علامہ اقبال 0

علامہ اقبال

64 / 100

علامہ اقبال
یہاں ان کی زندگی کے بے شمار واقعات میں سے چند پیش کیے جا رہے ہیں
تحریم اصغر
علامہ اقبال قومی شاعر،مصور پاکستان،ایک مفکر اور فلسفی تھے۔یہاں ان کی زندگی کے بے شمار واقعات میں سے چند پیش کیے جا رہے ہیں۔
ایک دفعہ راجا نریندر ناتھ نے علامہ اقبال کو دعوت پر مدعو کیا۔
علامہ اقبال جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کمرے میں ہرن کی کھالیں بچھی ہوئی ہیں۔علامہ اقبال ان سے بچ بچ کر گزرنے لگے۔راجا نریندر ناتھ نے بڑی حیرت سے یہ منظر دیکھا اور وجہ دریافت کی تو علامہ اقبال نے فرمایا ”ہرن کی کھال پر بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے انسان کے اندر لا شعوری طور پر غرور پیدا ہو جاتا ہے۔
“یہ سن کر راجا صاحب اس قدر حیران اور متاثر ہوئے کہ کئی لمحے خاموش کھڑے علامہ اقبال کے چہرے کو تکتے رہے۔
1911ء کا واقعہ ہے کہ جب انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسے میں علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم ”شکوہ“ خاص انداز میں پڑھی۔

اس جلسے میں علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد بھی موجود تھے اور اپنے فرزند کے شاعرانہ کمال اور ہر دل عزیزی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔علامہ اقبال جب نظم پڑھ چکے تو ان کے بڑے مداح اور قدر شناس خواجہ صفدر آگے بڑھے اور جوش مسرت سے اپنا قیمتی دو شالہ علامہ اقبال کے شانوں پر ڈال دیا۔
علامہ اقبال نے اسی وقت یہ قیمتی دو شالہ انجمن حمایت اسلام کے منتظمین کو دے دیا۔اس کے بعد یہ یادگار اور متبرک دو شالہ مجمع میں نیلام کیا گیا۔سب سے بڑی بولی سے حاصل شدہ رقم انجمن حمایت اسلام کو دے دی گئی۔
ایک دفعہ طلبہ کا ایک گروہ علامہ اقبال سے ملنے آیا اور انہوں نے ایک عجیب سوال کیا:”آپ کو نوبل پرائز کیوں نہیں ملا؟“طلبہ کا خیال تھا کہ جب دنیا کی بڑی بڑی شخصیات اور بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل پرائز مل سکتا ہے تو پھر علامہ اقبال اس قدر ممتاز شخصیت ہونے کے باوجود اس عالمگیر ایوارڈ سے محروم کیوں ہیں؟علامہ اقبال جو طلبہ کے ہر قسم کے سوالات خندہ پیشانی سے سن لیتے تھے۔
یہ سوال سن کر بھی مسکرائے اور فرمایا:”اگر مجھے نوبل پرائز مل چکا ہوتا تو مجھ سے یہ سوال پوچھا جاتا کہ آپ نے کون سے ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں جو آپ کو یہ انعام دیا گیا؟لیکن نہ ملنے پر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
“اس مدلل جواب کے بعد بحث کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔
علامہ اقبال ایک دفعہ ٹرین سے لاہور جا رہے تھے۔اسی ڈبے میں ککے زئی خاندان کے ایک بزرگ کو یہ معلوم ہوا کہ شاعر مشرق ان کے ہمسفر ہیں تو خوشی اور حیرت ہوئی۔علامہ اقبال نے بڑی گرم جوشی سے ان سے ہاتھ ملایا اور سگریٹ کی ڈبی پیش کی۔
بزرگ نے وہ سگریٹ لے کر سلگانے کے بجائے جیب میں رکھ لی۔علامہ اقبال نے حیرت سے وجہ دریافت کی تو بزرگ نے کہا:”یہ متبرک سگریٹ میرے خاندان میں یادگار کے طورپر محفوظ رہے گی۔“
علامہ اقبال نے مسکراتے ہوئے دوسری سگریٹ پیش کی اور فرمایا:”اچھا تو اس سے شوق فرمائیے۔
“لیکن بزرگ نے سلگانے کے بجائے وہ بھی جیب میں رکھ لی۔علامہ اقبال مسکرائے اور خاموش ہو گئے۔
علامہ اقبال اور دکن کے مہا راجا سرکشن پرشاد کے درمیان پر خلوص مراسم تھے۔ایک دفعہ علامہ اقبال حیدر آباد دکن تشریف لے گئے اور مہا راجا کے ہاں قیام فرمایا۔
مہا راجا نے علامہ اقبال کی میزبانی اپنی حیثیت کے مطابق امیرانہ طرز پر کی۔ وہیں ایک صاحب پرانی وضع کا انگرکھا ،مغلئی پاجامہ اور دو پلی ٹوپی پہنے یکے پہ سوار علامہ اقبال سے ملنے آئے۔علیک سلیک کے بعد مصافحہ ہوا اور دوران گفتگو پتا چلا کہ وہ صاحب مغلیہ خاندان کے شہزادے ہیں اور کافی عرصے سے علامہ اقبال سے ملاقات کے خواہش مند تھے۔
انھوں نے علامہ اقبال سے کہا کہ آپ تو دکن کے وزیر اعظم کے محل میں رہائش پذیر ہیں،میں غریب آدمی ہوں یہ آرام و آسائش نہیں لا سکتا، تاہم میری دلی تمنا یہ ہے کہ ایک وقت کا کھانا میرے گھر بھی تناول فرما لیں تو میرے لئے بڑی سعادت کا باعث ہو گا۔
علامہ اقبال نے دعوت قبول کرلی اور مقررہ وقت پر مغل شہزادے کے ہاں پہنچے۔وہ صاحب اپنے دروازے پر تنہا علامہ اقبال کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ان کے خلوص اور محبت کا یہ علم تھا کہ گویا واقعی علامہ اقبال کی راہوں میں آنکھیں بچھا دی ہوں۔
علامہ اقبال سواری سے اُترے تو مغل شہزادے نے ہاتھ تھام لیا اور اندازے سے ذوق کا یہ مصرعہ پڑھا:”دیکھا دم نزع دل آرام کو عید ہوئی۔“یہ مصرعہ سن کر علامہ اقبال کو مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت یاد آگئی اور یہ سوچ کر کہ ان کا میزبان اسی خاندان کا ایک مفلس اور غریب شہزادہ ہے،ان پر رقعت طاری ہو گئی اور آنسو جاری ہو گئے۔

ایک دن علامہ اقبال حسب معمول بنیان پہنے اور تہبند باندھے گھر کے برآمدے میں بیٹھے ہوئے حقہ پی رہے تھے اور ساتھ ساتھ احباب سے تبادلہ خیال جاری تھا۔ممتاز حسن بھی اس محفل میں شریک تھے۔جو بعد وزارت خزانہ کے سکریٹری اور نیشنل بینک آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے۔
دو قد آور فوجی جوان جو حلیے سے شمالی پنجاب کے باشندے معلوم ہوتے تھے۔وہاں آئے اور بڑی خاموشی سے وہاں موجود خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک نے ممتاز حسن سے پوچھا:”ترجمان حقیقت سر ڈاکٹر علامہ اقبال بیر سٹرایٹ لا ممبر، پنجاب قانون ساز کونسل کہاں ہیں۔
“ممتاز صاحب کو اس سوال پر بے اختیار ہنسی آگئی۔علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پروفیسر محمد شفیع نے ان سے ہنسنے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ صاحب ترجمان حقیقت سر ڈاکٹر علامہ اقبال کی تلاش میں ہیں جو ان کو ابھی تک نہیں مل سکے۔
اس پر محمد شفیع صاحب نے ان نوجوانوں کی جانب دیکھا اور علامہ اقبال کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ یہ کون ہیں؟اس پر محفل میں ایک قہقہہ بلند ہوا اور ان قہقہہ لگانے والوں میں خود علامہ اقبال بھی شامل تھے۔اس قہقہے کے انداز سے وہ فوجی سمجھ گئے کہ ترجمان حقیقت علامہ اقبال وہی ہیں جو اس قدر قلندارانہ شان اور سادگی سے ان کے سامنے بیٹھے ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل ریاستوں کے حکمران بظاہر آزاد،لیکن اصل میں انگریزوں کے ماتحت تھے۔ریاست کے وزیر اعظم کی تقرری وائسرائے ہند کے حکم سے ہوتی تھی۔وہ جس کو چاہتے ریاست کا وزیراعظم بنا دیتے۔اس طرح نامزد ہونے والا وزیراعظم بظاہر ریاست کے نواب کے ماتحت ہوتا،لیکن در پردہ ریاست کا تمام نظم ونسق وائسرائے ہند کے احکام کے مطابق چلتا تھا۔
یوں وزیراعظم کے ہاتھ میں نواب ایک کٹھ پتلی بن جاتا تھا۔ایک دفعہ ایک صاحب جو ریاست بہاول پور کے وزیراعظم نامزد کیے گئے،ان کی نواب آف بہاول پور سے بالکل نہیں بنتی تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد تھے۔پہلے تو نواب صاحب خود وائسرائے ہند کو شکایات سے بھرپور خط لکھتے رہے، لیکن شنوائی نہ ہوئی۔
نواب صاحب نے مجبور ہو کر علامہ اقبال کو خط لکھا اور اپنا وکیل بنانا چاہا جو اس وقت نامور بیرسٹر تھے۔علامہ اقبال نے بطور بیرسٹر معاملہ کو جانچا اور پھر چار ہزار روپے فیس مقدمے کی طے کرکے ہامی بھرلی۔
چناچہ علامہ اقبال لاہور سے دہلی روانہ ہوئے اور اسٹیشن سے سیدھے وائسرائے ہند کے دفتر میں جاپہنچے اور سیکرٹری کو اپنا کارڈ دکھایا۔
سیکرٹری نے کہا کہ اُصول یہ ہے کہ آپ اپنا نام رجسٹر پر لکھ دیں اور میں یہ رجسٹر اندر بھیج دوں گا،جسے بلانا مقصود ہوتا ہے اسی کو بلایا جاتا ہے۔لہٰذا آپ بھی کارڈ دینے کے بجائے نام لکھ دیں۔علامہ اقبال نے کہا کہ اگر وائسرائے میرے کارڈ پر نہ ملنا چاہیں تو میں واپس چلا جاؤں گا،لیکن رجسٹر پر نام نہیں لکھوں گا۔
سیکریٹری مجبوراً کارڈ اندر لے کر گیا۔ وائسرائے نے ملنے کے لئے رضا مندی ظاہر کی اور علامہ اقبال سے آنے کا سبب دریافت کیا۔علامہ اقبال نے بتایا کہ وہ ایڈوکیٹ کی حیثیت سے نواب آف بہاول پور کی جانب سے پیش ہوئے ہیں کہ ریاست کا وزیراعظم آپ کے حکم سے وہاں تعینات ہوا ہے۔
نواب صاحب اور اس کے درمیان اختلافات ہیں،جس سے ریاستی امور تعطل کا شکار ہو رہی ہے۔ وائسرائے نے کہا کہ یہ تعیناتی اُصول و ضوابطہ کے مطابق ہوئی ہے اور نواب صاحب کو اسے پسند کرنا چاہیے۔
علامہ اقبال نے فرمایا کہ معاملہ بالکل معمولی ہے۔
حکمران کی سیاست کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وائسرائے اور ریاست کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوں،لیکن وزیراعظم کی در اندازی اور ناقبولیت کی وجہ سے اس عظیم مقصد کو نقصان پہنچے گا۔آپ کو اپنی پالیسی کی مرکزی قوت بحال رکھنے کے لئے ایسے نازک مسئلے پر وزیراعظم کی حمایت ترک کر دینی چاہیے اور کوئی ایسا شخص متعین کرنا چاہیے جو نواب صاحب کو بھی پسند ہو اس سے حکومتی پالیسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،بلکہ آپ کے وقار میں اضافہ ہو گا۔
آخر وائسرائے نے وزیراعظم کی تبدیلی کا وعدہ کر لیا۔ جب یہ بات طے ہو گئی تو وائسرائے نے کہا کہ آپ پرسوں میرے ساتھ ڈنر کریں۔علامہ اقبال نے کہا کہ مجھے تو آج لاہور جانا ہے۔ وائسرائے نے کہا کہ اچھا چلیں کل ہی سہی۔اقبال نے فرمایا کہ لیکن مجھے تو آج ہی جاناہے کل تک نہیں ٹھہر سکتا۔
(وائسرائے کے سامنے والیِ ریاست بھی بولنے کی جرات نہ کرتے تھے)۔وائسرائے نے کہا کہ میری خواہش تھی آپ کے ساتھ کھانا کھاتا،مجھے اس سے خوشی ہوتی۔علامہ اقبال نے فرمایاکہ اگر یہ خواہش ہے تو آج بھی پوری ہو سکتی ہے۔چنانچہ اسی روز دوپہر کا کھانا وائسرائے کے ساتھ تناول فرمایا اور لاہور چلے آئے ۔

علامہ اقبال کے خادم علی بخش کے سامنے علامہ اقبال کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کو وہ پوری عمر یاد کرتے رہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میری خدمات سے خوش ہو کر فرمایا کہ علی بخش بتاؤ میں تمہیں ایسا کیا دوں کہ تم خوش ہو جاؤ۔
میں نے کہا کہ اس رات آپ کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا تھا اور میں نے اس کے بارے میں سوال کیا تھا۔علامہ اقبال نے فرمایا کہ میں تمہیں اس شرط پہ بتاتا ہوں کہ میری زندگی میں تم کسی کو نہیں بتاؤ گے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک رات نصف شب کے قریب علامہ اقبال بستر پر بے چینی اور اضطراب سے کروٹیں بدل رہے تھے۔
اچانک اُٹھ کھڑے ہوئے اور گھر کے اس دروازے کی طرف گئے جو میکلوڈ روڈ کی طرف کھلتا ہے۔میں (علی بخش) بھی پیچھے گیا۔اتنے میں پاکیزہ اور خوب صورت لباس والے بزرگ اندر داخل ہوئے۔آپ (علامہ اقبال) اُن کو اندر لے آئے اور اُن کو پلنگ پر بیٹھا کر خود نیچے بیٹھ گئے اور ان کے پاؤں دبانے لگے۔
علامہ اقبال نے بزرگ سے پوچھا کہ آپ کے لئے کیا لاؤں؟
بزرگ نے کہا کہ دہی کی لسی بناکر پلادو۔
آپ نے مجھے بازار سے لسی لانے کا حکم دیا۔میں حیران تھا کہ اس وقت لسی کہاں سے لاؤں؟لیکن جیسے گھر سے باہر نکلا ایک بازار دکھائی دیا جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔
بازار میں ایک لسی والے کی دکان نظر آئی۔اُس کے پاس گیا تو اس نے جگ لے کر دھویا اور پھر لسی بنا کر دی۔ پیسے پوچھے توکہا کہ علامہ صاحب سے ہمارا حساب کتاب چلتا رہتا ہے۔میں واپس آیا اور جگ علامہ اقبال کو پیش کیا۔انھوں نے ایک گلاس بھر کر بزرگ کو دیا۔
انھوں نے پی لیا پھر دوسرا پیش کیا۔انھوں نے وہ بھی پی لیا اور جب تیسرا گلاس بھرا تو بزرگ نے کہا کہ خود پی لو۔ کچھ دیر بعد بزرگ اُٹھ کر چل دیے۔علامہ اقبال بھی اُن کو دروازے تک پہنچانے گئے اور میں بھی اُن کے پیچھے گیا۔وہ بزرگ گھر سے نکلنے کے کچھ دیر بعد اچانک غائب ہو گئے اور باہر وہ بازار بھی نہ تھا جہاں سے میں لسی لایا تھا۔
اُس وقت تو حضرت نے مجھے نہیں بتایا کہ کیا معاملہ ہے، لیکن جب اُس روز میں نے دوبارہ پوچھا تو کہا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں لیکن ایک شرط کے ساتھ کم از کم میری زندگی میں کسی کو نہیں بتاؤ گے۔پھر کہا کہ جو بزرگ گھر میں تشریف لائے تھے وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ تھے اور جنہوں نے لسی بنا کر دی وہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں