قرآن کے فضائل 22

قرآن کریم کے فضائل

9 / 100

قرآن کریم کے فضائل
حافظ محمد جمیل
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اوراس کی آخری کتاب ہے ۔ اس کا ایک معجزہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس نے اپنے سے پہلے کی سب الہامی کتابوں یعنی توراۃ ، زبور اور انجیل کو منسوخ کردیا ہے۔ اوران میں سےکوئی بھی آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں ۔ بعد میں آنے والوں نے اس مقدس کتابوں میں ردو بدل کر دیا۔ جیسا کہ قرآن مجید بیان کرتا ہے ۔
سورۃ النساء آیۃ نمبر 46 میں ہے کہ
مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ
اور کچھ یہودی (تورات کے) کلمات کو اپنے (اصل) مقامات سے پھیر دیتے ہیں
قرآن تمام پہلی کتابوں کی تعلیمات کواپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔اور قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ سورۃ النحل کی آیۃ نمبر 89 میں ارشادگرامی ہے کہ
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ
اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا۔اس وجہ سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں ردو بدل کیا گیا لیکن قرآن مجید میں ردو دبدل کرنا ان کی طاقت میں نہیں ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ خود خدا پاک نے لیا ہے ، جیسا کہ سورۃ الحجر کی آیۃ نمبر 9 میں ارشاد ربانی ہے ۔
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے
اور قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے کہ تمام مخلوقات مل کر بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔قرآن کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہ یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔اس نےان کو دنیا کی عظیم ترین طاقت بنا دیا۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027
ترجمۃ: تم میں سے بہترین وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سیکھائے ۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا:
اعربوا القرآن فان من قرأ قرآن فاعربہ، فلہ عشر حسنات، وکفارۃ عشر سیئات ورفع عشردرجات
ترجمہ: جس شخص نے صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھا اس کیلئے دس نیکیا ں ہیں اور اس کے دس گناہوں کا کفارہ ہے اور دس درجات کی بلندی ہے
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ (مسند احمد: 15730)
جب مکہ کے کافر جن کو اپنی عربی پر بڑا فخر تھا کہنے لگے کہ ایسا قرآن تو ہم بھی کہہ ڈالیں تب اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لئے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمائتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہو
پھر اللہ تعالی ٰ نے ارشاد فرمایا:
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
ترجمۃ: پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی (یعنی کافر) اور پتھر (یعنی ان کے بت) ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے
تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو وہ دنیا میں غالب اور سربلند رہے ۔ انہوں نے تین براعظموں پر حکومت کی اور دنیا کو اعلیٰ تہذیب وتمدن اور بہترین نظام ِ زندگی دیا ۔ اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں