قیوم نظامی 100

عالمی سیاست کے خفیہ کھلاڑی

59 / 100

عالمی سیاست کے خفیہ کھلاڑی
دنیا کے انسان دوست اور غیر جانبدار مؤرخین اور محققین نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایکسپوز کر کے رکھ دیا ہے۔اس موضوع پر شہرہ آفاق کتب تحریر کی گئی ہیں جن میں نوم چومسکی کی کتاب who rules the worldمقبول ترین کتاب ہے جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو چکی ہے۔

مصنف نے اپنی اس کتاب میں امریکہ کے خفیہ عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ اپنے معاشی مفادات کو دنیا میں پھیلانے کے لئے اور دنیا پر حکمرانی کے لیے مختلف ملکوں میں طاقت استعمال کر کے جنگ کراتا ہے تاکہ طاقت اور خوف کا حربہ استعمال کرکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثرورسوخ کو بڑھایا جاسکے جن میں امریکہ کے شیئر ہولڈرز زیادہ ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر محقق اور دانشور ڈاکٹر مجاہد کامران نے تحقیق پر مبنی ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام the great deception ہے ۔ڈاکٹر مجاہد کامران نے اپنی اس تحقیقی کتاب میں مستند حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ امریکہ عالمی امیر اشرافیہ کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے دوسرے ملکوں کے ساتھ جنگ لڑتا ہے اور مختلف ملکوں کے درمیان جنگیں کراتا ہے۔ ان جنگوں کے اسباب معاشی ہوتے ہیں جن کا مقصد دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے تاکہ دنیا کے بارہ امیر ترین افراد کی معاشی بالادستی اور اجارہ داری کو قائم رکھا جا سکے۔

امریکہ اور ان کے اتحادی جمہوریت اور انسانی حقوق کو عالمی رائے عامہ کو دھوکہ اور فریب دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے معروف محقق محمد سلیم بین الاقوامی سیاست اور آج کے حالات کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ سیاسی معاملات میں مستقبل بینی اور سیاسی حکمت عملی میں ان کا تنقیدی اور اطلاقی مطالعہ انہیں دیگر دانشوروں سے ممتاز کرتا ہے ۔ان کی دو معروف ’’پاکستان پر مافیہ کا قبضہ‘‘ اور’’اکیسویں صدی کا سامراج‘‘ کے بعد ایک اور کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے’’ عالمی سیاست کے خفیہ کھلاڑی اور مستقبل کی جنگیں‘‘ہے۔

مصنف اپنی اس منفرد نوعیت کی اعلیٰ اور معیاری کتاب میں تحریر کرتے ہیں۔اس وقت پوری دنیا کی معیشت اور سیاست پر آٹھ انتہا پسند یہودی خاندانوں کا قبضہ ہے جن کا سربراہ مشہور زمانہ اسرائیلی ریاست کا خالق روتھسائلڈ خاندان ہے۔ یہ ایک انتہا پسند یہودی خاندان ہے جس کا بنیادی تعلق جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے تھا۔اس کے بعد یہ خاندان برطانیہ منتقل ہوگیا۔اس کے خاندان کے افراد اس وقت یورپ اور امریکہ کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس کے نیچے سات بڑے یہودی خاندان ہیں۔ اس طرح روتھسائلڈ خاندان کی سربراہی میں آٹھ خاندان باہم متحد ہوکر پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کا سارا فساد انہیں آٹھ خاندانوں کا پیدا کردہ ہے۔ یہ خاندان دنیا کی معیشت پر قابض ہیں اور ان کے نیچے کام کرنے والے عالمی نیٹ ورک کا نام عالمی اسٹیبلشمنٹ ہے۔

دنیا کے بڑے بینکوں سونے کے ذخائر امریکی فیڈرل ریزرو تیل کمپنیوں خوراک کے ذخائر ر اور عالمی تجارت پر اجارہ داری کے ایک طویل وعریض پراسرار طریقہ سے پھیلائے گئے عالمی جال کے ذریعے یہ خاندان پوری دنیا کے سفید و سیاہ کے مالک بن بیٹھے ہیں۔

روتھسائلڈ کھربوں ڈالر کا مالک ہے ۔ پوری دنیا کے اندر سونے کے ذخائر کا بے تاج بادشاہ ہے اس کے سونے کے ذخائر کا صحیح اندازہ دنیا سے پوشیدہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کے پاس دس ہزار ٹن سے زائد سونے کے ذخائر ہیں۔امریکہ تو صرف سرمایہ داروں کا عالمی بدمعاش ہے جس کے سیاستدانوں کو عالمی سرمایہ داروں نے خرید رکھا ہے۔ امریکہ جو قرضہ دیتا ہے وہ بھی ان پرائیویٹ عالمی ساہوکاروں کا ہی ہوتا ہے ۔ ان لوگوں نے امریکہ اور دیگر عالمی اداروں کو آگے کیا ہوا ہے اور خود پردے کے پیچھے بیٹھ کر مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدور ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی نے سیاست اور معیشت کے خفیہ کھلاڑیوں کے مفادات کے برعکس امریکی عوام کے مفاد پر مبنی معاشی پالیسی بنانے کی کوشش کی تو ان کو قتل کرا دیا گیا۔

محترم محمد سلیم نے اپنی اس منفرد کتاب میں عالمی سامراج کے ہتھکنڈوں اور حربوں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور تحریر کیا ہے کہ عالمی سامراج دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرتا ہے۔ دشمن ملکوں میں لسانی نسلی طبقاتی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان نفرت کی خلیج پیدا کرتا ہے اور ان کے کلچر کو فروغ دیتا ہے۔ پر تشدد عوامی احتجاج کرواتا ہے۔ این جی اوز کا غیر معمولی کردار بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ میڈیا پر قبضہ کرنا اور اس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا عالمی سامراج کا ایک بڑا حربہ ہے۔

مصنف نے اپنی کتاب میں صرف عالمی سامراج اور اس کے سر پرستوں کو ہی نقاب نہیں کیا بلکہ پاکستان کو عالمی سامراج کے حربوں اور ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے اسلامی فلاحی ریاست کا ایک خاکہ بھی پیش کیا ہے جس پر عمل کرکے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو بحال کیا جا سکتا ہے۔مصنف کی رائے ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کرکے غیر سودی معیشت ختم کر کے عوامی معیشت نافذ کرکے ارتکاز دولت کو ختم کرکے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے تصورات کے مطابق عوامی جمہوریت قائم کرکے عوامی فوج کے تصور پر عمل کرکے مافیاز کا خاتمہ کرکے بنیادی حقوق کا تحفظ کر کے ایک فلاحی ریاست قائم کی جا سکتی ہے جو پاکستان کے تمام بحرانوں کا واحد حل ہے۔

مصنف نے مسلمانوں کے زوال کو علامہ اقبال کی فکر کے مطابق بیان کرنے کے لیے اس شعر کا حوالہ دیا ہے

باقی نہ رہی تیری وہ روشن ضمیری

اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

پاکستان کے مافیاز نے عالمی مافیا سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ عوام منظم متحد اور باشعور ہو کر پاکستان کو عالمی اور مقامی مافیاز سے نجات دلا سکتے ہیں۔ یہ کتاب پاکستان کے معروف اشاعتی ادارے نگارشات لاہور نے شائع کی ہے محترم محمد سلیم اس کتاب کے لئے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

٭…٭…٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں