مایوسی 21

مایوسی کیسے ختم کی جائے

44 / 100

زندگی کا المیہ یہ ہے کہ یہ پہلے ملتی ہے جبکہ عقل بعد میں ملتی ہے ، جس طرح انسان کا بچپن سے جوانی تک کے سفر گروتھ کے ذریعے ہوتا ہے بلکل اسی طرح عقل کی بھی گروتھ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے اسے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر انسا ن کی صلاحیت کم ہوتو مسئلہ بڑا ہوجاتا ہے اور اگر صلاحیت زیادہ ہو تو مسئلہ چھوٹا ہو جاتا ہے ، ایک مسئلہ کسی کے لیے بہت بڑا ہوتا ہے جبکہ وہی مسئلہ کسی دوسرے کے لیے بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ جب انسا ن کا مسائل کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان کو حل نہیں کر پاتا تو پھر وہ ناامید اور مایوس ہو جاتا ہے۔ مایوسی عمومی طور پر اٹھتی تو اندر سے ہے لیکن پیدا باہر سے ہوتی ہے کیونکہ نفسیات یہ کہتی ہے کہ نارمل انسان حالات تبدیل ہونے سے پریشان ہو تا ہے ۔ کچھ مخصوص لوگ پیدائشی طور پر حساس ہوتے ہیں وہ بغیر کسی سبب کے بھی مایوسی کا شکار ہو جاتےہیں انہیں نفسیاتی مریض بھی کہا جاتا سکتا ہے۔
انسان کو پوری زندگی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ، انسان پیدا ہوتے ہی سانپ کی طرح اپنا راستہ نہیں لے لیتا بلکہ ماں اس کا پہلا سہارا بنتی ہے اور وہ ایک طویل عرصہ اس کی گود میں کھیلتا ہے ،پھر اسے باپ کی شفقت ملتی ہے، پھر بہن بھائی ملتےہیں، سکول میں دوست ملتے ہیں ، پھر جب انسان بڑا ہوتا ہے تو رشتے بناتا ہے یہ ساری چیزیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ انسان کا انحصار دوسروں پر ہوتا ہے۔ جب انسان مایوس ہو تو اسے سہارا لینے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے کیونکہ کسی کے ساتھ اپنی مسائل شیئر کرنے سے مسائل کی شدت میں کمی آتی ہے ۔ انسان میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ جب وہ اپنا دکھ شیئر کرتا ہے تو اس کا دکھ کم ہو جاتا ہے اس لیے کوئی حرج نہیں ہے اگر کسی کے کندھے کی ضرورت پڑجائے ۔ باباجی اشفاق احمد فرماتے ہیں ” پاکستان کے ہر فرد کو ایک کندھے کی ضرورت ہے وہ فرد اس کندھے پر سر رکھے چند آنسو بہائے اور دوبارہ سے زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو اور روانہ ہو جائے۔”
جو لوگ تنہائی پسند ہوتےہیں ان کا مایوسی کے ساتھ زیادہ واسطہ پڑتا ہے کیو نکہ تنہائی کی وجہ سے ان کی طبیعت میں غبار بن جاتا ہے پھر شیئرنگ نہ کرنے کی وجہ سے ان میں چڑچڑاپن آجاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ کسی پر بھروسہ بھی نہیں کر سکتے ، ایسے لوگ اچھے چہروں کی شناخت نہیں کر پات، یہ تنہائی نفسیاتی عارضہ بنتے بنتے آخر کار بڑی تکلیف میں لے جاتی ہے۔ انسا ن دوسروں انسانو ں سے تواقعات لگاتا ہے لیکن تواقعات کا کم ہونا نارمل ہوتا ہےاس سے فرق نہیں پڑتا لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان یہ سمجھیں کہ کہاں پر تواقع لگانی ہے اور کہاں نہیں لگانی، بہت سے لوگ کسی کے مزاج کو سمجھے بغیر توقع لگا لیتے ہیں تو جب وہ پوری نہیں ہوتی تو انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر وہ اپنی تواقعات کو کم کر لیں تو انہیں مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے انسان موسم کا انتظار کرتا ہے پھر فصل بوتا ہے پھر کاٹنے کا انتظار کرتا ہے اور کاٹنے کے بعد پھر اس کا دام لیتا ہے ۔
جب انسان پریشان ہوتا ہے تو وہ سمجھ نہیں پاتا کہ جو چیز نہیں ہو رہی وہ کیوں نہیں ہو رہی جب اس کے پاس جواز نہیں ہوتا تو نتیجے کے طور پر جو مزاج بنتا ہے وہ پریشانی کا مزاج بن جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان خواب دیکھا ہوتا ہے وہ پورا نہیں ہوتا اس سے بھی وہ پریشان ہو جاتا ہے ، بعض دفعہ اس نے محنت بہت کی ہوتی ہے لیکن اگر رزلٹ اس طرح کا نہیں ملتا تب بھی پریشان ہو جاتا ہے ۔ پریشانی خیالات اور حالات دونوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے بعض اوقات حالات سے پریشانی آتی ہے اور خیالات اس پریشانی کو ہوا دے کر بہت زیادہ بڑھا دیتےہیں ، جب انسان کو اپنی صلاحیتوں پتا لگ جاتا ہے تو اس کی پریشانی اور مایوسی دونوں کم ہونے لگ پڑتی ہیں ۔ وہ تمام لوگ جن کا ہرسال ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے اس کا مطلب ہے وہ خود کو بہتر نہیں کر رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسئلوں کی شکل بدلتی جاتی ہے اس لیے مسئلوں کی شکل کا بدلنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ پہلے والے مسئلوں کا شکار نہیں ہیں اور آپ زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں