یونس خان، پیرس 18

فرانس میں قتل اور فراڈ کے تناظر میں پاکستانیوں پر پابندیوں کا مطالبہ

17 / 100

فرانس میں قتل اور فراڈ کے تناظر میں پاکستانیوں پر پابندیوں کا مطالبہ
یونس خان، پیرس
فرانسیسی میگزین چارلی ایبدو کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد سے کئی پر تشدد واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں چارلی ایبدو کے پرانے دفتر کے باہر چاقو سے حملہ اور سکول میں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے والے استاد کا قتل شامل ہے۔ یہ واقعہ 25 ستمبر کو چارلی ایبڈو کے پرانے دفتر کے سامنے پیش آیا۔ اس حملے میں دو افراد زخمی ہوئے جن میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جو ایک غیر متعلقہ ٹی وی نیوز پروڈکشن کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں۔
ابتدائی معلومات میں بتایا گیا کہ 18 سالہ پاکستانی اس واقعے میں ملوث ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق مشتبہ مرکزی ملزم کی عمر اٹھارہ سال ہے اور وہ تین سال قبل نابالغ مہاجر کے طور پر فرانس آیا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ حملہ شارلی ایبدو میں پیغمبر اسلامؐ کے خاکے دوبارہ شائع کیے جانے کی وجہ سے کیا۔ بعد میں پولیس تحقیقات بعد یہ پتہ چلا کہ ملزم کی عمر 18 سال کے بجائے 25 سال ہے۔ اس کے پاس پاکستان کے دو پاسپورٹ جن میں نام اور عمر مختلف تھی۔
پولیس نے یہ دونوں پاسپورٹ ملزم کے موبائل ڈیٹا سے حاصل کیا۔ بعد میں منڈی بہاؤالدین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مرکزی ملزم ظہیر حسن محمود نے اقرار کیا تھا کہ اس نے جعلی دستاویزات اور پاسپورٹ کے ذریعے فرانس کے کاغذات حاصل کیے۔ جس کے بعد فرانسیسی حکومت نے فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے جعلی پاسپورٹ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں 250 سی 300 ایسے پاکستانیوں کی گرفتاری عمل میں ائی جن کے پاس ایک سے زائد مختلف نام کے پاسپورٹ تھے۔
جبکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ پولیس نے محتلف بنکوں میں جعلی کاغذات کی مدد سے بینک اکاؤنٹ اور جعلی کاغذات کے بنا پر جعلی کمپنیوں کے ذریعے یہ تمام معلومات حاصل کی۔ 27 اکتوبر کو یورپی یونین نے ویزا فراڈ کے حوالے سے پاکستان کو ایک ’انتہائی خطرناک‘ ملک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یورپی پارلیمان میں دیے گئے بیان میں بلڈے نے زور دے کر کہا ہے کہ ’شینجن ویزا رپورٹس‘ کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ جعلی پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات کے حوالے سے پاکستان سب ملکوں سے سے آگے ہے۔
بلڈے نے اپنے بیان میں کہا: ’کیا ہمیں قبرص کے گولڈن ویزوں پر حیران ہونا چاہیے کیونکہ پاسپورٹ یا رہائش گاہ کے متعلق غلط بیانی صرف مذموم ذرائع کے لیے استعمال کی جاتی ہے؟ ہم نے دیکھا ہے کہ جعلی پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات کے معاملے میں پاکستان دوسری ممالک کے مقابلے میں سر فہرست ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کو 2014 سے اب تک چار ارب یورو کی امداد دی گئی ہے جس کے باوجود نتائج افسوسناک ہیں۔‘ پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یورپین یونین کی اہم رکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کچھ ایسی ریاستوں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو اسلام پسند دہشت گردی کی حمایت بھی کرتے ہیں۔‘
یعنی یورپین یونین نے بالواسطہ پاکستان پر جہادیوں کی حمایت جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ یاد رہے کے اس سے پہلے ایف اے ٹی ایف نے بھی پاکستان کو اسی الزام کی وجہ سے گرے لسٹ سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یورپی پارلیمان کی رکن ڈومینیک بلڈے نے الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرات دے دیا ہے جو کہ نا صرف یورپی یونین کے پاسپورٹس کی فروخت میں ملوث ہے بلکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل افراد کو ویزے بھی جاری کرتا ہے۔
یورپی یونین کے ممالک کے ویزوں کے حصول کی رہنما ویب سائٹ شینجن ویزا انفو ڈاٹ کام کے مطابق یورپی یونین والوں نے یہ پاکستان مخالف بیان فرانس کے دارالحکومت میں ہونے والے حملوں اور خاص طور پر 25 ستمبر کو چارلی ایبڈو کے سابق دفاتر کے باہر دو افراد کی ہلاکت کے تناظر میں دیا ہے۔ اس واقعے میں ایک ایسے پاکستانی شخص کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں جو غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا اور جعلی دستاویزات کے ذریعے وہاں کی شہریت حاصل کی۔
اس شخص نے مبینہ طور پر امیگریشن حکام کے سامنے اپنی عمر غلط بتائی اور خود کو نابالغ ظاہر کیا۔ فرانس اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو سالوں سے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہے۔ جولائی کے بعد سے پاکستان کا سفیر تک فرانس میں تعینات نہیں کیا گیا ہے پچھلے 3 ماہ سے زید عرصے سے فرانس جسے اہم ملک میں قائم مقام سفیر سے کام چلایا جا رہا ہے۔ فرانس چاہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہو یا اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے کوئی قرار داد بھارت کے موقف کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے اور اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی مفادات ہیں۔
یورپ اور پاکستان کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے عدنان فاروق جو یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرتے ہیں عدنان فاروق کا کہنا ہے کہ فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی عوامی تشہیر کے خلاف پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں فرانس محالف احتجاج ہو رہا ہے۔ جبکہ پاکستانی پارلیمان نے وفاقی حکومت سے فرانس میں تعینات پاکستانی قائم مقام سفیر کو واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان تمام چیزوں کو ان تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور ایک موثر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں