ملا برادر 47

طالبان کی فتح.بلال الرشید

طالبان کی ناقابلِ یقین فتح کا جشن پاکستان کے گلی کوچوں میں منایا جا رہا ہے۔ خلقِ خدا خوش ہے۔ آخر کسی نے تو امریکی سربراہی میں دنیا کے سب سے خوفناک عسکری اتحاد کو خاک چٹائی۔ امریکہ سے شدید نفرت کے باوجود نجانے کیوں میرا دل تلخی سے پھٹ رہا ہے۔ نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو میں نویں جماعت میں تھا۔ اس روز ہمارے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ ہاسٹل میں ہم دوستوں نے خصوصی طور پر اخبار لگوایا۔ بہت سے پاکستانی جہاد کے لئے افغانستان گئے اور واپس نہ آئے۔ میرے جذبے کا عالم یہ تھا کہ میں بھی ان میں شامل ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ بعد ازاں ایک قلعے میں سخت جنگ کے دوران طالبان نے پاکستانی جہادیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تو پاکستانیوں کو سخت صدمہ ہوا۔ 20سال پہلے ملا عمر اور اسامہ بن لادن میرے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ کوچۂ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد افغان جنگ کا مطالعہ کیا تو ناقابلِ یقین حیرت اور صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ روز ایک زیرک شخصیت نے مجھے یہ کہا کہ تم جتنا مرضی طالبان کی خامیاں گنوائو، اس وقت کوئی نہیں مانے گا۔ ایشو اس وقت امریکی شکست ہے، طالبان کے نقائص نہیں۔ سو فیصد درست۔ اسرائیل کی سرپرستی، لیبیا، عراق، شام، مصر اور دنیا بھر میں مسلم مفادات کو ہر ممکن زک امریکہ نے پہنچائی۔ یہ بھی درست ہے کہ موجودہ طالبان قیادت نے عسکری اور سیاسی طور پر امریکہ کو ناقابلِ یقین شکست سے دوچار کیا ہے۔ سرحدوں کا کنٹرول حاصل کیا۔ چین، ایران اور روس کے کامیاب دورے کیے۔ یقینی طور پر پاکستان کے ساتھ بھی وہ رابطے میں ہیں۔ عام معافی کا اعلان ناقابلِ یقین تھا۔

اس کے باوجود چیختا ہوا یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ اس جنگ سے طالبان اور افغانستان نے کیا حاصل کیا؟ پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ عالمِ اسلام کو کیا حاصل ہوا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صرف 4عشروں میں دو عالمی طاقتوں کو خاک چٹانے والا افغانستان آج ترقی و خوشحالی کا نمونہ ہوتا اور دونوں عالمی قوتیں عبرت کی مثال۔ افلاس، بھوک اور بیماری سے مگر افغان مر رہے ہیں، امریکی اور روسی نہیں۔ تعلیم افغانوں کے پاس نہیں۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔ آپ فلک بوس عمارتوں سے بھرپور امریکی اور روسی شہروں کا موازنہ افغان شہروں سے کر لیں۔ خود سے آپ یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ کیسی جنگ مسلمانوں نے جیتی ہے؟ کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے مختلف اطلاعات کے مطابق 7 ٹریلین ڈالر اس جنگ میں ضائع کیے لیکن اس کے لئے یہ محض 3سال کا دفاعی بجٹ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ افغان جنگ میں دونوں طرف سے ہلاک ہونے والے افغانوں کی تعداد پونے 2لاکھ ہے اور امریکیوں کی اڑھائی ہزار۔ یہ کیسی جنگ ہم نے جیتی ہے؟

بکرے کو ذبح کرنے کی بجائے تلوار مار کے دو ٹکڑے کر دیے جائیں تو کیا وہ حلال تسلیم کیا جائے گا؟ حالانکہ گوشت میں اتنی ہی غذائیت ہے۔ مسلمانوں نے ٹینکوں یا طیاروں میں بیٹھ کر امریکیوں کو شکست نہیں دی بلکہ ایک امریکی کو ہلاک کرنے کے لئے وعدۂ حور سے بہلایا گیا، ایک تیرہ چودہ سالہ لڑکا خود کش دھماکہ کر دیا کرتا۔ دشمن مر جاتا اور اس کے ساتھ تیس چالیس بےگناہ افغان شہری بھی۔ اسامہ بن لادن نے خودکش حملوں کو رائج کیا اور افغان طالبان اس پہ راسخ ہو گئے۔ پھر پاکستانی طالبان نے یہ کام شروع کیا۔ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان انہی خود کش دھماکوں سے ہوا۔ امریکی شکست سے ہمارے ہاتھ کیا آیا؟ 70ہزار ہلاکتیں اور 150ارب ڈالر کا معاشی نقصان۔ پاک فوج اگر امریکیوں کی طرح خودکش حملوں کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتی تو سوات اور وزیرستان کی طرح آج اسلام آباد اور لاہور میں بھی وار لارڈز کی حکومت ہوتی۔ ایٹمی اثاثے عالمی نگرانی میں اچک لئے جاتے۔ خود کش دھماکوں کا رجحان اگر عالمی سطح پر پھیل جاتا تو کرّۂ ارض سے انسانیت کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ 23ہزار سال قبل نی اینڈرتھل مین کے ختم ہو جانے کا ایک بڑا ممکنہ سبب اس کی آدم خوری تھی۔

سوال یہ بھی ہے کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے میں کون سی حکمت پوشیدہ تھی، جو جنگ کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ ملّا عمر اور اسامہ بن لادن کے پاس خودکش جیکٹیں ہی تھیں، جو انہوں نے استعمال کر لیں۔ خودکش دھماکے کرنے والوں کے پاس اگر امریکہ جیسے میزائل اور ایٹم بم موجود ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ کسی مرحلے پر جھنجھلا کر امریکہ اگر وہی قدم اٹھا لیتا جو اس نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں اٹھایا تھا تو طالبان کر ہی کیا سکتے تھے؟ امریکہ کے پاس یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ افغانستان کو ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر برباد کر دیتا، کیا اس لئے نہیں کہ جاپانیوں کے برعکس طالبان امریکہ میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

امریکہ کے پاس خودکش دھماکوں کا کوئی حل نہیں تھا۔ ہاں امریکہ ہار گیا ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ مگر کیا آیا؟ صرف یہ دھمکی کہ اگر ہم پہ چڑھ دوڑو گے تو ہم خود کو اڑا ڈالیں گے اور تمہیں بھی۔ اسرائیل اور امریکہ کے اندر مگر کون انہیں قدم رکھنے دے گا؟ یہودیوں نے دنیا پر قبضے کے لئے کوئی خودکش دھماکہ نہیں کیا مگر عالمی معیشت پر ان کا قبضہ ہے۔ سائنسدان ان کے ایجادات کر رہے ہیں۔ ریسرچ آرٹیکلز ان کے چھپ رہے ہیں۔ میزائل شکن نظام، طیارے، ایٹم بم اور آبدوزیں کفار کے پاس ہیں۔ فیکٹریاں اور کارخانے ان کے پاس ہیں۔ تعلیم ان کے پاس ہے۔ مسلمان بزدل نہیں مگر یہ سوکھی شجاعت ہمارے کس کام کی؟

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

نہیں سر۔ہمیں کام کرنا پڑے گا۔ کام، کام، کام!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں