملعون صدر نے انکی حمایت کی تو سب لوگ زبانی مذمت کررہے تھے مگر علامہ رضوی اپنے آقاء کی ناموس کی خاطر میدان عمل میں نکلے اس کے باوجود کہ آپ علیل تھے۔اپنی بیماری کی پرواہ کیے بغیر فیض آباد دھرنے میں پہنچے۔جب حکومت نےفرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کو درآمد نہ کرنے کامعاہدہ کیا تو اسی وقت دھرنا ختم کر کے واپس چلے گئے۔علامہ کے رعب ودبدے سے نہ صرف مغرب خوفزدہ تھا بلکہ ہمار ازلی دشمن بھارت بھی ہمارے میزائلوں سے زیادہ علامہ صاحب کی تقاریر کو خوفناک سمجھتا تھا۔
علامہ خادم حسین رضوی کسی بڑے عالم یاپیر طریقت کا بیٹا نہیں تھا لیکن رسول اللہ کے ساتھ وفاداری نے اسے بہت بڑا بنا دیا تھا۔انکی زندگی ہم سب کے لیے اور آنے والی نوجوان نسل کے لیے ایک نمونہ عمل ہے۔وہ ایک راہ عمل ہمیں بتا گئے کہ جو نبی کا ہوجائے تو کون و مکاں اس کے ہیں اور سب عزتیں بھی اسی کی ہیں۔علامہ رضوی کے جنازے میں میرے اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی۔یہ شرکت ایک طرف عاشقِ سرورکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خراج عقیدت کا اظہار تھی تو دوسری طرف شرق و غرب کو ایک عظیم الشان پیغام بھی تھا۔وہ پیغام یہ تھا کہ ہم اپنے آقاء کی عزت وناموس اور انکی ختم نبوت پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔لاکھوں کے اس اجتماع نے پاکستانی سیاستدانوں اور ختم نبوت کی دشمن قوتوں کو واضح اور کھلا پیغام دے دیا کہ ہم تمہیں ختم نبوت کے قانون میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کرنے دیں گے۔
انکی وفات کے بعد انکے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک کے قائدین نے یہ بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔معروضی حالات میں اس سے بہتر کوئی فیصلہ ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ہم حافظ سعد کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی اسے اپنے عظیم باپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔باپ نے جو عظیم ورثہ چھوڑا ہے بیٹے کو اسے سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہم سوئے حشر چلیں گے شاہ ابرار کے ساتھ.
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ. .
یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ.
کون روتا ہے لپٹ کر درودیوار کے ساتھ
اےمظہر ہم بھی سنیں گے کوئی نعت رنگیں
گر ملاقات ہوگئی شاعر دربار کے ساتھ۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

مفتی گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں