قرضوں کا بوجھ 156

قرضوں کا بوجھ

62 / 100

قرضوں کا بوجھ
محمد کامران کھاکی
اگر ہم پوری دنیا کی معاشی حالت کا جائزہ لیں تو یہ حیران کن ہوگا کہ اس وقت دنیا میں ملکوں کا قرض (ادھار) ان کی پیداوار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر کوئی بھی ملک ادھار کیوں لیتا ہے؟ اور اس کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟
ہوا کچھ یوں کہ تیرہویں صدی عیسوی میں مارکوپولو جب چین پہنچا تو وہاں وہ چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ جلنے والا پتھر (کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ اس وقت چنگیز خان کا پوتا قبلائی خان چین پر حکمران تھا۔ مارکوپولو نے بینک کا نظام سب سے پہلے وہاں سے سیکھا اور واپس اٹلی جاکر یورپ والوں کو سکھایا۔ اس وقت تک ادھار صرف انفردی حیثیت میں دیا جاتا تھا یا پھر کچھ پگوڈے کے پیشوا یہ کام کرتے تھے، جو لوگوں کا مال جمع بھی کرتے اور انہیں ضرورت پڑنے پر ادھار بھی دیتے۔ مگر پھر مرکزی بینک کا نظام شروع ہوا جو مارکوپولو چین سے سیکھ کر آیا تھا اور کاغذی کرنسی کو بھی عروج حاصل ہوا۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی بینک، پیرس کلب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، جی 20 اور ان جیسے کئی اتحاد قائم ہوئے۔ جو اس وقت کے چند خاندانوں کی ملکیت تھے جو امیر ترین تھے اور انہوں نے دنیا کو اپنے کنٹرول میں لینے کےلیے جنگ کے بجائے اقتصادیات کا سہارا لیا۔ اور اس کا پہلا تجربہ 1953 میں کیا گیا، جب شاہ ایران نے برطانوی پٹرولیم کمپنی کو قومی ملکیت میں لیا تو برطانوی ایم-16 اور امریکی سی آئی اے نے محمد مصدق کی جگہ ایرانی جنرل فضل اللہ زاہدی کو شاہ ایران بنادیا۔ اس تجربے سے ان خاندانوں کو تقویت پہنچی کہ ان کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا۔ تب انہوں نے اپنے معاشی کرائے کے قاتلوں میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔
یہ تو اب بھی کئی لوگوں کو یاد ہوگا کہ 1970 سے پہلے انگریز بہادر تیل جیسی قیمتی چیز بھی کوڑیوں کے بھاؤ مسلم ممالک سے نکال کر لے جاتا رہا، پھر جب ان ممالک کو سمجھ آئی کہ یہ تو ایک قیمتی خزانہ ہے تو تیل کا بھاؤ بہت اوپر چلا گیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی دولت میں اتنا اضافہ ہوا کہ خرچ کرنے کی سمجھ نہ آئی اور وہ دولت پھر انہی یورپی ممالک کے بینکوں میں چلی گئی۔ اب یورپ نے اس رقم کو کسی کو سود پر دینا تھا، مگر چونکہ اس دور میں تمام امیر ممالک کساد بازاری کا شکار تھے اور وہاں سرمایہ کاری کےلیے کسی کا ملنا مشکل تھا تو انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو اپنا شکار بنایا۔ برطانیہ نے برٹن اوڈز کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد بہت سی کرنسی چھاپی، جس سے دولت کی بہتات ہوگئی۔ ترقی پذیر ممالک میں مغربی مشیر اسی مشن پر تھے جو ان ممالک کو معیشت کو مضبوط کرنے کےلیے اس بات پر آمادہ کرتے کہ بہت کم سود میں دولت کے انبار مل رہے ہیں، اس لیے لے لو تاکہ آپ کے ملک کی معیشت مضبوط ہوسکے۔ اور ان ممالک کے سیاست دانوں نے وہ دولت لے کر اپنی معیشت ٹھیک کرلی اور ملک کو مقروض کردیا۔ ان چند خاندانوں کے ان شکاریوں نے ترقی پذیر ممالک کو اس قرض کی دلدل میں ایسا دھکیلا کہ وہ اب تک اس میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ اور جب ان میں سے کوئی ملک قرض اور سود کی ادائیگی نہیں کرسکتا تو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ان کی مدد کو آجاتا ہے کہ میں ان قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے میں آپ کی مدد کروں گا، بدلے میں آپ اپنے ملک کے ذخائر تک ہمیں رسائی دو یا سستے داموں ہمیں بیچو یا اپنے ادارے ہمارے کنٹرول میں دو، وغیرہ۔
ساتھ میں کڑی شرائط کہ اقتصادی استحکام کےلیے اپنی کرنسی کی قیمت کم کرو، سرکاری اخراجات کم کرو، ملک میں قیمتوں پر کنٹرول ختم کرو، مطلب مہنگائی کرو، تنخواہوں میں تخفیف کرو، باہر کی سرمایہ کاری اور درآمدات کےلیے دروازے کھولو، کارخانوں اور کھیتوں میں وہ چیزیں پیدا کرو جو برآمد کرسکتے ہو، سرکاری صنعتوں اور کارخانوں کی نج کاری کرو اور اگر بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے تو پروا نہ کرو، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کا بجٹ کم کرو۔ یعنی ملک کا بیڑہ غرق کرو اور بھکاری بن کر ان کے در پر ہاتھ باندھے کھڑے رہو۔
جیسے کوئی مذہب انسانوں کو کنٹرول کرتا ہے اسی طرح کرنسی انسانوں کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔ اسی بات کا ذکر خود ان ہی ہے ایک اقتصادی کرائے کے قاتل جان برکنز نے اپنی کتاب میں کیا، جو 2004 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں جان برکنز خود سمیت، دنیا کے تمام قرض دہندگان کو بھی معاشی کرائے کے قاتل کا نام دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ صرف چند خاندان ہیں جو ان کو چلانے والے ہیں اور وہی دنیا کو کنٹرول کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بنجمن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا ’’یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کے عوام بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہوجاتی۔‘‘ 1927 میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ اسٹیمپ (جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا) نے کہا تھا ’’جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ یک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنالیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو۔‘‘
پاکستان بھی اسی 70 کی دہائی میں پہلی مرتبہ ان کا شکار ہوا اور آج حالت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2020 کے اختتام پر ملک کے ذمے قرض اور واجبات 44.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ ایک سال کے دوران قرضوں اور واجبات میں 3.3 ٹریلین روپے یا 7.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ قرض اور واجبات رواں مالی سال کے متوقع جی ڈی پی حجم 45.6 ٹریلین روپے کے 98.3 فیصد کے مساوی ہے اور ہمارے آئی ایم ایف سے مذاکرات دوسری قسط کےلیے جاری ہیں۔
ان سودی قرضوں سے ہم خود ہی اپنے پاؤں میں غلامی کی زنجیریں ڈالتے ہیں اور پھر لمحہ بہ لمحہ ان کی پکڑ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ ان کی بدولت نہ خودمختاری برقرار رہتی ہے بلکہ سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی ملک نے قرض لے کر ترقی کرلی ہو، بلکہ ان قرضوں سے ملک کی حکومت اور عوام پھندوں میں ضرور پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام قرض کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی اختلاف نہیں کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو ایک دوسرے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، جس سے کوئی فرد یا قبیلہ کسی دوسرے فرد یا قبیلے سے امداد لے سکتا ہے، اسی طرح کوئی ملک کسی دوسرے ملک سے بھی کوئی ایسی ضرورت پوری کرنے کےلیے امداد لے سکتا ہے جو اپنے وسائل سے پوری نہ ہوسکتی ہو۔ مگر اتنی کہ وقت پر اس کی ادائی ہوسکے۔ لیکن کفار سے، وہ بھی ان کی شرائط پر بے تحاشا قرض لینا اپنے آپ کو گروی رکھنے کے مترادف ہے۔
اگر حکمران واقعی ان قرضوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ساکھ اور اعتماد کو قوم میں بحال کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلامی طریقہ کار پر قوم کو کفایت شعاری، سادگی اور زہد و قناعت پر آمادہ کیا جائے۔ امیروں اور حکمرانوں کو پہلے خود کو پرتعیش زندگی چھوڑ کر عام آدمی کی طرح زندگی گزارنی ہوگی تاکہ عوام کا بھروسہ قائم ہو اور ساری قوم ایک ہوکر ان قرضوں سے نجات کےلیے اپنا حصہ ڈال سکے۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب عوام کو یقین ہو کہ یہ انہی کے فلاح و بہبود کےلیے ہے۔ لیکن جب تک بالائی طبقہ اپنی موجودہ روش تبدیل نہیں کرتا، عوام سے کسی ایسے اقدام کی امید حماقت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں