ماں اور بچے کی خوراک 0

ماں اور بچے کی خوراک کیسی ہو؟

57 / 100

ماں اور بچے کی خوراک کیسی ہو؟
میگزین رپورٹ
اپنی قوم کو بیماریوں سے دور رکھنے اور انھیں ایک صحت مندانہ زندگی کے لئے امریکی حکومت نے ایک تفصیلی ہدایت نامہ جاری کیا ہے.

امریکی حکومت نے پہلی مرتبہ شیر خوار اور گھٹنوں پر چلنے والے بچوں کے لیے خوراک سے متعلق تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ہدایات 2020 ڈائٹری گائیڈلائنز ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر بنائے گئی ہیں۔

اس ہدایت نامے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانے میں قدرتی طور پر موجود شکر کے علاوہ چینی بالکل بھی نہ دی جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، شیر خوار بچوں کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ ہی پلایا جائے۔
کمیٹی ایک دہائی میں دو مرتبہ غذائی رپورٹ جاری کرتی ہے۔ حتمی سفارشات رواں ہفتے امریکہ کے وفاقی طبی اور زرعی اداروں کی جانب سے جاری کی گئیں اور یہ اگلے پانچ سال تک امریکی حکومت کی باضابطہ گائیڈ لائنز کے خدوخال واضح کریں گی۔

ماہرین کے مطابق نصف سے زیادہ امریکی بالغان میں خوراک سے متعلق ایک یا اس سے زائد سخت بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ 1980 میں جب پہلی مرتبہ یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں، تب سے امریکی شہری ’ ان پر عمل کرنے میں کہیں پیچھے رہے ہیں اور بیماریوں کی شرح ’ عوامی صحت کے متعلق بڑی تشویش‘ کے طور پر برقرار ہے۔

ابتدائی ہزار دن

یہ رپورٹ روایتی طور پر گھٹنوں کے بل چلنے والے اور ان سے بڑے بچوں کی سائنسی بنیادوں پر خوراک کو مدِنظر رکھتی ہے تاہم اس سال اس کا دائرہ بڑھا کر شیرخوار بچوں تک کر دیا گیا تھا تاکہ ’ زندگی کے ابتدائی دور میں مناسب خوراک کے بارے میں بڑھتے ہوئے ثبوتوں کی عکاسی‘ کی جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ’ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں میں ملنے والی غذا نہ صرف طویل مدتی صحت میں اپنا کردار ادا کرتی ہے بلکہ ذائقے کی ترجیحات اور کھانوں کی پسند نہ پسند کو بھی وضع کرتی ہے۔‘

جہاں ان ہدایات میں بچوں کے لیے ماںکے دودھ کو ہی بہترین غذا قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے بعد میں موٹاپے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ دستیاب نہ ہو تو شیرخوار بچوں کو آئرن فورٹیفائیڈ فارمولا دودھ دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ ’پیدائش کے بعد جلد ہی‘ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس شروع کر دینے چاہیں۔

ان ہدایات میں یہ کہا گیا ہے کہ چھ ماہ کی عمر کو پہنچنے پر بچے ’ غذائیت سے بھرپور‘ اور ’ الرجیوں کے سبب بننے والے کھانے مثلاً مونگ پھلی وغیرہ کھانا شروع کر سکتے ہیں، جبکہ شیر خوار اور گھٹنوں کے بل چلنے والے بچوں کو تمام غذائی گروپس میں سے چیزیں کھانی چاہییں، خاص طور پر وہ جن میں آئرن اور زنک زیادہ ہو۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے ماہرین ہر ہفتے 12 اونس صحت بخش سمندری غذا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جن میں ٹیلاپیا اور سالمن شامل ہیں تاکہ بچوں کی دماغی نشونما بہتر ہو سکے۔

حاملہ خواتین کو الکوحل سے پرہیز کرنا چاہیے اور کیفین کی تھوڑی مقدار بظاہر محفوظ نظر آتی ہے مگر اس کا بھی مشورہ ڈاکٹر سے کرنا چاہیے۔

بالغوں کیلیے بھی کم شکر

ہدایت نامے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تمام امریکیوں کو روزانہ کی غذا میں اضافی شکر کو 10 فیصد سے کم رکھنا چاہیے۔ تقریباً 65 فیصد امریکی جن کی عمریں 19 سے 30 سال کے درمیان ہوں جبکہ 31 سے 59 سال کی عمر کے 60 فیصد امریکی ان حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ ان ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوں کو یومیہ دو الکوحل ڈرنکس اور خواتین کو یومیہ ایک الکوحل ڈرنک سے زیادہ شراب نہیں پینی چاہیے۔

سنیکس اور ٹافیوں کے ساتھ ساتھ سوڈا اور دیگر میٹھے مشروبات مثلاً کافی اور چائے وغیرہ اضافی شکر جسم میں داخل کرنے کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ ان ہدایات میں بالغوں کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ چیزوں پر موجود غذائیت کے لیبلز کو ٹھیک سے پڑھنا سیکھیں تاکہ وہ سودا سلف خریدتے وقت بہتر انتخاب کر سکیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں