محنت و دیانت 13

محنت و دیانت

57 / 100

محنت و دیانت، ملکی ترقی کے بنیادی عوامل
مقبول احمد قریشی، ایڈووکیٹ
پاکستان کے قیام کو 73 سال کا طویل عرصہ ہو گیا ہے، بر اعظم ایشیا میں ہی بعض ایسے ممالک شامل ہیں جو ہمارے بعد آزاد ہونے کے باوجود کئی شعبوں میں کافی آگے نکل گئے ہیں۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا، سنگا پور اور تائیوان کی مثالیں سامنے ہیں، ان کی کارکردگی گزشتہ چند دہائیوں میں محنت و ذہانت اور عزم و استقامت کی بدولت دیگر کئی ممالک کے لئے بھی حیران کن ہے، حالانکہ پاکستان ماشا اللہ وسیع اور قدرتی وسائل اور بڑی تعداد میں جفا کش جواں ہمت، محنتی اور ذہین نوجوانوں کی افرادی قوت کا حامل ایشیا کے اہم مقام پر واقع ملک ہے۔ یہاں گوادر میں ایک بین الاقوامی معیار کی بندر گاہ اور اسی درجہ کا وسیع ہوائی اڈا بھی زیر تعمیر ہے۔ مستقبل قریب میں ان کی تکمیل ہونے سے اور مغرب سے مشرقی ممالک کو تجارت کے نئے راستے کھل جانے سے سنٹرل ایشین ریاستوں سے آمد و رفت ہونے لگے گی لیکن دشمن قوتیں اس کی مخالفت میں شب و روز ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں، تاکہ ان کی اجارہ داری اس خطہ ارض میں جاری رہ سکے۔ نریندر مودی بھی اس بارے میں حتیٰ المقدور سازش کاری اور دہشت گردی سے مخالفانہ کارروائیاں اور رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں، لیکن اب تک ان کی سازشیں اور چالبازیاں کار آمد ہونے کے آثار ظاہر نہیں ہو رہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل سے انکار کر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کو بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا بلا تاخیر نوٹس لے کر اہل کشمیر کی خواہشات کے مطابق جلد آزادی کا اعلان کر دینا چاہئے۔ اس اقدام سے جارحانہ کارروائیوں کی حوصلہ شکنی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بہتری ہو گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے مابین سخت باہمی سیاسی کشیدگی چل رہی ہے یہ اپوزیشن اتحاد حکومت کے خلاف تحریک چلا رہا ہے۔ اس بارے میں گاہے بگاہے مختلف اہم مقامات پر ایک منظم پروگرام اور تسلسل سے عوامی جلسوں اور جلوسوں کا انعقاد بھی پر امن طور پر کیا جا رہا ہے۔ان حالات میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر حکومتی وزراء اور خصوصی معاونین، اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ذرائع ابلاغ میں شب و روز کافی تلخ و تند زبان اور تضحیک آمیز لفظی حملے کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد پرامن جمہوری جدوجہد کر رہا ہے اس کی تحریک میں کوئی بات خلافِ قانون نہیں جو اس مشترکہ اتحاد کا آئینی حق ہے، گزشتہ ڈھائی سال کے دران وفاق اور صوبوں میں عوام کے مسائل کے حل اور مشکلات کم کرنے کے لحاظ سے متعلقہ وزراء اور مشیروں کی کارکردگی عمومی طور پر بہت ناقص رہی ہے، جو عام لوگوں کے لئے تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے۔

اشیائے ضروریات کی مسلسل مہنگائی، بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں اور سرکاری محکموں میں عوام کی شکایات کے ازالے کے لئے تا حال روایتی لاپروائی کے رجحانات چل رہے ہیں۔ مختلف اداروں میں بڑی مالی رقوم کی غیر قانونی خورد برد اور بد دیانتی سخت اقدامات سے روکنے پر توجہ دی جائے۔ گندم، آٹا اور چینی کی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے ذمہ دار افراد کے نام جلد سامنے لا کر عدالتوں میں پیش کئے جائیں اور انہیں سزائیں دلا کر سینکڑوں ارب روپے واپس لئے جائیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز معاشی خود انحصاری کے حوالے سے وقت گزرنے کے ساتھ کسی بہتری کی بجائے ابتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں