رقیہ غزل 19

عوام اور ریاست کی خوشحالی

59 / 100

عوام اور ریاست کی خوشحالی
اللہ سبحانہ و تعالی اس پوری کائنات کا واحد خالق و مالک ہے وہی قادر ِمُطلق ہے ،اس نے انسانیت کی عظمت کو قائم رکھنے کیلئے جو اصول وضع کیے ہیں ان کے مطابق کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں حقوق کے حقدار ہیں اور اقوام عالم میں انہی کو حقوق انسانی کا نام دیا جاتا ہے آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ کے پیارے نبیؐ نے انسانی حقوق کاجامع اور واضح تصور پیش کر دیا تھا جبکہ آج کی مہذب دنیا اس زعم میں مبتلا ہے کہ انسانیت کے تحفظ کی اصلاحات و قوانین نافذ کرنے کا سرٹیفکیٹ صرف ان کے پاس ہے کہا جاتا ہے کہ اس کا تصور انگلستان کے میگنا کارٹا کے ذریعے دنیا کو ملا جبکہ یہ تو بعثت نبویؐ سے چھ سو برس بعد لکھا گیا تھا اور سترہویں صدی سے پہلے اہل ِ مغرب میںحقوق انسانی اور حقوق شہریت کا کوئی تصور موجود نہ تھا ۔لیکن عملاًاس کاثبوت اٹھارہویں صدی کے آخر میں امریکہ اور فرانس کے دستوروں اور اعلانات میں ہی ملتا ہے یعنی یہ حقوق محض کاغذوں میں ہی دئیے گئے زمین پر ان کا تصور کہیں نہیں ملتا حضرت آدم ؑ سے لیکر خاتم النبینؐ کی بعثت تک اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے سلسلے میں جو ہدایات دیں ان میں انسانی حقوق و فرائض کا مکمل ضابطہ موجود تھا ۔ وائے افسوس ! آج مغربی دنیا نمائشی کام کر کے دعویدار ہے کہ وہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اہل مغرب کس انسانی ضمیر کی بیداری کی بات کرتے ہیں جنھیں کتے بلیاں تو نظر آتے ہیں مگر کشمیر ،فلسطین ،شام ،عراق،افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں روتے سسکتے تڑپتے زندہ انسان نظر نہیں آتے انھیں بھوک سے مرتا ایک ہاتھی نظر آگیا مگر ہزاروں لاکھوں کشمیری انصاف کے لیے دہائیاں دیتے نظر نہیں آتے یہ رحم دلی اور مسیحائی بھی جو جانوروں سے شروع ہو کر جانوروں پر ختم ہوجاتی ہے دوغلہ پن اور نمائش ہے کیونکہ ایک ایسا وقت آیا تھا کہ جب انڈیا میں سرکس والوں پر پابندی لگ گئی تھی تو انھوں نے قیمتی شیروں کی خوراک اور دیکھ بھال سے تنگ آکر انھیں کھلے جنگلوں میں چھوڑ دیا تھا کیونکہ آمدن نہیں تھی تو ڈاکومینٹری ہے کہ ان شیروں کو جنگلی کتے پھاڑ کر کھاگئے تھے کیونکہ شیر پنجرے میں کھا کھا کر اپنا ہنر بھول گئے تھے اور کتے بھوکے رہ رہ کر متحدہ شکاری بن چکے تھے تو اس وقت اس کے خلاف کسی نے بھی احتجاج نہیں کیا تھا ۔
میگنا کارٹا اور دیگر بل آف رائٹس نے امریکہ و یورپ کے انسانی ضمیر کو بیدار نہیں کیا بلکہ سب دکھاوا ہے ۔ پورے سوشل میڈیا پر اہل مغرب نے ایک ہی خبر پھیلا رکھی ہے کہ ’’دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی ‘‘ چھتیس برس کی اذیت ناک قید تنہائی کاٹنے کے بعد واپس کمبوڈیا منگوا لیا گیا ہے کیونکہ پاکستان میں اسے زنجیروں میں باندھ کر اس پر سانسیں تنگ کر دی گئیں تھیں ۔۔بدقسمتی کے ساتھ حکومت وقت نے عجلت میں فیصلہ کرتے ہوئے ہاتھی کو ایسے واپس بھیجا جیسے ہمارے ہاں قحط پڑا ہوا تھا اگر وہ مزید رکتا تو مارا جاتاحالانکہ وہ فروخت کیا جا سکتا تھا ایسے فیصلے کون کرتا ہے جو ہمیشہ شرمندگی کا باعث بنتے ہیں اب انسانی حقوق کے عالمی دن پر وہ چیخ چیخ کرہاتھی والی خبر سنا رہے ہیں اور ہمارے پاس سنانے کو کچھ نہیں ویسے ہم کسے روئیں کہ ابھی چند روز پیشتر پانچ بچوں کے باپ نے بیروزگاری سے تنگ آکر اپنے بچوں کو نہر میں پھینک دیا ہے کیونکہ بیوی بھی بیروزگاری سے تنگ آکر چھوڑ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہو کر دلبرداشتہ ہوگیا لیکن اس پر سبھی نے افسوس کا اظہار کیا ہے ہمارے پاس افسوس، ایکشن اور نوٹس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور کوئی اس ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا تا کیونکہ انسان آواز تبھی اٹھاتا ہے جب وہ اپنے حقوق پابندی سے ادا کرتا ہو جبکہ یہاں تو ہر کوئی ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہے تبھی کچھ ٹھیک نہیں ہوتا جب تک ہم رب کائنات اور حضور اکرم ؐ کے تصور انسانی کے مطابق عمل پیرا نہیں ہونگے اس وقت تک کامیابی و کامرانی اور امن و سلامتی ممکن نہیں ۔خدائی احکامات اور تعلیمات نبویؐ کے مطابق ہر فرد کا فرض ہے کہ دوسرے فرد کا حق ادا کرے او ر کوئی طاقتور کسی کمزور کاحق نہ چھینے جب ہر فرد دوسرے فرد کے حقوق کا خیال رکھے تو یقیناً کسی کے حقوق غصب نہیں ہوتے اور جب حقوق غصب نہ ہوں بلکہ ہر کسی کے حقوق کو رحم اور احسان سمجھ کر ادا کیا جائے تو معاشرے میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہوتی ہے جس سے عوام اور ریاست خوشحال ہوتی ہے اور عوامی رہنمائوں کی عزت و آبرو کا بول بالا بھی ہوتا ہے اسی وجہ سے تمام مخلوقات کے رب نے اپنی کتاب ہدایت قرآن مجید میں یہ اٹل حکم عطا فرمایا ہے کہ ’’بے شک اللہ تمھیں عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے ‘بلاشبہ ہمیں ماننا ہوگا کہ آج امت مسلمہ کی نجات اتحاد ،اخوت اور روادری میں مضمر ہے لہذ ہمیںعالمی انسانی حقوق کے نام نہاد دعوی داروں کی نکتہ چینی سے پریشان ہونے کی بجائے اپنے رویوں کو درست کرنا ہوگا اگر آج بھی اسلام کے زریں اصولوں کو نافذ کیا جائے توتب بھی عملی طور پر عدل و انصاف کا قیام بنیاد ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ، عدل و انصاف کرنے والے ادارے،وزارتیں اور ہر طرح کی ایجنسیاں صر ف اس لئے ذاتی مفادات کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ وہ سب جانتے کہ گمراہ اقوام کی طرح یہاں کسی غریب اور کمزور کو گرفت ہوگی تو ہر طرح کا قانون حرکت میں آکر اس کی ہستی مٹا دے گا مگر جب اشرافیہ یا اعلیٰ منصب داروں پر بات آئے گی تو ہر آنے والے وقت میں اشرافیہ حاکم وقت ہوگی اور اگر یہ کھلا تضاد ختم کر دیا جائے تو ہم سے بہتر اور کامیاب کوئی دوسرا نہیں ہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں