محاذ آرائی 15

محاذ آرائی، سیاسی عدم استحکام کا باعث اور عوامی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں

59 / 100

محاذ آرائی، سیاسی عدم استحکام کا باعث اور عوامی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور محاذ آرائی کے باعث عوامی مسائل پس پشت چلے جا رہے ہیں۔ ایک اختلافی مسئلہ ختم نہیں ہوتا دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ یوں تمام حضرات کی توانائیاں ایسے ہی اختلافی مسائل پر الزام جوابی الزام کی صورت میں صرف ہوتی ہیں اور عوامی مسائل پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔ عوام مجموعی طور پر مہنگائی، بے روز گاری، صحت اور شہری مسائل کے حوالے سے پریشان ہیں ان پر حکومت کی طرف سے گیس اور بجلی جیسی ضرورت کے نرخ بڑھا کر اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کر کے بوجھ لادا جاتا ہے تو بیان بازی کے سوا کوئی احتجاج نہیں ہوتا ہفتہ رفتہ شاید خوش قسمت ہوا کہ اس کے دوران جماعت اسلامی لاہور نے لیاقت بلوچ کی قیادت میں مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کیا، اگرچہ یہ خوش آئند ہے اور عوام نے پسند کیا لیکن اس کے محدود پیمانے پر ہونے کی وجہ سے برسر اقتدار حضرات نے کوئی اثر نہیں لیا اسے ابتدا کہا جا سکتا ہے، امکانی طور پر ایسا احتجاج ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر ہونا چاہئے کہ بازار میں اشیاء ضرورت اور خوردنی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور زیادہ تر چڑھاؤ ہوتا ہے۔ اتراؤ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

ملک میں کورونا کی وباء جاری ہے اگرچہ ویکسین مل گئی ہے تاہم فی الحال یہ اتنی مقدار میں نہیں کہ عام شہری مستفید ہوں جیسے جیسے ویکسین کی خوراکیں ملیں گی، ویسے ویسے پروگرام آگے بڑھے گا۔ ہیلتھ ورکروں کے بعد ہی ایسا ہوگا اور 60سال کی عمر سے بڑے شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ جیسا گزشتہ ہفتے عرض کیا تھا شہری اس کی پرواہ نہیں کر رہے حالانکہ شہر میں کورونا سے متاثر افراد ہیں اور اکا دکا متاثرہ افراد کی اطلاع بھی ملتی رہتی ہے۔ سرکاری سطح پر لازم ہے کہ کم از کم سرکاری ٹرانسپورٹ، دفاتر اور زیر نگرنی مقامات پر سختی سے عمل کر دیا جائے۔

شہر میں صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی نگرانی میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کی صفائی مہم جاری ہے اور اس میں قدرے بہتری بھی آئی ہے لیکن کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پوری طرح نہیں اٹھائے جا سکے۔ جبکہ یونین کونسلوں کی سطح پر صفائی کا جو نظام پہلے تھا وہ بھی بحال نہیں ہو سکا مرکزی سڑکوں کے اردگرد کے اندرونی علاقے یا تو نظر انداز ہو رہے ہیں یا پھر بہترکارکردگی نہیں ہے۔ جہاں تک روزانہ صفائی والا نظام ہے وہ تو ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اب خاکروب صفائی کرتے نظر نہیں آتے، وزیر موصوف کو اس طرف توجہ دینا ہو گی۔ علاقائی نظام درست ہوگا تو بہتری آئے گی یوں بھی موسم تبدیل ہو رہا ہے اور اس تبدیل ہوتے موسم کی وجہ سے مچھروں کی افزائش بھی ہو گی جس کے باعث ملیریا اور ڈینگی بخار جیسے امراض بڑھیں گے۔ اس کا ابھی سے انتظام ضروری ہے حفاظتی انتظامات میں صفائی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی، گیس اور پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے سے عوام پر مالی بوجھ بڑھا تو اب دوسرے شعبے اور محکمے بھی اس روش پر چل پڑے ہیں۔ لاہور کی فراہمی و نکاسی آب کی اتھارٹی نے پینے کے پانی کے نرخوں میں اضافے کی سمری بنا کر صوبائی حکومت کی منظوری کے لئے بھیج دی ہے جبکہ نکاسی آب کے لئے سیوریج ٹیکس میں اضافہ اور نیا ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے۔ اس سے مالی بوجھ اور بڑھ جائے گا۔

اسی ہفتے کے دوران وفاقی وزرا کی بھی لاہور آمد ہوئی۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور وزیر اطلاعات شبلی فراز آئے ہر دو نے اداکار شان کی رہائش پر جا کر ان کی والدہ میڈم نیلو کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور دعائے مغفرت کی شبلی فراز سندس فاؤنڈیشن بھی گئے جبکہ فواد چودھری صحافی میاں حبیب کی رہائش پر پہنچے اور ان کو ان کی صاحبزادی کی شادی پر مبارک باد دی اور دیر تک بیٹھے، یہ وزرا حضرات جہاں بھی جائیں۔ میڈیا پر ان سے بات کرنا لازم ہوتا ہے۔ شبلی فراز نے تو سینٹ انتخابات کے طریق کار پر بات کی اور وہی الزام دہرایا کہ اپوزیشن صاف، ظفاف انتخابات کا خالی نعرہ لگاتی ہے۔ حکومت نے انتخاب کا طریق کار تبدیل کرنا چاہا کہ رشوت کا طریق ختم ہو۔ لیکن اپوزیشن آڑے آ رہی ہے اپوزیشن کی طرف سے جوابی وار کیا گیا کہ تحریک انصاف والوں کو اپنے اراکین پر ہی بھروسہ نہیں ہے۔

فواد چودھری نے بھی اپنا یہی موقف دہرایا تاہم انہوں نے کراچی میں صوبائی قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ (تعلق تحریک انصاف سے ہے) کے فارم ہاؤس میں تجاوزات گرانے پر سخت ردعمل دیا اور کہا ایسے اقدامات سے بات چیت کے دروازے مستقل بند ہو جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں