215

عمران خان ، مشرف اور فیصلہ ۔ اعزاز سید

عمران خان خوشگوار موڈ میں بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ اسلام آباد کے وی آئی پی لائونج میں داخل ہوئے تو وہاں موجود لوگوں کی اکثریت متوجہ ہوگئی۔ یہ دسمبر 2012کی بات ہے کہ جب ان کی جماعت تحریک انصاف سیاسی افق پر لوگوں کو اپنی طرف تیزی سے مائل کر رہی تھی۔

عمران خان کو دیکھتے ہی ان کے ساتھ تصویر بنانے والوں کا رش لگا جو جلد ہی ایک قطار میں بدل گیا۔ قطار میں موجود ایک گھنگھریالے بالوں والے نوجوان نے اپنی باری آنے پر ہاتھ ملاتے ہوئے دھیمی آواز میں بتایا کہ وہ پرویز مشرف کا بیٹا ہے۔ عمران کو سمجھ نہ آئی تو نوجوان نے دوبارہ قدرے اونچی آواز میں اپنا تعارف کرایا کہ اس کا نام بلال مشرف ہے اور وہ پرویز مشرف کا بیٹا ہے۔

یہ سنتے ہی عمران خان خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئے اور ان کے منہ سے بے اختیار بلند آواز میں ایک لفظ نکلا ’’اچھا‘‘۔ عمران سب کو چھوڑ کر بلال مشرف کی طرف متوجہ ہوگئے اور مشفقانہ انداز میں بولے ’’مجھے مشرف بہت پسند تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ نظام کو سیدھا کرے گا مگر وہ چوہدریوں سے مل گیا اور اپنے راستے سے ہٹ گیا مگر چوہدریوں نے مشرف کو فارغ کروا دیا‘‘۔

بلال مشرف سن رہے تھے اور کوئی ردِعمل دینے یا وضاحت کرنے سے گریزاں تھے۔ بلال نے اپنی اہلیہ اور بچے کے ہمراہ عمران کے ساتھ تصویر بنانے کی خواہش ظاہر کی جسے عمران نے بخوشی قبول کیا۔

بلال سے اس کے کام کاج کے بارے میں سوال جواب کیا گیا تو پتا چلا کہ بلال مشرف امریکہ میں خان فاونڈیشن نامی غیر سرکاری تنظیم میں تعلیم کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔

اس فاونڈیشن کا مالک سلمان نامی ایک امیر مخیر بھارتی تھا، جسے عمران خان بھی جانتے تھے۔اس واقعہ کے ٹھیک چھ سال بعد حالات بدل گئے۔ عمران خان نے جن چوہدریوں کے بارے میں پرویز مشرف کے بیٹے کو ایئر پورٹ پر طعنے دیے تھے اب وہ خود ان کے اتحادی بن چکے تھے۔ یہ الگ بات کہ عمران خان کبھی ان اتحادیوں سے نہیں ملتے بلکہ الٹا انہیں دبا کے رکھتے ہیں۔

عمران خان اور چوہدری دونوں مشرف کے ابتدائی دنوں کے ساتھی تھے۔ فرق صرف یہ کہ مشرف عمران کو پسند کرتے تھے اور اسے حکومت میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ مگر عمران کی شرائط اپنی تھیں۔

ادھر چوہدری طاقت کو پسند کرتے تھے اور کسی بھی صورت اس کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ عمران نے مشرف کو ان کے عروج کے دوران چھوڑا اور چوہدریوں نے زوال آتے ہی مشرف سے آنکھیں پھیر لیں۔

یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف بینظیر بھٹو، اکبر بگٹی کے قتل، لال مسجد آپریشن سمیت دیگر مقدمات بھی قائم تھے مگر خود انہیں شروع دن سے صرف اسی ایک کیس کا ڈر تھا جس کا فیصلہ اب خصوصی عدالت نے ان کے خلاف دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس وقت مسلم لیگ (ن) حکومت کی طرف سے غداری کا مقدمہ دائر کرنے کے اعلانات کے دوران چھ سال قبل 30دسمبر 2013کو پارک روڈ اسلام آباد پر واقع اپنے فارم ہائوس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ پریشانی کب محسوس ہوئی؟ تو مشرف جھٹ سے بولے ’’اس بار‘‘، پھر چند لمحوں کے توقف کے بعد کہا ’’لیکن جو بھی ہو، میں لڑوں گا‘‘۔ مشرف واضح طور پر حکومت کی طرف سے غداری کیس دائر کیے جانے پر بڑے پریشان تھے۔

مگر وہ اس وقت بھی سمجھتے تھے کہ فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ مجھے ان کے دعوے پر شک تھا مگر وقت نے ثابت کیا کہ اس بارے میں وہ بالکل درست تھے۔ اس ملاقات کے دو روز بعد مشرف عدالتی راستے سے راولپنڈی کے اسپتال منتقل ہوگئے۔

دراصل جب ابتدا میں غداری کیس دائر کیے جانے کا فیصلہ ہو رہا تھا تو اس وقت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے۔ ان کے دور میں اس معاملے پر بظاہر کوئی مداخلت کی گئی نہ کسی طاقت کا استعمال نظر آیا۔ طاقت کا سب سے باعزت استعمال یہی ہوتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے نہ استعمال۔ جنرل کیانی نے ایسا ہی کیا۔ وہ نومبر میں ریٹائر ہوئے تو معاملات جنرل راحیل شریف کے ہاتھوں میں چلے گئے اور پرویزمشرف کو تحفظ ملنے کی امید بھی واضح ہو گئی۔

2014کے دھرنوں کی دیگر بہت سی وجوہات میں ایک وجہ پرویز مشرف غداری کیس بھی تھا۔ دھرنوں کے ذریعے اس وقت کی حکومت کو سبق سکھانے کی کوشش بھی کی گئی۔

جو مشرف کی بیرونِ ملک روانگی کی صورت کامیاب بھی ہوئی۔حالات نے عجیب کروٹ بدلی ہے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا فیصلہ عمران خان کے دورِ حکومت میں دیا ہے کہ جب پرویز مشرف کو بچانے کی سرکاری سطح پر بڑی کوششیں بھی کی گئیں مگر سب ناکام۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کا عدالتی فیصلہ 17دسمبر کو سامنے آگیا۔ یہ فیصلہ تاریخ اور ریکارڈ دونوں کا حصہ بن چکا ہے۔ اس پر عملدرآمد تو شاید ممکن نہ ہو مگر غیر جمہوری قوتوں میں اس کا خوف ضرور سرایت کرتا نظر آتا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ تصادم کی ایک فضا بھی جنم لے رہی ہے۔اس سارے ماحول میں عمران خان ابھی تک کیمروں کے سامنے آئے ہیں نہ انہوں نے ٹویٹر پر عدالت کے حوالے سے براہِ راست کوئی منفی بات کی ہے۔

عمران خان اسٹیبلشمنٹ میں اتنے مقبول ہیں کہ مشرف سمیت کئی طاقتور افسران کے بچے آج بھی لائنوں میں لگ کر ان کے ساتھ تصویر بنواتے ہیں۔ اس پسِ منظر کے ساتھ عمران خان ہی تصادم کی حالیہ فضا کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تصادم کی اس فضا کو روکنے کیلئے بہرحال وزیراعظم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر وزیراعظم نے آئین و قانون کی پاسداری اور عدالتی فیصلوں کے احترام کو یقینی نہ بنایا تو کل کلاں تاریخ بھی ایک فیصلہ دے گی جو کسی اور کے نہیں، ان کے اپنے خلاف ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں