فرضی دعوت 10

فرضی دعوت

62 / 100

فرضی دعوت
نہ کوئی خادم آیا اور نہ کھانا،مگر بادشاہ یہ ظاہر کر رہا تھا جیسے ان کے سامنے دسترخوان بچھا دیا گیا ہے اور اس پر کھانا لگا دیا گیا ہے
ریحانہ ظفر
بغداد کی ایک مشرقی ریاست پر برمکی خاندان کے ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔اس نے اپنے رہنے کے لئے شان دار محل بنوایا تھا۔بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے در سے کبھی کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ لوٹا تھا۔
وہ غریبوں کا ہمدرد تھا۔
ایک دن محل کے دروازے پر ایک فقیر پہنچا۔اس کے جسم پر پھٹے ہوئے کپڑے تھے۔اس کی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کئی روز سے بھوکا ہے۔محل کا بڑا دروازہ کھلا ہوا تھا۔دروازے پر کئی پہرے دار کھڑے تھے۔
فقیر نے ان پہرے داروں سے کہا:”مجھ پر رحم کرو۔میں نے کئی روز سے کچھ نہیں کھایا ہے۔اب تو میرے لئے ایک قدم آگے بڑھنا بھی دشوار ہو رہا ہے۔“
پھر فقیر نے اس شاندار محل کے در و دیوار پر نظریں ڈالتے ہوئے کہا:”اس عظیم الشان محل کا مالک کون ہے؟یقینا وہ بہت دولت مند ہو گا۔

مجھے اس کا نام بتاؤ۔“
پہرے دار نے فقیر کو غور سے دیکھا اور کہا:”تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟بڑی حیرت کی بات ہے ۔تم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ برمکی بادشاہ کا محل ہے۔بغداد کا سب سے ذہین،عقل مند اور دولت مند حکمراں ہے۔

فقیر نے پہرے دار کی بات سن کر کہا:”ہاں،میں نے بادشاہ کے بارے میں سنا ہے۔وہ تو غریبوں کا سچا ہمدرد ہے۔پہرے دار صاحب! آپ مجھے چاندی کا ایک سکہ دے دیں،تاکہ میں اپنے لئے روٹی خرید لوں۔بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔

پہرے دار نے فقیر سے کہا:”اگر تم بھوکے ہو تو اندر محل میں کیوں نہیں چلے جاتے؟تمہیں کوئی نہیں روکے گا۔میرا آقا بھی اندر ہی ہے۔اس سے ملو اور مدد کی درخواست کرو۔وہ تمہاری مدد ضرور کرے گا۔“
یہ سن کر فقیر خوش ہو گیا اور پہرے دار کا شکریہ ادا کرکے محل کے اندر چلا گیا۔

محل کے اندر ایک شاندار اور خوبصورت تخت پر بادشاہ بیٹھا تھا۔اس نے فقیر کو اندر آتے دیکھ لیا تھا۔فقیر ڈرتے ڈرتے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔شہزادہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔آخر اس نے کہا:”ڈرو نہیں،چلے آؤ۔ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
بتاؤ کیا بات ہے؟“
فقیر ادب سے آگے بڑھا اور بادشاہ کے سامنے جھک کر بولا:”میرے آقا!میں ایک غریب آمی ہوں۔آپ سے مدد چاہتا ہوں۔صبح سے بھوکا ہوں۔اب تک کچھ کھانے کو نہیں ملا۔“
بادشاہ نے اس کی بات غور سے سنی اور پھر فوراً تالی بجاتے ہوئے آواز لگائی:”کوئی ہے؟ایک برتن اور پانی کا لوٹا لاؤ۔
ہم اور ہمارا مہمان کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں گے۔“
فقیر مڑ کر دیکھنے لگا کہ پانی کون لا رہا ہے،مگر کوئی بھی نہ آیا،مگر بادشاہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے پانی آگیا اور وہ اپنے ہاتھ دھو رہا ہے۔نہ خادم نظر آرہا تھا،نہ برتن اور نہ پانی!فقیر حیران تھا۔

پھر بادشاہ نے فقیر سے کہا:”معزز مہمان !آپ بھی ہاتھ دھو لیں!“
فقیر سوچ رہا تھا کہ جب پانی ہی نہیں ہے تو ہاتھ کیسے دھوؤں گا،مگر بادشاہ کے سامنے کیا بول سکتا تھا،مجبوراً اسے بھی وہی کرنا پڑا جو بادشاہ نے کیا تھا یعنی جھوٹ موٹ ہاتھ دھونے لگا۔

اب بادشاہ نے دوبارہ تالی بجائی اور دوسرا حکم دیا:”کوئی ہے؟جلدی!ہمارے اور ہمارے مہمان کے لئے کھانا لاؤ۔دیر نہ لگے!“
نہ کوئی خادم آیا اور نہ کھانا،مگر بادشاہ یہ ظاہر کر رہا تھا جیسے ان کے سامنے دسترخوان بچھا دیا گیا ہے اور اس پر کھانا لگا دیا گیا ہے۔
اس کے بعد بادشاہ نے اس طرح منہ چلانا شروع کر دیا جیسے وہ کھا رہا ہو۔اس نے فقیر سے بھی کہا:”آؤ دوست!تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح کھاؤ جس طرح اپنے گھر میں کھاتے ہو۔تم نے کہا تھا کہ تم صبح سے بھوکے ہو،مگر کھا نہیں رہے ہو۔
کیوں؟“
فقیر نے دل ہی دل میں کہا:”کاش یہاں کھانے کو کچھ ہوتا!“
پھر اس نے زور سے کہا:”میرے آقا!میں تو خوب کھا رہا ہوں۔“
اس کے بعد وہ بھی تیزی سے منہ چلانے لگا،مگر منہ میں کچھ بھی نہ تھا،اس لئے اس کے مسوڑھے دکھنے لگے،بادشاہ برابر فقیر سے اصرار کرتا رہا کہ تکلف نہ کرے،وہ کبھی فقیر سے کہتا کہ تم نے یہ نہیں کھایا،کبھی کہتا وہ نہیں کھایا،کبھی کہتا کہ میٹھا تو تم نے لیا ہی نہیں۔
کبھی کہتا کہ اس نرگسی کوفتے کی کیا بات ہے!کبھی کہتا کہ بریانی کا جواب نہیں۔غرض اس طرح وہ جھوٹ موٹ کی تعریف کرکے خیالی کھانا خود بھی کھاتا رہا اور فقیر کو بھی کھلاتا رہا۔
بیچ میں کئی بار بادشاہ نے فرضی اور خیالی خادم کو بلا کر اس سے خصوصی طور پر فرضی اور خیالی کھانے منگوائے اور انھیں بڑے اصرار کے ساتھ فقیر کو کھلایا۔
فقیر غریب بھوک سے بے حال خیالی کھانوں سے پیٹ بھرتا رہا۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے پیٹ میں سچ مچ چوہے دوڑ رہے تھے۔
کھانا کھانے کے بعد بادشاہ نے اپنے معزز مہمان (فقیر) کے لئے فرضی اور خیالی میوے اور پھل منگوا کر فقیر کو بھی کھلائے اور خود بھی کھائے ۔
اس نے اخروٹ،بادام،چلغوزے،آم،سیب سب کچھ فقیر کو کھلا دیا اور ایسی ڈکار لی جیسے اس کا پیٹ بھر گیا ہو۔ غریب نے اس کے انداز سے ڈکار لینے کی کوشش کی،مگر اس کی آواز بھی نہ نکلی۔اس غریب کے پیٹ میں گیا ہی کیا تھا جو ڈکار آتی۔
آخر جب فرضی کھانا کھاتے کھاتے فقیر کے جبڑے جواب دے گئے تو اس نے پیچھے ہٹتے ہوئے بادشاہ سے کہا:”حضور والا!آپ کا بہت بہت شکریہ!اب میرے پیٹ میں مزید کھانے کی گنجائش نہیں ہے۔
“فقیر کے الفاظ سن کر بادشاہ بہت زور سے ہنس پڑا۔اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا:”بہت عرصے سے مجھے تم جیسے آدمی کی تلاش تھی۔“
یہ کہہ کر بادشاہ اپنے تخت سے اُترا۔اس نے فقیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بڑی نرمی اور محبت سے کہا:”تم ایک نیک دل اور شریف انسان ہو،میں ایک ایسے ہی دوست کی تلاش میں تھا،جس میں یہ سب خوبیاں ہوں۔
تم میں صبر بھی ہے اور برداشت بھی۔تم نے آخر تک جس صبر اور سکون کے ساتھ میرا ساتھ دیا،اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ایک بھوکے انسان میں صبر،ضبط اور برداشت کی کمی ہوتی ہے،مگر تم نے یہ ثابت کر دیا کہ بھوکا انسان بھی صبر،ضبط اور برداشت کر سکتا ہے۔
آج سے ہم دونوں دوست ہیں۔تم میرے ساتھ میرے محل میں رہو گے اور اب میں تمہارے لئے شان دار دعوت کا انتظام کرواتا ہوں۔“
اس کے بعد بادشاہ نے تالی بجائی۔فوراً ہی بہت سے خادم وہاں آگئے۔بادشاہ نے انھیں حکم دیا:”ہمارے معزز مہمان،بلکہ ہمارے دوست کو لے جاؤ،انھیں غسل کراوٴ،بہترین لباس پہناوٴ اور ان کے لئے خصوصی دعوت کا انتظام کرو۔

کچھ ہی دیر بعد فقیر شاہی لباس پہنے بادشاہ کے ساتھ اس کے وسیع دسترخوان پر بیٹھا تھا۔اس بار ان کے سامنے بالکل اصلی کھانے تھے۔ دونوں دوست کھا بھی رہے تھے اور قہقہے بھی لگا رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں