عبد الرافع رسول 0

قائداعظمؒ اور کشمیر

59 / 100

قائداعظمؒ اور کشمیر
عبد الرافع رسول
قائد اعظم بیسویں صدی کے عظیم اور بصیرت رکھنے والے مسلمانوں کے قائدتھے۔قیام پاکستان انکی سیاسی بصیرت اور بیداری کے مظہر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد مملکت کا تحفہ دینے والے قائد نے کشمیرکوشہ رگ قراردیکرپاکستان کے ارباب حکومت اورپوری پاکستانی قوم پریہ ذمہ داری ڈال کر اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے کہ کشمیری مسلمانوں کے بغیرہماری آزادی کاکوئی مطلب نہیں۔ ان کا فرمان کہ اپناالگ ملک حاصل کئے بغیر مسلمانان ہند ہندوستان میں دوسرے درجے کے شہری رہیں گے۔ یہ فرماتے ہوئے دراصل قائد اعظم نے اس یقین کی تصدیق کردی کہ ہندو کبھی بھی مسلمانوں کو عزت اور وقار کے ساتھ نہیں رہنے دیں گے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اسلامیان کشمیرکی اس وقت کی مقبول قیادت نے غداری کرکے سرزمین کشمیرپرہنود کواپنے ناپاک پنجے گاڑنے کاموقع فراہم کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے 1926 میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیری زعما سے ملاقاتیں بھی کیں اسوقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال تو زیادہ نمایاں نہیں تھے لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت زار درگرگوں تھی ۔ قائدا عظم دوسری بار1929 تیسری بار 1936 اور چوتھی بار1944 میں کشمیر گئے جہاں آپ نے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے اجلاسوں سے خطاب بھی کیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ کشمیر میں قیام کیا۔8مئی1944 کوقائداعظم محمدعلی جناح اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے ہمراہ دورہ کشمیربڑا مثالی تھا۔آپ جموں کے سوچیت گڑھ کے راستے ریاست میں جلوہ افروز ہوئے توجموں کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی قائداعظم کا شایان ِ شان استقبال کیا گیا۔قائدکے سامنے سروں کاایک سمندر تھاجس سڑک سے قائد کا گزر ہونا تھاوہاں محرابیں سجائی گئی تھیں ، درودیوار کو آراستہ کیا گیا تھا، جوش وخروش کا وہ سماں کہ عید کا گماں ہوتا تھا۔ ادھراپنے معز ز مہمان کے استقبال میں کشمیر کی دو سیاسی حریف پارٹیاں مسلم کا نفرنس اور نیشنل کا نفرنس چشم براہ تھیں۔ دو نوں جماعتیں الگ الگ استقبالی وفود میں منقسم تھیں ،مسلم کانفرنس کی طرف سے قائداعظم کوخوش آمدیدکہنے کیلئے میروا عظ محمد یوسف شاہ بہ نفس نفیس موجود تھے ، ان کے ہمراہ میرک شاہ اندرابی کے علاوہ محبین اور کا رکناں کی ایک کثیر تعداد بھی بر سر موقع موجود تھی جبکہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے بخشی غلام محمد استقبالی جلوس کی قیادت کر رہے تھے، نیشنل کانفرنس کے ورکر قائداعظم کے استقبال کا سہرا صرف اپنے سر باندھنے کے لئے پیچ وتاب میں تھے۔ بانہال اور قاضی گنڈ کا سفر کر تے ہوئے میرواعظ کے قافلے پر نیشنلی ورکروں نے لاٹھیوں اورکدالوں سے دھاوا بولا۔ میرواعظ کو ڈرانے دھمکانے کیلئے ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا یا گیا ۔ ا ستقبالی جلوس با لٓا خر سرینگر کے قلب میں واقع پرتاپ پارک میں پہنچ کر رک گیا۔ تقریبا60 ہزار کشمیری مسلمانوں کا پر جوش مجمع پارک میں قائداعظم کی ایک جھلک دیکھنے اوران کا خطاب سننے کیلئے بے تاب ومضطرب تھا۔ سرینگر کی پرتاب پارک میں قائداعظم پر اتنی پھول پتیاں نچھاور کی گئیں کہ پنڈال پھولوں کے فرش میں بدل گیا۔ تقسیم ہند سے قبل یکم تا چھ اگست 1947 میں گاندھی کے دورہ کشمیر کا انتظام کیاگیا ۔ ان دنوں قائد اعظم بھی کشمیر کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن مانٹ بیٹن نے انہیں کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی۔ گاندھی نے کشمیر روانگی سے قبل نہرو اور سردار پٹیل سے مشاورت کی۔ دونوں لیڈروں کا خیال تھا کہ کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کیلئے رام چندر کاک کو مہاراجہ کے وزیر اعظم کی اہم پوسٹ سے ہٹانا ضروری ہے چنانچہ گاندہی جی کے دورے کے بعد وائسرائے ہند کی مدد سے پنڈت کاک کی جگہ بھارت حمایت یافتہ مہاجن کو آگے لایا گیا جسے اندرون خانہ بھارتی انتہا پسند وزیر داخلہ سردار پٹیل کی حمایت حاصل تھی اور جسکے مسلح رضا کاروں نے مہاراجہ کی ڈوگرہ فوج کیساتھ مل کر ریاست جموں و کشمیر میں قتل عام اور خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرکے کشمیری مسلمانوں کو پاکستان میں دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا کیا۔ حقیقت یہی ہے کہ نہرو ، مانٹ بیٹن سازش کے باعث کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت کو دھویں کے بادلوں میں چھپایا گیا ہے۔ مانٹ بیٹن کے پریس سیکریٹری ایلن کیمبل جانسن نے اپنی کتاب مشن ود مانٹ بیٹن میں لکھا ہے کہ 24 اکتوبر کی رات مانٹ بیٹن تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ کے اعزاز میں ایک سرکاری ڈنر میں مصروف تھے جب نہرو نے انہیں بتایا کہ افغان قبائل نے سری نگر پر حملہ کر دیا ہے چنانچہ اگلے دن صبح یعنی 25 اکتوبرنئی دہلی میں کیبنٹ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں مانٹ بیٹن نے مشورہ دیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان بھی کشمیر میں فوجی مداخلت کریگا جبکہ دونوں جانب سے انگریز فوجی افسران کی جبگ میں شمولیت مناسب نہیں ہے اس لئے پہلے کشمیر کے عارضی الحاق کی بات کی جائے۔ دریں اثنا بھارتی مشیر وی پی مینن نے بذریعہ طیارہ 25 اکتوبر کو سری نگر پہنچ کر مہاراجہ کے نئے وزیر اعظم مہر چند مہاجن سے ملاقات کی لیکن مہاراجہ نے ئی دہلی سے لائی ہوئی دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ بہرحال مہاراجہ کو سری نگر چھوڑ کر جموں جانے کا مشورہ دیا گیا جسے مہاراجہ نے پس و پیش کے بعد تسلیم کر لیا۔ مہاراجہ 26 اکتوبر کی رات جموں پہنچے تھے جبکہ مینن دوبارہ نئی دہلی گئے جہاں مبینہ طور پر مہاراجہ کی جانب سے عارضی الحاقِ کشمیر کی دستاویزات ڈرافٹ کی گئی جس پر مانٹ بیٹن نے مہاراجہ کے دستخط کرائے جامے کے بعد لکھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ریاست میں امن قائم ہونے کے بعد کشمیری عوام کی رائے سے کیا جائیگا۔اِ سی اثنا میں بھارت مسئلہ کشمیر خود اقوام متحدہ میں لے گیا لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابق کشمیریوں کو حق خوداردیت دینے اور کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادپر دستخط کرنے کے باوجود آج تک گریزاں ہے ۔ بھارتی افواج نے کشمیر میں جو مظالم ڈھائے ہیں اس کی مثال خطے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔بھارتی افواج آج بھی ٹارچر سیلوں میں کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور بدترین انسانی سلوک میں ملوث ہے جبکہ کشمیری خواتین کیساتھ غیرانسانی اور غیر اخلاقی سلوک روا رکھا جا رہا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایشیا واچ اور دیگر تنظیموں نے گزشتہ دو عشروں میں اپنی تحقیقی رپورٹوں میں بل خصوص کشمیری خواتین اور نوجوانوں پر ہونے والے جن انسانیت سوز مظالم کی تفصیل بیان کی ہے اسے پڑھ کر تو شیطان بھی شرماتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں