فرانس سے معافی مانگی نہ مانگوں گی شیریں مزاری 80

فرانس سے معافی مانگی نہ مانگوں گی: شیریں مزاری

7 / 100

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ایمانویل میکرون کے حوالے سے اپنے بیان پر نہ تو فرانس سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی مانگوں گی۔
ایک اردو ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ مغرب آزادی اظہار رائے کے نام پر منافقت اور تکبر سے کام لے رہا ہے، فرانسیسی صدر کے بارے میں ٹوئٹ پر ان کو توہین محسوس ہوتی ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ پر ہتک آمیز حملے کو اظہار رائے کی آزادی کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا فرانس ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے کا احترام کریں تو پھر میکرون کی باری پر آزادی اظہار رائے کہاں چلا گیا؟
اپنی ٹوئٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیریں مزاری نے بتایا کہ میں نے جس ذریعے سے خبر پڑھی، جب اس کے ذرائع نے معافی مانگ لی اور کہا کہ خبر غلط تھی تو مجھے اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنی پڑی۔
انہوں نے مزید کہا کہ معافی مانگنے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے، میں نے خبر پڑھی اور اس پر اپنا تجزیہ دیا، جب وہ خبر واپس ہو گئی تو میں نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دی، اس پر کہا جا رہا ہے کہ فرانس نے معافی قبول کر لی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا میں واضح طور پر کہنا چاہتی ہوں کہ نہ میں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا میرے بیان سے ان کو توہین محسوس ہوئی کیونکہ میں نے ان کا موازنہ نازیوں سے کیا، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ ہمارے پیغمبر ﷺ پر حملہ کرتے ہیں، ان کی ہتک کرتے ہیں، جب قرآن جلاتے ہیں تو ہمیں غصہ نہیں آتا؟ مسلمانوں کو توہین محسوس نہیں ہوتی، یہ ایک ستم ظریفی اور منافقت ہے۔
خیال رہے کہ شیریں مزاری نے ایک خبر پر فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا موازنہ نازی جرمنی کی نسل پرستی سے کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا جس پر فرانس نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں آزادی اظہار رائے محدود ہے اور اس پر بہت سے سوالات بھی اٹھتے ہیں۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا میں نے تو یہ مسئلہ بھی اٹھایا تھا کہ آپ کی نن تو اپنا مذہبی لباس ہر جگہ پہنتی ہیں لیکن آپ مسلمان عورت کو کہتے ہیں اس کو عوامی مقامات پر حجاب پہننے پر جرمانہ ہو گا، یہ کون سی آزادی ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہے؟
انہوں نے بتایا کہ ابھی فرانس نے ایک اور قانون بنایا ہے جس کے مطابق جنس کی بنیاد پر ڈاکٹر سے علاج کرانے سے انکار جرم ہو گا، اس قانون کو غور سے دیکھیں تو یہ مسلمان عورتوں کے خلاف ہے، خاص طور گائنی کے حوالے سے یہ بہت حساس معاملہ ہے، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ایسا قانون بنانے کی وجہ کیا تھی کہ خاص طور پر مسلمان عورتوں کو ہدف بنایا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ میں نے جواب اللہ کو دینا ہے اور جو میرے شعور میں ہوگا میں وہ کہوں گی، میں سمجھتی ہوں کہ اگر کوئی غلط چیز کی ہے تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمیں کسی اور ملک سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ہمیں جواب دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں