اشرافیہ کی باندی 41

لاہور میں لیکچرار کی موت، قاتل ڈور کا سہولت کار کون؟

58 / 100

لاہور میں لیکچرار کی موت، قاتل ڈور کا سہولت کار کون؟
نسیم شاہد

لاہور میں جمعہ کی سویر ایک اندوہناک خونی واقعہ کی وجہ سے خون میں نہا گئی۔گورنمنٹ دیال سنگھ گریجویٹ کالج لاہور کے جواں سال پی ایچ ڈی لیکچرار ڈاکٹر آفتاب احمد مسلم ٹاؤن پل کے قریب دھاتی ڈور پھرنے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ لاہور جو صوبے کا دارالحکومت ہے اور جہاں اقتدار کی تمام راجھ دہانی پورے جاہ و جلال اور طمطراق سے موجود ہے، وہاں قانون کی بے توقیری کا ہی عالم ہے کہ پتنگ بازی پر پابندی کرانا تو کجا اُس میں دھاتی ڈور کا استعمال تک نہیں روکا جا سکا اور ملک کا ایک اُستاد اپنی زندگی سے اُس وقت ہاتھ دھو بیٹھا جب اپنے کالج علم کا نور بانٹنے جا رہا تھا۔ ذرا تصور کریں وہ لمحات جب وہ کالج جانے کے لئے تیار ہوا ہو گا،ماں کی دُعا لی ہو گی، بچوں کو پیار کیا ہو گا،اس نے خود کو ٹریفک میں الجھنے سے بچایا ہوگا،

حد درجہ احتیاط برتی ہو گی،مگر اُسے کیا معلوم تھا کہ ایک تلوار اوپر سے گرے گی اور اُس کا گلا کاٹ کر خون میں لت پت کر دے گی۔ یہ ایسا سانحہ ہے جو مرحوم کے لواحقین کو تا عمر خون کے آنسو رلاتا رہے گا، تاہم اُس کی اس ناگہانی موت نے پورے معاشرے کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں لاہور کی فضا میں دُکھ اور غم کی ہوائیں اپنی جگہ بنا چکی ہیں ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دِل سوگوار۔میری لاہور میں چند دوستوں سے بات ہوئی ہے۔ وہ اسے لاہور کی تعلیمی زندگی کا ایک تاریک دن قرار دے رہے ہیں۔ نہ صرف مرحوم کے ساتھی اساتذہ، بلکہ طلبہ و طالبات بھی اس صدمے سے نڈھال ہیں،حادثات تو زندگی کا حصہ ہیں مگر یہ حادثہ تو نہیں، یہ تو سیدھا سادہ قتل ہے، جوایک اُستاد کی جان لے گیا۔

اب اس واقعہ کے بعد پھر وہی فلم چلے گی، وہی معطلّیاں ہوں گی، وہی بڑھکیں ماری جائیں گی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار پھر اپنا جاہ و جلال دکھائیں گے۔ آئی جی افسروں کی سرزنش کریں گے، پکڑ دھکڑ کے چند واقعات بھی ہوں گے، بس چند روز کے لئے۔ پھر وہی ڈگر پھر وہی قاتل ڈور، پھر کسی معصوم کی لاش اور پھر کسی ماں کے بین۔ یہ ہے ہماری حکومتی رٹ، دُنیا چاند سے بھی آگے نکل گئی، ہم اپنے ملک میں دھاتی ڈور کا استعمال ختم نہیں کرا سکے، کہنے کو بسنت پر بھی پابندی ہے اور پتنگ بازی پر بھی،لیکن وہ قانون ہی کیا جس کا نفاذ ہو جائے، آسمان پر پتنگیں تو سب کو نظر آتی ہوں گی،چیف سیکرٹری،آئی جی اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی جب کبھی اپنے شاہانہ دفاتر سے باہر آتے ہوں گے تو سر اٹھاتے ہی کوئی نہ کوئی پتنگ ضرور اڑتی دیکھتے ہوں گے،

کیا کبھی انہوں نے اس کا نوٹس لیا،کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا،نہیں صاحب ذمہ دار ٹھہرانے کا مرحلہ تو تب آتا ہے جب ڈاکٹر آفتاب احمد جیسا کوئی معصوم اور جواں سال لیکچرار یا پھر کوئی معصوم بچہ گلے پر ڈور پھرنے سے قتل ہوتا ہے،چینلوں پر بریکنگ نیوز چلتی ہے کہ قاتل ڈور نے ایک اور قیمتی جان لے لی، تب وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حوالے سے یہ فوری بیان جاری ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، علاقہ کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا،آئندہ ایسا واقعہ ہوا تو ذمہ دار ضلع کا ڈی سی اور ڈی پی او ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔یہ فلم کوئی پہلی بار تھوڑی چلے گی۔یہ تو بیسویں بار چل چکی ہے۔ ایک دو دن کا واویلا ہوتا ہے، پھر سب لسی پی کر خراٹے لینے لگتے ہیں۔

کوئی بتائے کہ ہم کس قسم کی انتظامیہ اور پولیس کے سپرد اپنے امن و امان کی ذمے داری کئے ہوئے ہیں۔پولیس کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ اڑتی چڑیا کے پَر گن لیتی ہے، یہ کیسی نااہل اور غیر ذمہ دار پولیس ہے جسے آسمان پر اڑتی پتنگیں نظر نہیں آتیں۔ کئی دِنوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں کہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور دیگر شہروں میں لوگ ڈھول بجا کر پتنگیں اڑا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اُن کی وڈیوز ڈال رہے ہیں، حالانکہ پنجاب میں تو پتنگ بازی پر پابندی ہے۔کیا کسی کے کان پر جوں تک رینگی؟ کیا میڈیا چینلز آئے روز یہ خبر نہیں چلاتے کہ فلاں شہر میں پابندی کو ہوا میں اڑا دیا گیا، کیا وزیراعلیٰ کو کوئی ہوش آیا، کیا چیف سیکرٹری نے کوئی نوٹس لیا، کیا آئی جی نے اپنے کسی ماتحت کی گرفت کی، کچھ بھی تو نہیں ہوا، مگر اب ڈاکٹر آفتاب احمد کی جان گئی ہے تو صبح سے شام تک یہی راگ الاپا جائے گا کہ پتنگ اڑانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، ہر ایس ایچ او اپنے علاقے میں پتنگ بازی کو روکنے کا ذمہ دار ہو گا، وگرنہ اُسے معطل کر دیا جائے گا۔ ارے حکمرانو یہ تکنیک اب بدلو، جانیں لینے کے بعد ہوش میں آنے کی غفلت چھوڑو، کرنا ہے تو وقت سے پہلے کچھ کرو، اگر کچھ نہیں کر سکتے تو خدا کے لئے یہ تخت ِ حکمرانی چھوڑو اور کہیں ویرانے میں جا کر اپنی زندگی گزارو۔

ہر سال اربوں کھربوں روپے اس انتظامیہ اور پولیس پر خرچ ہوتے ہیں کہ یہ قانون کی عملداری قائم کریں، نجانے کیا کیا سہولتیں اور وسائل انہیں قوم اپنا پیٹ کاٹ کر فراہم کرتی ہے، مگر یہ نااہل اور توقعات پر پورا اترنے سے قاصر رہتے ہیں۔ان سے ناجائز اسلحہ پکڑا جاتا ہے اور نہ منشیات کا دھندہ رُکتا ہے،مگر یہ نااہل توقعات پر پورا اترنے سے قاصر رہتے ہیں۔ان سے ناجائز اسلحہ پکڑا جاتا ہے اور نہ منشیات کا دھندہ رکتا ہے۔ہر چیز بآسانی مل جاتی ہے، بس آپ کے پاس پیسے ہوں، منشیات استعمال کرنے والوں کی زندہ لاشیں ہر شہر میں جگہ جگہ پڑی نظر آتی ہیں، مگر بیچنے والے کبھی گرفت میں نہیں آتے، ناجائز اسلحہ قانون شکنوں کے پاس اتنا ہے کہ جیسے معاشرہ بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے، آج تک ناجائز اسلحہ تو کسی سے پکڑا جاتا ہے،اسے بیچنے والے نہیں پکڑے جاتے، اب یہی حال پتنگ فروشوں کا ہے۔ ظاہر ہے پتنگیں اور دھاتی ڈور اسی شہر لاہور میں بک رہی ہیں اُن کی دکانیں بھی ہیں اور انہیں تیار کرنے کے کارخانے بھی۔

حیرت ہے کہ کبھی اُن کے خلاف آپریشن نہیں کیا گیا۔ایک بار پوری قوت سے اس مافیا پر ہاتھ ڈالا جائے۔اُن کے سامان کی ضبطی کے ساتھ ساتھ اُن کے خلاف قتل کی اعانت کرنے پر مقدمے درج کئے جائیں تو پھر دیکھتے ہیں لاہور یا کسی اور شہر میں دھاتی تار کیسے بنتی ہے، کیسے بکتی ہے،جس طرح منشیات پینے والوں کی بجائے بیچنے والوں کو پکڑنا ضروری ہے اسی طرح پتنگیں اور دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔وگرنہ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں، آج ڈاکٹر آفتاب احمد کی جان گئی ہے تو کل کوئی دوسرا اس قاتل ڈور کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں