علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کے امتیازات 18

علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کے امتیازات

48 / 100

علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کے امتیازات
از : عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

گزشتہ دنوں اہل سنت کو بالخصوص اور اہل اسلام کو بالعموم ایک روح فرسا اور اندوہ ناک صدمے سے دو چار ہونا پڑا ۔ یہ صدمہ امیر المجاہدین ، فنا ء فی خاتم النبیین ، استاذ العلماء، شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمۃ کی اچانک وفات کا سانحہ فاجعہ تھا ۔ آپ کی وفات نے ہر اس آدمی کو سوگوار اور اشک بار کیا جس کے دل میں ذرہ سا بھی اسلام اور اہل اسلام کا درد تھا۔علامہ رضوی کو خدمت دین کے حوالے کثیر امتیازات حاصل ہیں۔ ہم ذیل میں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں :
1. دنیا بھر میں لبیک یا رسول اللہ کے نعرے کی گونج:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’لبیک یا رسول اللہ‘‘کا نعرہ  پہلے دن سے اہل سنت کی نمایاں پہچان رہا ہے۔ لیکن آج یہ نعرہ جس انداز اور جوش و جذبے سے قومی و بین الاقوامی سطح پرلگایا جا رہا ہے اور چار دانگ عالم میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے اس میں خالصتاً علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کی محنتوں اور خلوص کا ہی عمل دخل ہے ۔ آپ کی ہر ہر تقریر میں درجنوں بار یہ نعرہ ایک مخصوص طرز پرلگایا جاتا تھا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج  ہر سنی بچے کی زبان پر یہ نعرہ جاری ہے۔
2. ناموس رسالت پر جان تک قربان کر دینے والی عظیم فورس کی تیاری:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے کوئی سو دو سو نہیں بلکہ لاکھوں دلوں میں عشق رسالت کے چراغ روشن کر دیے ۔ بالخصوص نوجوان طبقے کی توجہات کا مرکز و محور ذات رسول ﷺ کو بنا دیا ۔ یہ ان کی شبانہ روز کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اس وقت اہل سنت میں ناموس رسالت پر جان تک قربان کرنے والی ایک عظیم فورس تیار ہو چکی ہے۔
3. گستاخان رسول کے ایوانوں میں کھلبلی:
  قوم نے ایسے مذہبی قائدین بھی دیکھےہوں گے جو ناموس رسالت کے معاملے میں طرح طرح کی مصلحتوں کا شکار ہو گئے اور ان کی آواز بیٹھنا شروع ہو گئی ۔لیکن علامہ  رضوی علیہ الرحمۃ کی ذات والا صفات مستقلاًقومی و بین الاقوامی گستاخان رسول کے لیے شمشیر بے نیام رہی ۔انہوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر  انہیں ہمیشہ  ڈنکے کی چوٹ پر للکارا ۔ جس کی وجہ سے ان کی صفوں میں شدید ترین کھلبلی رہی۔
4. عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا زبردست شعور:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے نہ صرف یہ کہ خود محافظ تھے بلکہ انہوں نے عوام اہل سنت میں بھی اس کا زبردست شعور پیدا کیا۔ جب بھی حکومتی ایوانوں میں اس حوالے سے کسی قسم کی گڑ بڑ کی کوشش کی گئی وہ اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور انہیں ہزیمت سے دوچار کیا۔ قادیانیت ہمیشہ ان کی للکار سے لرزہ بر اندام رہی ۔ ’’تاجدار ختم نبوت : زندہ باد ، زندہ باد‘‘ کا نعرہ دشمنان ختم نبوت لیے تیغ براں سے کم نہ تھا۔
5.  افکار و کلام اعلی حضرت کا فروغ:
علامہ رضوی  نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے نعتیہ کلام اور افکار و نظریات کو بھی خوب فروغ دیا۔بالخصوص اعلیٰ حضرت کا یہ مصرع ’’انہیں جانا ، انہیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام‘‘ تو ان کی خاص پہچان بن گیا ۔ آپ کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کا کثیر کثیر کلام زبانی یاد تھا ۔
6. فکراقبال کا احیا :
اگر شاعر مشرق ، حکیم الامت علامہ محمد اقبال علیہ الرحمۃ آج زندہ ہوتے اور علامہ رضوی کی بلند خیالی و بلند پروازی کو ملاحظہ فرماتے تو بے شک وہ پکار اٹھتے کہ میرے کلام میں پیش کردہ شاہین یہی تو ہے ۔علامہ رضوی کو کلام  اقبال جس طرح ازبر تھا اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ انہوں نے کلام اقبال کے ذریعے قوم کے مردہ جسم میں روح پھونکی اور اسے منزل آشنا کیا ۔یقینا ان کے وصال پر ان کا استقبال کرنے والی ارواح  میں علامہ اقبال بھی ضرور شامل ہوں گے ۔
7. اسلامی انقلابی نظام سیاست کا شعور:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے اہل اسلام کو بالعموم اور اہل سنت کو بالخصوص اسلامی انقلابی نظام سیاست کا شعور دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انہیں اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ۔ان پر لاکھوں افراد کے عوامی اعتماد کو دیکھ کر عرصہ درازسے کام کرنے والی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں انگشت بدنداں ہیں ۔ علامہ رضوی اسلام کے اس نظریے کے داعی تھے ’’جدا ہوں دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔
8.یزیدان عصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات:
علامہ  رضوی اس حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سچے خادم اور مکمل طور پر ان کے  نقش قدم پہ تھے۔ انہوں نےاپنے مقتدا و پیشوا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی  طرح پوری جرأت کے ساتھ یزیدان عصر کی آبکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور انہیں بر سر منبر للکارا ۔ جس پر ان کےجلسوں ،ریلیوں اور دھرنوں کے گونج دار اور گرج دار خطابات شاہد عادل ہیں۔ انہوں نے حق گوئی و بے باکی میں کبھی بھی  کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا۔یقینا وہ اس شعر کے حقیقی  مصداق تھے:
مفاہمت نہ سکھا جبر نا روا سے مجھے
میں سر بکف ہوں ، لڑا دے کسی بلا سے مجھے
 سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک پچپن سال تھی جبکہ ان کے خادم علامہ رضوی نے چون سال کی عمر پائی۔ یہ ایک عظیم اشارہ ہے کہ وہ مکمل طور پر سیدنا امام حسین کے نقش قدم پر تھے۔
9. عشق رسول میں لازوال و بے مثال فنائیت :
علامہ رضوی کی زندگی کا تجزیاتی مطالعہ کرنے والا یقینا یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ  انہیں شراب عشق احمد کی صرف دو چار بوندیں نہیں بلکہ پورے کا پورا جام حاصل تھا ۔ ان کے عاشقانہ بیانات سے صرف انھی کی فنائیت کا اظہار نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنے ساتھ ساتھ وہ  بے شمار سامعین کو بھی مقام فنا تک پہنچا دیتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ  جسم سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس پر  قربان کرنے کے لیے ہی تو دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق  جب مرنا بر حق ہے تو پھر بندہ کیوں نہ نام مصطفی پر قربان کر کے عزت سے مرے۔وہ اکثر اس شعر پروجد میں آ جاتے تھے:
زمانے بھر کی ہرایک نعمت انہی کے صدقے خدا نے دی ہے
گر ان کی عزت پہ حرف آیا  تو اپنی عزت کو کیا کریں گے
10. جذبہ جہاد کی از سر نو بیداری:
علامہ  رضوی اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ جہاد اسلام اور اہل اسلام کی بقا کا ضامن اور عالم کفر کولگام دینے کا واحد  ذریعہ ہے،اس لیے انہوں نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ قوم میں جذبہ جہاد کو از سر نو بیدار کیا ۔وہ اپنے بیانات میں اسلام کی چودہ سو سالہ جہادی تاریخ کے لگاتار و پیہم حوالے دیتے تھے۔بجا طور پر ان کا یہ کہنا تھا کہ گستاخی رسالت کے مرتکب ممالک کا علاج صرف احتجاج نہیں بلکہ ان پہ ایٹم بم گرانا ہے ۔یہ انھی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج بچے بچے کی زبان پر’’الجہاد الجہاد:لبیک لبیک ‘‘ کا نعرہ ہے۔لہذا انہیں امیر المجاہدین کہنا ان کا بنیادی حق ہے۔
11. کشمیر و اہل کشمیر کے حقوق کے لیے توانا آواز:
مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ پون صدی سے تا حال مسلمان بچوں ، جوانوں ، بوڑھوں ، مردوں اور عورتوں کا نہایت بے رحمی سے قتل عام جاری ہے ۔اس سنگین ترین معاملے پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنی اپنی دکانداریاں چمکاتی چلی آئی  ہیں،لیکن اچھا ریٹ نہ ملنے کی وجہ سےاس وقت سب کا کاروبار سرد ہے۔ان سرد حالات میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے بابا جی علامہ خادم حسین رضوی کی مخلصانہ آواز  بہرحال پوری قوت کے ساتھ گونجتی رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ  اہل کشمیر علامہ رضوی کے وصال پر نہایت رنجیدہ اور دکھی ہیں ۔
12. بھارتی حکمرانوں کے لیے شمشیر بے نیام:
علامہ رضوی دنیا بھر کے تمام اور بالخصوص بھارت کے ظالم حکمرانوں کے لیے شمشیر بے نیام تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی ۔ وہ ببانگ دہل بابری مسجد کا بدلہ لینے کی بات کرتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ قطب مینار بھی ہمارا ہے ،جامع مسجد  دہلی بھی ہماری ہے اور تاج محل بھی ہمارا ہے ۔ وہ اپنے اسٹیج سے بھارتی حکمرانوں کی چیرہ دستیوں پر انہیں وقتا فوقتا للکارتے رہتے تھے۔انہوں  نے حکومت وقت سے بارہا بھارتی حکمرانوں  کے خلاف اعلان جہاد کا مطالبہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت نے ان کی وفات پر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔
13. تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت کی علم برداری:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ نے جہاں ناموس مصطفی کی پاسبانی کی وہاں ناموس صحابہ و اہل بیت کی بھی خوب خوب پہرے داری کی ۔انہوں نے صحابہ و اہل بیت کے نفوس قدسیہ پر بھونکنے والوں کو بر سر منبر للکارا۔ جس کی وجہ سے رافضیت و ناصبیت ہر دو ایوانوں میں وہ ناپسندیدہ قرار پائے  ۔ انہوں نے کبھی بھی پرواہ نہیں کی کہ اس طرح وہ کئی لوگوں کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے۔ اور یہی ایک سچے اور مخلص عالم دین کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔
نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں                فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
14. لاکھوں دلوں میں شریعت مطہرہ پر عمل کا جذبہ :
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کا ایک خصوصی امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے لاکھوں دلوں میں شریعت مطہرہ پر عمل کا جذبہ پیدا کیا۔ بہت سے بے نمازی، نمازی بن گئے ۔ بہت سے لوگوں نے اپنے چہرے سنت رسول سے سجا لیے۔ بہت سے لوگوں نے سر پر دستاریں باندھنا شروع کر دیں۔ بہت سے لوگوں نے ان کی طرز پر تقریریں کرنا شروع کر دیں۔بہت سے لوگوں نے کثیر کثیر گناہوں کے کام ترک کر دیے۔انہوں نے مروجہ پیروں اور لیڈروں  کی طرح نہ تو عوام سے اپنے نعرے لگوائے اور نہ ہی اپنے ترانے پڑھوائے۔ انہوں نے لوگوں کو اپنے نقش قدم پر چلانے کی بجائے محمد عربی ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کا درس دیا۔ یقینا اس صدقہ جاریہ کا ثواب بھی علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کی روح مبارک کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔
15. فرنگی تعلیم کی بجائے دینی تعلیم کی عظمت کا جذبہ:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ نے لوگوں میں یہ شعور بھی بیدار کیا کہ عزت ، شہرت ، دولت  اور ہر نعمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ، لہذا ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ فرنگی تعلیم سے حاصل ہو ۔یہ سب کچھ  دینی تعلیم سے بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا اگر اے بی سی پڑھنے سے روزی مل سکتی ہے تو قال اللہ و قال الرسول سے بھی مل سکتی ہے ۔انہوں نے اپنی اولاد کو بھی قرآن و حدیث کی تعلیم پر لگایا اور ان کی تربیت کی وجہ سے ان کے چاہنے والے کثیر لوگوں نے بھی اپنے بچوں کو حصول علم دین کی راہ پر لگایا جس کی وجہ سے مدارس دینیہ آباد و شاد ہو گئے۔
16. دین کی سربلندی کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کا ذہن:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ نے جو سب سے اہم کارنامہ سر انجام دیا وہ یہ کہ زبردست تربیت کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے موت کا خوف دور کردیا ۔ انہیں ہر طرح کی قربانی دینے کا ذہن دیا۔ بالخصوص کسی بھی قسم کی حالات کی پرواہ کیے بغیر میدان میں نکلنے اور ہر طرح کے باطل سے لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک اشارے پرملک کے چپے چپے ، کونے کونے اور گوشے گوشے سے لوگ سر پہ کفن باندھ کر لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل آتے تھےاوردو دو فٹ اوپر اچھل کر لبیک کے نعروں سے ایک سماں باندھ دیتے تھے۔ علامہ صاحب کے مختلف دھرنوں میں کافی تعداد میں لوگ بھوکے پیاسے بھی رہے ، سردی گرمی بھی برداشت کی ،شیلنگ و فائرنگ وغیرہ کے سبب زخمی و معذور بھی ہوئے حتی کہ کئی سعادت مندوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔
17. حکمرانوں اور سیاست دانوں کی آنکھیں کھول دینے والا شان دار اسوہ:
ہمارے سیاست دان اور حکمران بہت زیادہ پروٹوکول کے متمنی ، شہرت کے بھوکے اور عزت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود ہزار جتن کے وہ یہ سب حاصل نہیں کر پاتے ۔صرف وقتی اور مصنوعی قسم کی نمائش ہوتی ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن علامہ رضوی کو باوجود معذوری اور درویشی کے جو فلک بوس اور ریکارڈ توڑ پروٹوکول ، شہرت اور عزت حاصل ہوئے اس سے  تمام سیاست دانوں اور حکمرانوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔اس میں ان کے لیے یہ سبق ہے کہ اگر وہ حقیقی عزت و شہرت چاہتے ہیں تو پھر سارے باطل نظریات کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سچے نظریے کے پیروکار بن جائیں۔
18. طویل ترین عرصے کے لیے  دین و مسلک کا استحکام:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کی لازوال کوششوں ، بے مثال قربانیوں اور باکمال تربیتوں کے نتیجہ میں دین کی کمزوری ایک بہت بڑی طاقت میں تبدیل ہو گئی ۔ اس کے ضعیف بدن میں ایک نئی جان پیدا ہو گئی۔آئندہ طویل ترین عرصے کے لیے دین اسلام باطل کے بہت زیادہ حملوں ، سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ ہو گیا۔ اب تمام دین دشمن طاقتیں ،حکومتیں،افراد اور جماعتیں دینی عقائد و اعمال پر شب خون مارنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گی  کیونکہ رضوی شیروں کی ایک عظیم فورس ان کوپسپا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھی ہے۔۔ یقینا یہ بھی غیب کی طرف سے علامہ رضوی کے ذریعے دین کی حفاظت کا ایک عظیم انتظام ہوا ہے۔
19. جملہ مکاتب کی طرف سے زبردست پذیرائی کا حصول:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کو جو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اس سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ خلوص کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتا ۔ جس کا عمل بے غرض ہو اس کی جزا منفرد اور جداگانہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ رضوی کی خدمات کو بلا امتیاز دنیا بھر کے جملہ مذاہب ، مسالک ، مکاتب اور شعبہ ہائے زندگی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا ۔یہ ان کی کوششوں کا صرف چھوٹا سا دنیوی انعام تھا، قبر و حشر میں اس پر جو بڑے بڑے انعامات حاصل ہوں گے وہ ہمارے تصور سے بھی باہر ہیں ۔
20.  امام احمد بن حنبل کی روحانی جانشینی:
امام احمد بن حنبل وہ عظیم ہستی تھے جنہوں نے دین کی خاطر اپنے تن پہ سینکڑوں روح فرسا مظالم برداشت کیے۔ علامہ رضوی علیہ الرحمۃ بھی عصر حاضر میں ان کے سچے جانشین تھے ، انہوں نے بھی ناموس رسالت اور ختم نبوت کی خاطر لگاتار جیلیں ، گالیاں ، مخالفتیں اور طرح طرح کے مظالم برداشت کیے۔ امام احمد بن حنبل ربیع الاول میں رب کے حضور حاضر ہوئے ، جبکہ ان کے جانشین علامہ رضوی ان سے ایک قدم پیچھے ربیع الثانی رب کے حضور حاضر ہوئے ۔ امام احمد بن حنبل کے جنازے میں بھی لاکھوں افراد شریک ہوئے اور ان کے جانشین کے جنازے میں بھی لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ربیع الثانی میں ہی اپنے وقت کے عظیم مجدد اور سیدنا امام احمد بن حنبل کے مقلد غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کا وصال مبارک ہے۔
21. قلیل وقت میں کثیر نتائج:
علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کی باقاعدہ عملی جدوجہد صرف دس سال کے قلیل عرصے پر مشتمل ہے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ان پر کرم ہے کہ اتنے قلیل وقت میں ان سے اتنا عظیم کام لے لیاورنہ بے شمار مخلصین بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں اتنی جلدی اتنی زیادہ کامیابیاں نہیں ملتیں ۔باقی ان پیر صاحبان کی تو بات ہی نہ کریں جن کی نسلیں بھی دین کے نام پر مریدوں کے مال پہ پل رہی ہیں۔ ان کے کر و فر ، ان کے پروٹوکول، ان کے آداب مجلس، ان کے اخراجات آمد و رفت، ان کے نام کی مالائیں ،ان کے زہد و تقوی کے شہرے،ان کے قصیدےاور ان کے القابات  کھلم کھلا چغلی کھاتے  ہیں کہ انہوں نے دین کی وہ خدمت نہیں کی جو دین نے ان کی خدمت کی ہے ۔
22.  مذہبی قائدین کے لیے تازیانہ عبرت:
بہت سے مذہبی قائدین کے دماغوں میں بھی ایک دوسرے کو مات دینے کا بھوت سوار ہوتا ہے جس کا ان کے طور طریقوں اور لب و لہجے سے خود ہی اندازہ ہو جاتا ہے ۔ ایسے مذہبی لیڈروں کے لیے علامہ رضوی علیہ الرحمۃ کی مقبولیت یقینا ایک بہت بڑا تازیانہ عبرت ہے۔ علامہ رضوی نے سمجھا دیا کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے آنکھیں بند کر کے دین کا کام کرتے چلے جاؤ، دنیا کی ساری عزتیں سمٹ کر تمہارے قدموں میں آ جائیں گی۔اور اگر تم خود یا اپنے پیرو کاروں کے ذریعے دین کی آڑ لے کر دوسرے مذہبی قائدین کی سرا یا علانیۃ کردار کشی کرنے کے چکروں میں رہو گے تو اس کا خمیازہ تمہیں بھی ایک دن ضرور بھگتنا پڑے گا۔اور اس انداز میں دین کا فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہے ۔
23. عظیم الشان تاریخی جنازہ:
لاکھوں افراد پر مشتمل علامہ رضوی کا تاریخی جنازہ بھی ان کا ایک بہت بڑا امتیاز ہے ۔ یقیناً یہ جنازہ ایک بہت بڑا ریفرنڈم تھا  ہر طرح کی باطل سیاستوں کے خلاف ، جھوٹی قیادتوں کے خلاف ، گستاخی رسالت کے خلاف ،  دشمنان ختم نبوت کے خلاف ، لبرل ازم و سیکولر ازم کے خلاف ، دین بے زاروں کے خلاف ، بددیانتی کے خلاف، عریانی و فحاشی کے خلاف ، ظلم و تشدد کے خلاف ، دہشت گردی کے خلاف ، بد امنی کے خلاف ، جہالت کے خلاف ، عیاشی کے خلاف ، سرمایہ داری و جاگیر داری کے خلاف ۔
گویاعلامہ رضوی اپنے عظیم الشان جنازے کی صورت میں ایک بہت بڑا علمی ، دینی ، فکری اور سیاسی سرمایہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں اگر  ان کے جانشین حکمت و فراست سے کام لیں تووہ اسے کام میں لا کر ایک بہت بڑا عالمی انقلاب برپا کر سکتے ہیں ۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ اس سرمائے کا کیا کرتے ہیں ۔دیدہ باید۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں