France actions against Islam 16

فرانس کا” چہرہ” اور اسلام کا اعتدال پسند بیانیہ

11 / 100

فرانس کا” چہرہ” اور اسلام کا اعتدال پسند بیانیہ
امجد عثمانی
کبھی فرانس تو کبھی ہالینڈ …..کبھی ناروے تو کبھی ڈنمارک ……حیرت ہوتی ہے کہ کیسے متمدن اور مہذب ممالک ہیں کہ جہاں کسی کی دل آزاری کو “اظہار کی آزادی” کہا جاتا ہے؟؟؟سمجھ سے بالا ہے کہ کسی کی تضحیک….کردار کشی ….دشنام طرازی کرو تو آزادی اظہار…..کوئی اپنی” داستان غم” کہے تو شدت پسندی…….واہ سیکولرازم تیرے انداز نرالے….!!!
بدنام زمانہ میگزین چارلی ایبڈو کی توہین آمیز مہم فرانسیسی معاشرے کو خوفناک طریقے سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے…چند شرپسندوں کی نفرت انگیز فکر جرائد سے تعلیمی اداروں تک پہنچ گئی ہے….. چند دن ہوئے پیرس میں ایک چیچن مسلم طالب علم نے کلاس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے دکھانے پر تاریخ اور جغرافیے کے استاد کی جان لے لی…عالمی میڈیا میں” شدت پسندی” کے عنوان سے من گھڑت سرخیوں کے ساتھ اس استاد کے قتل کی بازگشت ہے بلکہ کہرام سا مچا ہوا ہے…. فرانس کے صدر ایمانول میکرون تو مقتول ٹیچر کی آخری رسومات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتدال کا راستہ ہی کھو گئے….انہوں نے مذکورہ ٹیچر کو فرانسیسی جمہوریت کا چہرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ متنازعہ کارٹون یا خاکوں کی اشاعت سے کسی طور پر دستبردار نہیں ہوا جائے گا…ان کا کہنا تھا استاد کو ہلاک کرنے کی وجہ کسی یورپی ملک میں ان کا سیکولر اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنا تھا…..اس سے قبل انہوں نے جائے وقوعہ پر گفتگو کے دوران ٹیچر کے قتل کو “اسلامی دہشتگردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ استاد کو اس لئے مارا گیا کیونکہ وہ” اظہار کی آزادی “کے بارے میں پڑھاتا تھا… فرانس حکومت نے ٹیچر کے لئے اعلی ترین ایوارڈ کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ مسلم کمیونٹی کیخلاف شدت پسندی کے نام پر کریک ڈائون شروع کرتے ہوئے ایک مسجد چھ ماہ کے لئے بند کر دی ہے…..بلا شبہ مسلم طالب علم کے ہاتھوں ایک استاد کا قتل دل ہلا دینے والی بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں تو استاد کے گھر کی طرف پائوں کرکے سونا بھی معیوب رہا بلکہ آج بھی مسلم طلبا اپنے استاد کے جوتے اٹھانے کو فخر سمجھتے ہیں …….لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک استاد کے لئے مناسب ہے کہ وہ بھری کلاس میں کسی بچے کے سامنے اس کے مذہب اور عقیدے بارے منفی انداز میں گفتگو کرکے اس کا دل چھلنی کرے…….استاد تو باپ کی طرح ہوتا ہے وہ کسی بچے کو خوش اور کسی کو دکھی کیسے دیکھ سکتا ہے……کیا کسی بچے کے سامنے اس کے ماں باپ کو برابھلا کہہ کر اس سے استاد کی عزت کی توقع کی جا سکتی ہے؟؟؟یہاں تو معاملہ ہی بڑا نازک تھا….کیا تاریخ کا استاد اتنا کم علم تھا کہ اسے یاد ہی نہیں رہا کہ پیغمبر کا کسی مذہب میں کیا مقام ہوتا ہے اور تمام ادیان کے لوگ کس طرح اپنے نبی اور رسول کا دل وجان سے احترام کرتے ہیں؟؟؟سب کچھ جانتے بوجھتے بھی اظہار کی آڑ میں ایسی ناپاک جسارت صرف اور صرف شرپسندی ہے…..تشویشناک بات یہ ہے کہ مسلمان طلبا کے والدین نے مذکورہ استاد کے اس مکروہ عمل بارے سکول انتظامیہ کو قبل از وقت شکایت کی تھی لیکن وہ پھر بھی بچوں کے جذبات سے کھلواڑ سے باز نہ آیا تو ایک طالبعلم نے ردعمل میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تو “شدت پسندی” کی گردان شروع ہوگئی….بے شک قانون ہاتھ میں لیکر کسی کی جان لینا جرم ہے لیکن کیا دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے انسانی حقوق کے یہ “علم بردار “مانیں گے کہ کسی انسان کی بلاوجہ توہین سب سے بڑی شرپسندی ہے……اور اگر کوئی اس مکروہ عمل کا اعادہ کرے تو اسے ہی شدت پسندی کہتے ہیں……مگر کیا کریں سیکولرازم کے پرچم برداروں کی دنیا میں تو الٹی گنگا بہتی ہے کہ اظہار کی آزادی کے نام جو چاہے بکتے جائو اور کوئی اس بکواس کو صرف بکواس کہہ دے تو اسے شدت پسند..اور..انتہا پسند کا نام دے دو……..لبرل ازم ….سیکولر ازم اور روشن خیالی کے لبادے میں یہ عجب مخلوق ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف چیختی چنگھاڑتی ہے لیکن اپنے علاوہ کسی کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتی…….قصور کسی ایک مسلمان کا ہو لیکن “اکراس دا بورڈ “سب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے آرزو مند ہوتے ہیں…..یہی حال پیرس کے اس واقعے کا ہے…..اگر کسی ایک طالبعلم نے قانون ہاتھ میں لیا تو ساری مسلم کمیونٹی مجرم کیسے ہوگئی؟؟؟؟جیسا کہ پچھلے سال کرائسٹ چرچ میں ایک جنونی نے دو مساجد کو خون میں نہلا دیا تو وہ اکیلا ہی مجرم ٹھہرا نہ کہ اس کی پوری کمیونٹی….اصول کی بات ہے کہ یہاں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہئیے کہ جس نے قتل کیا وہی قصور وار….فرانس کے صدر کو بھی نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم کی طرح اسلام اوردہشتگردی میں فرق کرکے اپنے شدت پسند موقف پر نظر ثانی کرنی چاہئیے……
آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اسلام کا شدت پسندی….انتہا پسندی اور دہشتگردی سے کوئی واسطہ ہے یا یہ اسلام کے اعتدال پسند چہرے کو داغدار کرنے کی مذموم جسارت ہے؟؟؟تو کسی توقف کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام پر ایسے الزامات بذات خود شدت پسند فکر ہے……کوئی ان “گورے ملنگوں “کو بتائے کہ ہماری تو صبح کا آغاز ہی محبت سے ہوتا ہے….نماز کے بعد کتاب رحمت قرآن مجید کھولیں تو انجیل اور توریت کی تصدیق ہوتی ہے….ورق گردانی کرتے جائیں تو کہیں جناب موسی علیہ السلام کا نام تو کہیں جناب عیسی علیہ السلام کے تذکرے…..کہیں حضرت مریم علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی تو کہیں جناب شعیب علیہ السلام کی نیک سیرت بیٹیوں کی ایمان افروز باتیں……ہمارے تو گھروں میں صبح سے شام ابراہیم ….یوسف….موسی ….عیسی …..ہاجرہ اور مریم کا نام گونجتا ہے کہ یہ ہمارے بچوں کے نام ہیں……رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے امن کا یہی پیغام لے کر آئے کہ سب سے محبت ….کسی سے نفرت نہیں …..کاش کوئی سمجھتا!!!!
اسلام کتنا اعتدال پسند دین ہے؟؟اس کے لئے قرون اولی کے لمبے چوڑے اسلامی حوالے نہیں دیتے ….صرف موجودہ زمانے کے ایک تجزیہ کار کی گواہی ہی کافی ہے….بی بی سی کے امرے عزیز لیرلی نے آج سے کوئی دو سال پہلے کرسمس کی بات کرتے ہوئے اس حوالے سے کیا ہی خوب تجزیہ کیاتھا….انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مسلمان تو حضرت عیسی علیہ السلام کو برگزیدہ نبی سمجھتے ہیں مگر دوسری طرف سے نفرت کا واضح اظہار ملتا ہے……وہ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام اور مریم علیہ السلام کا ذکر انتہائی احترام سے کیا گیا ہے….قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو سب سے جلیل القدر انسانوں میں ایک قرار دیا گیا ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کا کانام حضرت محمد صلی اللہ علیہ سلم کے نام سے زیادہ مرتبہ آیا ہے….. قرآن میں صرف ایک خاتون کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہیں حضرت عیسی کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام…..یہی نہیں بلکہ ان کے نام پر قرآن کی ایک سورت کا نام بھی رکھا گیا ہے…..وہ مزید لکھتے ہیں کہ مسلمانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ جب حضرت عیسی کا ذکر آئے تو وہ علیہ السلام ضرور کہیں،جس کا مطلب ہے کہ ان پر سلامتی ہو…..اس کے علاوہ اسلامی عقیدے کے مطابق قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام ہی دنیا میں دوبارہ تشریف لائینگے…یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسی کا ذکر اسلامی ثقافت کا لازمی جزو ہے………دنیا بھر میں مسلمان لڑکوں کا نام عیسی اور لڑکیوں کا نام مریم رکھا جاتا ہے…..لیکن کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ کوئی مسیحی اپنے بچے کا نام محمد رکھے؟؟؟؟؟اپنے تجزیے کے بعد مشورہ دیتے ہیں کہ مسیحی برادری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی حضرت عیسی کے بارے میں جانے….انہوں نے تجویز دی کہ دونوں مذاہب کے درمیان اختلافات کے بجائے مشترکات پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہ خلیج پاٹی جا سکتی ہے……..
عالمی نشریاتی ادارے کے ایک غیر جانب دار تجزیہ کار نے کوئی فلسفہ جھاڑا ہے نہ راکٹ سائنس پیش کی…سادہ سی مگر سچی بات کی ہے ……کیا کوئی نام نہاد لبرل…اور…سیکولر کھلے دل سے اعتراف کرے گا کہ” گرہن زدہ زمانے” میں بھی اسلام کا چہرہ واقعی چاند کی طرح چمک رہا ہے؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں