قائد اعظم، پرویز مشرف اور اسرائیل 132

قائد اعظم، پرویز مشرف اور اسرائیل

51 / 100

یہ لوگ کون ہیں؟ اس کا جواب ہر اس شخص کو معلوم ہے جو اس مملکتِ خداداد سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًدو سو کے قریب ممالک میں سے واحد خطۂ ارضی ہے جو یوں تو ایک قومی ریاست کہلاتی ہے،مگر اس کی تخلیق کے وقت اس کی قومیت ،نسل، رنگ اور زبان کی بجائے’’مسلمان‘‘ تھی۔قیامِ پاکستان تک کوئی ایک بیان، تقریر، تحریر یا مراسلہ ایسا نہیں ملتا جو اس بات کا اعلان نہ کرتا ہو کہ یہ ملک ہم صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو بھی پاکستان کے اس’’ تصورِ قومیت‘‘ پر ایمان رکھتا ہے اسے اُن لوگوں کے چہرے بھی معلوم ہیں،دلوں کا بغض بھی پتہ ہے اور حدوداربعہ بھی۔ پاکستان کے نظریے پر ایمان رکھنے والا خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے ’’اساسی نظریے‘‘ سے ویسے ہی جلتے ہیں جیسے شیطان کسی شخص کے نیک عمل سے جلتا اور کُڑھتا ہے۔ یہ لوگ گذشتہ ستر سال سے بار بار کسی نہ کسی ایسے لاحاصل موضوع کو چھیڑتے رہتے ہیں جس سے اس ملک کی ’’بنیادی ہیتِ ترکیبی‘‘ یعنی اسلام اورمسلمان پر زد پڑتی ہو۔ کبھی یہ قوموں کے استحصال کی بات کریں گے اور کبھی نسلی تقسیم کی۔ قائد اعظمؒ کی گیارہ ستمبر 1947ء کی تقریر، 1971ء میں بھارتی فوج کی مداخلت سے بنگلہ دیش کی تخلیق، اقلیتوں خصوصاً قادیانیوں کی حالتِ زار، توہینِ رسالت کے معاملے میں پاکستانیوں کا جذباتی پن اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد بیان کرنا ان کی محفلوں میں گفتگو کے عمومی موضوعات ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جنرل ضیا الحق کو گالی دیتے ہیں اور اسے ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہر اتے ہیں ۔ ان کی حالت، دِلّی کے ان متعصب ہندو ٹورسٹ گائیڈؤں جیسی ہے، جو قطب مینار کے ساتھ 1190ء میں التمش کی تعمیر کردہ ’’مسجدِ قوت الاسلام‘‘ کے سامنے کھڑے ہو کر سیاحوں کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ یہ دیکھو اورنگزیب عالمگیر نے مندروں کو گرا کر ان کے پتھروں سے یہ مسجد بنائی تھی ، جبکہ اورنگزیب عالمگیر اس مسجد کے بننے کے 458سال بعد ہندوستان کے تخت پر بیٹھا۔

متعصب ہندو مذہبی ہویا سیکولرمسلمان ،دونوں اورنگ زیب کو بُرا بھلا کہہ کر خوش ہوتے ہیں،مگر یہی متعصب ہندو گائیڈاسکندرہ میں اکبر کے مقبرے پر اس کی وسیع المشربی کے گن گاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے اس طبقے کے دلوں میں اکبر کے بعد مشرف کی مورتی بالکل ویسے احترام سے سجی ہوئی ہے ،جیسے آج کے دور کے بیشمار یہودیوں کے دلوں میں سامری کے سونے کے بچھڑے(Golden calf) کی مورتی، دولت کے حصول اور برکت کیلئے سجی بیٹھی ہے۔ یہ طبقہ مشرف دور میں اس ملک کی اساس پر حملہ کرنے، اس کے نظامِ تعلیم کو سیکولر بنانے اور اس ملک کے عالمی منظرنامے کو لبرل اور مغربی اقدار سے ہم آہنگ کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ زرداری، نوازشریف اورعمران خان کے ادوار میں بھی مشرف کی ہرپالیسی پر نکتہ چینی ہوتی رہی، مگر اس کے سیکولر اقدامات ،جیسے خواتین کی تیس فیصد بغیرالیکشن لڑے’’ اسمبلی کی نشستوں کی بھیک‘‘، وغیرہ جیسے اقدامات سے آج بھی محبت کی جاتی ہے۔ مشرف دور میں ہی اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر روابط اور اسے تسلیم کرنے جیسے موضوع پر آج یہ لوگ ایک مشن سمجھ کر پر وقفے وقفے سے گفتگو شروع کرتے ہیں۔ پرویز مشرف اور اس کے سیکولر نظریاتی حواریوں کے سینے پر ایک تمغہ یہ بھی سجا ہے کہ جب پرویز مشرف ،افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے سے معزول کرنے کے بعد، محدود مارشل لاء لگا کر دوبارہ وردی میں صدر منتخب ہوا تو 9 اکتوبر 2007ء کو اسرائیل کے صدر شمعون پیرز نے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود بھی اسے اس کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ میں مشرف کو اپنی کی روزانہ دعاؤں میں یاد رکھتا ہوں۔ اس نے نیوز ویک کو انٹرویو میں کہا
: “You have shown responsibility and strength in preventing the spread of violence and terrorism on many occasions and I carry in my heart your support for peace in the Middle East which I heard directly from you.” (آپ نے بے شمار مواقع میں تشدد اور دہشت گردی کو روکنے میں جس ذمہ داری اور قوت کا مظاہرہ کیااور میرے دل میں آپ کے ان جذبات کی بہت قدر ہے جو آپ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بارے میں رکھتے ہیں اور میں نے براہِ راست آپ کی زبانی سنے ہیں‘‘ یہ وہی دور ہے جب پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی ترکی میں اپنے ہم منصب اسرائیلی وزیر خارجہ سے بیک ڈور ملاقات کے چرچے ہوئے تھے۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد اب اسکے ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مشرب و ہم ذہن گروہ اس بحث کو بار بار چھیڑتا رہتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسی ہی بیک ڈور ملاقات 14جنوری 1953ء کو قادیانی وزیرخارجہ سر ظفر اللہ اور اسرائیلی سفیر ’’ابادیبان‘ کی واشنگٹن میں ہوئی تھی۔اس کے علاوہ باقی ستر سال خاموشی کے ہیں۔ یہ طبقہ عام طور پر ایک فقرہ استعمال کرتا رہتا ہے کہ ’’ہمیں ملّاؤں کا نہیں قائداعظم کا پاکستان چاہیے‘‘،اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے سامنے اسرائیل کے قیام کے بارے میں قائداعظم ؒاور مسلم لیگ کا نظریہ کھل کر بیان کیا جائے تاکہ سند رہے۔ مسلم لیگ کی1917ء کی سالانہ میٹنگ کلکتہ میں منعقدہوئی جس میں مسلم اُمہ کو ممالک میں تقسیم کی سازش کے خلاف قرارداد منظور کی گئی اور بغداد اور یروشلم کی ناقابلِ تقسیم حیثیت کے دفاع کا مطالبہ کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے صرف چند دن بعد قائد اعظمؒنے اگست 1947ء کے آخری ہفتے میں ہونے والی فلسطینیوں سے یکجہتی کی کانفرنس میں عبدالرحمٰن صدیقی کی قیادت میں پاکستان کا وفد قاہرہ بھیجا۔ اس سے دو سال پہلے جب مغرب کا یہ منصوبہ تکمیل کے بالکل قریب تھا، جس کے تحت یہودیوں کی ریاست کا قیام عمل میں لایا جاناتھا تو قائداعظمؒ نے 12اکتوبر1945ء کو اپنے اس بیان میں کہا تھا: “Every man and the women of Muslim world will die before Jewry seizes Jerusalem. I hope the Jews will not succeed in their nefarious designs and I wish Britain and America should keep their hands off from them, and then I will see how the Jews conquer Jerusalem.” (اس سے پہلے کہ یہودی یروشلم پر قبضہ کر لیں مسلمانوں کی ہر عورت اور مرد کٹ مرے گا۔ میں امید رکھتا ہوں کہ یہودی اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے۔
میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اپنا ہاتھ اٹھا لیں پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہودی یروشلم کیسے فتح کرتے ہیں)۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے صرف اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف بیان ہی نہیں دیئے بلکہ اسرائیل یروشلم سنٹر فار پیس نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلق پر اتنی ایک مفصل تحقیق شائع کی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مئی 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے فوراًبعد جب عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو امریکی حکام نے اسرائیل کو بتایا کہ پاکستان کے گورنر جنرل قائد اعظمؒ نے چیکوسلاویکیہ سے ڈھائی لاکھ بندوقیں خرید کر لڑنے والے مجاہدین کو دیں اور اٹلی سے تین فوجی طیارے خرید کر مصر کو دیئے تاکہ وہ اسرائیل کے خلاف لڑائی لڑ سکیں۔ یہ تھا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا اسرائیل کے خلاف طرزِ عمل۔ انہوں نے ہمیشہ اسرائیل کو ’’مغرب کی ناجائز اولاد‘‘ کہا۔ اس مغرب کی ’’ناجائز اولاد۔اسرائیل‘‘ کے حق میں کبھی کبھی میرے ایک ہم وطن طبقے کو کھجلی ہوتی رہتی ہے۔یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ شاید اب پاکستان بدل چکا ہے یا اس کے عوام ذرا روشن خیال ہو چکے ہیں ۔انہیں اندازہ ہوجا چاہیے کہ یہ لوگ سیدالانبیاء ﷺاور مسلم اُمہ سے آج بھی بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ اس کے لئے ارطغرل ڈرامے کی مقبولیت اور دوسرا علامہ خادم حسین رضویؒ کا جنازہ ثبوت کے طور پر کافی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگرکسی کو اسرائیل کے بارے میں کجھلی ہوتی ہے تو اسے فوراًکسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں