46

فلسطینیوں کی مزاحمت اور اسرائیل کی بے بسی .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

فلسطینیوں کی مزاحمت اور اسرائیل کی بے بسی
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جسے القدس شریف بھی کہا جاتا ہے۔ سنہ1969ء میں 21اگست کے دن غاصب صہیونیوں کی دہشت گردی کا شکار ہوئی اور پوری مسلم دنیا میں اس واقعہ نے کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ حتیٰ تاریخی اعتبار سے مسلم دنیا نے او آئی سی نامی ادارے کی ترتیب بھی اسی دلخراش حادثہ کے بعد انجام دی تھی اور اس تنظیم کے مقاصد میں سے بنیادی اور اول ترین مقصد یہی تھا کہ مسجد اقصیٰ کو صہیونی دہشت گردی سے محفوظ کرنا اور فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنا۔ آج اس ہولناک حادثہ کو 52برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ حالیہ 21اگست کو اس حادثہ کو گزرے پورے باون برس مکمل ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہاں پر یہ ہے کہ جس مسلم دنیا نے مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لئے بلند و بانگ دعوے اور اعلام کئے تھے آج اس مسلم دنیا کی بے حسی بھی تاریخی طور پر سیاہ اوراق میں درج کر لی گئی ہے۔
دوسری طرف فلسطینی ہیں، جنہوں نے نہ صرف فلسطین کے چپہ چپہ کا دفاع کیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ بے حس عالمی برادری اور خواب غفلت میں پڑی نام نہاد مسلم برادری کو بھی اپنی مزاحمت سے جھنجھوڑنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اگر چہ فلسطینیوں کی مزاحمت سے کاری ضربیں صہیونیوں پر لگتی ہیں لیکن اس کا درد کہیں نہ کہیں اسرائیل کے مغربی سرپرستوں اورعرب اتحادیوں کو بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ستر سال میں کئی ایک جنگوں کے ذریعہ فلسطینیوں کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ ناکام رہا۔ حالیہ گیارہ روزہ جنگ میں جس کو فلسطینیوں نے سیف القدس کا معرکہ قرا ر دیا تھا، اس معرکہ میں بھی فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیل بری طرح بے بس نظر آیا ہے۔
اسرائیل اپنی تمام شکست اور پسپائی کا بدلہ لینے کے لئے اگر چہ غزہ کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے تو اس کا ساتھ دینے میں مصر بھی اسرائیل کا اتحادی بن کر رفح کراسنگ کو بند رکھتے ہوئے فلسطینیوں کی مصیبت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل اگر غزہ اور فلسطین کے مغربی کنارے پر بمباری اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو موت کی نیند سلاتا ہے تو دوسری جانب اسرائیل کے عرب اتحادی ممالک نت ئے انداز سے اسرائیل کی واہ واہ کرتے ہوئے فلسطینی مظلوم عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کئے جانے واقعہ کے باون سال مکمل ہونے پر غاصب صہیونی ریاست کے نا وردی اور بغیر وردی دہشت گردوں نے فلسطینیوں پر نئے حملوں کا آغاز کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ پوری دنیا سے اس ہولناک حادثہ کی یا دمیں آوازیں بلند ہوتیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ کسی کواس بات کا خیال ہی نہیں تھا۔ البتہ فلسطینیوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔ فلسطینی علاقہ غزہ کی پٹی پر حالیہ صہیونی جارحیت میں اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔اسرائیل جو کہ جد ید اسلحہ سے لیس ہو کر غزہ کے عوام پر حملہ آور ہو تھا اس کا مقابلہ کرنے کیلئے عوامی مزاحمت کار ہاتھوں میں پتھر او ر ڈنڈوں کے ساتھ اور چھوٹے اسلحہ کے ساتھ سینہ سپر ہو گئے۔
یہ بائیس اگست اتوار کے دن کی بات ہے کہ جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی درندہ فوجوں نے غزہ پر حملہ کیا اور دیوار کی آڑ سے فلسطینیوں پر گولیاں برسانہ شروع کی تو سوشل میڈیا پر ایسے مناظر بھی دیکھنے کو آئے کہ ان گولیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہتے اور معمولی اسلحہ سے لیس جوان ملت فلسطین کا دفاع کرتے ہوئے صہیونی فوجیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔ بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ جس دیوار کی آڑ سے ایک چھوٹی سے کھڑکی سے سر نکال صہیونی فوجی فلسطینیوں پر گولیاں برسا رہا تھا ایک فلسطینی نوجوان آگے بڑھتا ہے اور اس کھڑکی کے سامنے جا کر صہیونی فوجی کو واصل جہنم کرتا ہے۔ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر جہاں فلسطینی مزاحمت کارو ں کے حوصلوں کو جلا بخشی وہاں ساتھ ساتھ صہیونی بزدل افواج کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔
یہ فلسطین کے با غیرت فرزند ہیں کہ جنہوں نے سرزمین مقدس فلسطین سے عہد کیا ہے، جنہوں نے القدس شریف کی آزادی کا عہد کر رکھا ہے، ان با غیرت فرزندان فلسطین نے شہدائے فلسطین کے خون کے ساتھ عہد کیا ہے کہ خون کے آخری قطرے تک اور جسم میں موجود آخری سانس تک ارض مقدس فلسطین اور قبلہ اول بیت المقدس کا دفاع کریں گے۔ حالیہ صہیونی حملوں کی پسپائی کے بعد دنیا نے دیکھا ہے کہ اسرائیل اگر چہ جدید اسلحہ سے لیس ہے لیکن فلسطینیوں کا عزم اور ہمت و حوصلہ دنیا کے تمام تر جدید ہتھیاروں کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جسے آسانی سے گرایا نہیں جا سکتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین کی مزاحمت زندہ و باقی ہے۔ فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی حریت پسند آوازیں بھی موجود ہیں۔دنیا کے مختلف گوش و کنار میں بسنے والے حریت پسند فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں براہ راست یا پھر بالواسطہ شامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان دنیا کے حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں۔امریکی کاسہ لیسی کو ترک کریں۔ حق و باطل کے اس معرکہ میں حق کی پہچان کریں۔ فلسطین کا قضیہ صرف فلسطینیوں تک محدود نہیں ہے۔فلسطین کا مسئلہ پوری اسلامی دنیا کا مسئلہ ہے۔پوری انسانیت کی بقاء کا مسئلہ ہے۔کیونکہ اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک جعلی ریاست ہے۔آخری الفاظ میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ کئی ایک مواقع آچکے ہیں کہ اسرائیل کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ غزہ پر ہونے والے حملوں میں فلسطینی مزاحمت نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیل بے بس ہے اور بے بس ہی رہے گا۔ عنقریب اسرائیل کو ایک ایسے معرکہ کا سامنا ہو گا کہ جو اسرائیل کے ناپا ک وجود کو صفحہ ہستی سے نابود کر ڈالے گا اور فلسطینیوں کو آزادی نصیب ہو گی اور حریت پسندوں کا قبلہ بیت المقدس بھی آزادی ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں