جج ارشد ملک کیس فیصلہ 82

لاہور ہائیکورٹ نےسابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7سال سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کوملازمت سے برطرف کر دیا ۔

56 / 100

لاہور ہائیکورٹ نےسابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7سال سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کوملازمت سے برطرف کر دیا ۔

ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار سابق جج ارشد ملک کو لاہورہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فیصلہ سنایا۔واضح رہے کہ ارشد ملک نے اگست 2019 میں ایف آئی اے کو دیئے گئے تحریری بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز سے مدینہ منورہ کے ہوٹل اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے جاتی امراء اور ناصر محمود بٹ کے ہمراہ جاتی امراء میں ملاقات کی۔

اپنے بیان حلفی میں انکا کہنا تھا کہ احتساب عدالت نمبر 2 اسلام آباد میں جج کی حیثیت سے فروری 2018 میں انکی تقرری کے بعد ان سے دو واقف کاروں، مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے ملاقات کی، جس میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت میں ایک بااثر شخصیت سے انکی خصوصی اور ذاتی سفارش پر انہیں احتساب عدالت کا جج لگایا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ججوں پر مشتمل انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دی جسکی لاہور ہائیکورٹ کے اعلیٰ ترین ذرائع نے تصدیق کی۔

چیف جسٹس مسٹر جسٹس قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں 7 سینئر ججز نے شرکت کی جن میں سینئر ترین جج جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔

یاد رہے کہ اس معاملہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انھیں معطل کرکے او ایس ڈی تعینات کر دیا جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے بطور انکوائری آفیسر ارشد ملک کو قصور وار قرار دیا تھا۔ یاد رہے ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا گیا تھا۔

قبل ازیں 6 جولائی 2019 پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز جاری کی تھیں جن کے مطابق نواز شریف کو سزا دباؤ پر سنائی گئی تاہم ارشد ملک کی جانب سے پہلے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیا گیا تھا،7جولائی کو رجسٹرار احتساب عدالت نے جج ارشد ملک کا تردیدی بیان جاری کیا کہ ان پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا۔

ویڈیو میں ارشد ملک کو یہ کہتے ہوئے سنایا گیا کہ نواز شریف کو سزا سناکر میرا ضمیر ملامت کررہا ہے اور ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ جج نے ناصر بٹ کو کہا کہ نواز شریف پر نہ کوئی الزام نہ ہی کوئی ثبوت ۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد جج ارشد ملک کے خلاف تحقیقات کیلئے کیس وزارت قانون کو بھیج دیا گیا تھا۔ ارشد ملک کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے فارغ کر کے انکی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئیں۔

سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ 16 جولائی 2019 کو ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی،16 جولائی 2019 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو جج نے کیا وہ انتہائی غیر معمولی باتیں ہیں، سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیگی تو ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس پر اثر پڑیگا۔

16 جولائی کو ہی جج ارشد ملک نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی شقوں کے تحت ان کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا۔

23جولائی2019 کو سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس پر ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 23 اگست کو کیس کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11جولائی کا بیان حلفی اُن کے خلاف فرد جرم ہے۔ 14 ستمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو او ایس ڈی کر دیا۔

جس کے بعد آج لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے تمام شواہد کی روشنی میں ارشد ملک کی برطرفی کی منظوری دے دی ۔

یاد رہے ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں