قوس قزح کیا ہے 7

قوس قزح کیا ہے

57 / 100

قوس قزح کیا ہے
بارش تھمے،بادل چھٹ جائیں اور سورج اپنا چمکتا دمکتا مکھڑا نکالے تو بعض وقت اس کے بالکل سامنے آسمان پر ایک رنگین کمان سی بن جاتی ہے

آمنہ ماہم
بارش تھمے،بادل چھٹ جائیں اور سورج اپنا چمکتا دمکتا مکھڑا نکالے تو بعض وقت اس کے بالکل سامنے آسمان پر ایک رنگین کمان سی بن جاتی ہے۔اسے قوس قزح یا دھنک کہتے ہیں۔یہ صرف دن میں دکھائی دیتی ہے۔
رات میں نہیں،کیونکہ یہ سورج کی روشنی ہی سے بنتی ہے۔
سورج کی روشنی ظاہر میں سفید نظر آتی ہے لیکن اصل میں اس کے اندر مختلف رنگ کی کرنیں ہوتی ہیں جو آپس میں گڈمڈ ہونے کی وجہ سے الگ الگ دکھائی نہیں دیتیں۔جب یہ کرنیں شیشے یا پانی میں گزرتی ہیں ٹیڑھی ہو کر الگ الگ ہو جاتی ہیں اور ہم ان کے رنگ جدا جدا دیکھ سکتے ہیں۔

اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ایک منشور لیجیے۔یہ خاص قسم کے شیشے کا ایک مثلث ٹکڑا ہوتا ہے۔اس منشور کو سورج کی طرف کرکے آہستہ آہستہ گھمائیے۔

آپ کو اس کے اندر کئی رنگ نظر آئیں گے۔اب کسی اندھیرے کمرے میں جایئے اور اتنی کھڑکی کھولیے کہ اس میں سے سورج کی باریک سی کرن اندر آسکے۔

اس کرن کے سامنے ایک میز رکھیے اور میز پر سفید کاغذ،منشور کو روشنی کے سامنے کرکے آہستہ آہستہ گھمایئے۔کاغذ پر رنگین دھنک سی جھلملاتی نظر آئے گی۔
بالکل اسی طرح آسمان پر دھنک پڑتی ہے۔بارش تھمنے کے بعد ہوا میں پانی کے ننھے ننھے ذرے رہ جاتے ہیں۔
سورج کی کرنیں ان ذروں میں سے گزرتی ہیں تو ٹیڑھی ہو کر الگ الگ ہو جاتی ہیں اور ہم کمان کی صورت میں ان کے علیحدہ علیحدہ رنگ دیکھتے ہیں۔مگر یہ تماشا تھوڑی دیر کے لئے ہوتا ہے۔جونہی ذرے ختم ہوتے ہیں کرنیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔
اور رنگین کمان غائب ہو جاتی ہے۔
دھنک پڑنے کے لئے ضروری ہے کہ سورج یا توعین مشرق میں ہو یا عین مغرب میں۔یعنی سورج کی شعاعیں پانی کے قطروں پر ترچھی پڑنی چاہیں۔اگر سورج مشرق کی جانب ہو گا تو دھنک مغرب کی طرف پڑے گی اور مغرب کی جانب ہو گا تو مشرق کی طرف۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں