454

علی شیر خدا در نگاہ پیغمبر خدا : مفتی گلزار احمد ںعیمی

علی شیر خدا
در
نگاہ پیغمبر خدا
از قلم: مفتی گلزار احمد نعیمی
آج 13 رجب ہے اور آج کے دن کی سب سے بڑی عظمت ولادت حضرت علی شیر خدا ہے.کعبة اللہ کی شک دیوار آج بھی گواہ ہے اس ولادت پراور کعبہ خود شاھد ہے کہ مجھے کئی سو بتوں سے پاک کرنے والا میرے ہی دامن عفت وعصمت میں تولد ہوا ہے.آج کا دن تمام محبان اہل بیت کو مبارک ہو.نہایت فرحت وانبساط کا ہے یہ دن.علی کعبہ میں تولد ہوئے اور کعبہ کے کعبہ کی گود میں زیر کفالت رہے.علی کا کمال یہ ہے کہ علی مصطفے سے ہے اور مصطفے علی سے ہیں.مصطفے کا خون علی کا خون علی کا خون مصطفے کا خون.علی کا شجرہ نسب مصطفے کا شجرہ نسب مصطفے کا شجری نسب علی کا شجرہ نسب.حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ملاحظہ فرمائیے.عن جابر بن عبد اللہ قال سمعت رسول الللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول لعلی علیہ السلام :یاعلی الناس من شجر شتی واناوانت من شجرة واحدة…قال الحاکم ھذا حدیث صحیح الاسناد.(اے علی لوگ مختلف شجروں سے ہیں اورمیں اور آپ ایک شجرہ سے ہیں.امام حاکم نے کہا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے.)پھر سرکار نے سورہ رعد کی آیت نمبر 4 تلاوت فرمائی ملاحظہ فرمائیں.
وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ ۟ وَ نُفَضِّلُ بَعۡضَہَا عَلٰی بَعۡضٍ فِی الۡاُکُلِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾
ترجمہ: اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں ۔ پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
اسی حدیث کو امام جلال الدین سیوطی نے اسی آیت کے تحت الدر المنثور میں ذکر کیا ہے اور اسی حدیث کو علامہ سید مرتضی فیروزآبادی نے فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ 1/207 میں بھی ذکر کیا ہے.
حضرت مولاعلی شیر خدا خود روایت فرماتے ہیں.عن علی ابن ابی طالب قال,قال رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم یاعلی انت منی وانامنک…ترجمہ اے علی تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں ( ابن ماجہ نے اپنی سنن ج1 ص44,حدیث نمبر119…..امام ذہبی میزان الاعتدال ج1 ص410 حدیث1505, امام ابن کثیر البدایہ والنھایہ ج7 ص344 باب فضائل علی).اس حدیث کو امام بخاری اور امام ترمذی نے حضرت البراء بن عازب سے بھی روایت کیا ہے.
اس حدیث سے مولا علی شیر خدا کا سرکار کے ساتھ بے انتہاء مضبوط تعلق واضح ہورہاہے یہ دل وجان کا تعلق ہے جو صحابیت کے تعلق سے کہیں بلند وبالا تعلق ہے.
سیدہ عائشہ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ.وآلہ وسلم نے حکم فرمایا:عن عائشہ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادعوا لی سید العرب فقلت یارسول اللہ الست سید العرب?قال انا سید ولد آدم وعلی سید سید العرب رواہ الحاکم الرقم:4626.
ترجمہ:میرے لیے عرب کے سردار کو بلاو.سیدہ کہتی ہیں میں نے عرض یا رسول اللہ کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں?فرمایا:میں اولاد آدم کا سردار ہوں عرب کا سردار علی ہے.
علی تمام مومنین کے مولا ہیں,علی تمام مومنین کے رہبرو پیشوا ہیں علی تمام سلاسل روحانیت کے سرخیل وبادشاہ ہیں.جو علی کا ہے وہ بنی کا ہے جو نبی کا ہے وہ خدا کا ہے.جو علی کا نہیں وہ نبی کا نہیں جو نبی کا نہیں وہ خدا کا نہیں.
علی امام من است و منم غلام علی
ہزار جان گرامی فدا بہ نام علی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں