حسن نثار 20

صدیوں بعد چند سوال

59 / 100

صدیوں بعد چند سوال
حسن نثار
شاید یہ واقعہ کبھی آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو۔حضرت عمر بن خطابؓ کا سادہ سا دربار خلافت جاری تھا۔ اکابر صحابہؓ بھی موجود تھے کہ اچانک دو نوجوان ایک بندھے ہوئے شخص کو گھسیٹتے ہوئے آئے اور بلند آواز میں بولے ’’یا امیر المومنین! اس ظالم سے ہمارا حق دلوایئے، اس نے ہمارے بوڑھے باپ کو مار ڈالا ہے‘‘۔
حضرت عمرؓ نے اس شخص کو دیکھ کر پوچھا….’’تو دونوں کا الزام سن چکا، تیرا جواب کیا ہے؟‘‘ مجرم نے انتہائی فصاحت و بلاغت سے پورا واقعہ بیان کر دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہاں مجھ سے یہ جرم ہوا۔ میں نے طیش میں آکر پتھر کھینچ مارا جس کی ضرب سے وہ مرد ضعیف جاں بحق ہوگیا، ارادہ ہرگز قتل کا نہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’تیرے اعتراف جرم کے بعد قصاص لازم ہو چکا۔ اس کے عوض تجھے اپنی جان دینا ہوگی‘‘۔
مجرم نے کہا ’’امیر المومنین! کوئی عذر نہیں بس اک درخواست ہے کہ میرا ایک چھوٹا نابالغ بھائی ہے جس کے لئے ہمارے والد ترکہ چھوڑ گئے اور حکم دیا تھا کہ جب بھائی بالغ ہو جائے تو اس کو سونپ دوں۔ اس لئے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تین دن کی مہلت عطا ہو تاکہ چھوٹے بھائی کی امانت کا بندوبست کرسکوں‘‘۔امیر المومنین نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ’’کون ہے جو اس بات کی ضمانت دے گا کہ تو تین دن بعد تکمیل قصاص کے لئے یہاں موجود ہوگا‘‘۔
مجرم نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور حاضرین کے چہروں پر سرسری سی نظر ڈالی اور پھر حضرت ابوذرغفاریؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ میری ضمانت دیں گے‘‘۔ امیر المومنین نے پوچھا ’’ ابوذر تم ضمانت دیتے ہوئے؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’بے شک میں ضمانت دیتا ہوں کہ یہ تین دن بعد حاضر ہو جاے گا‘‘۔
دونوں مدعی نوجوانوں نے بھی رضا مندی ظاہر کردی اور مجرم کو تین دن کے لئے چھوڑ دیا۔بالآخر تیسرا دن آ پہنچا۔ امیر المومنین سمیت جلیل القدر صحابہؓ موجود تھے۔ دونوں نوعمر مدعی بھی بے چینی سے اپنے مجرم کا انتظار کررہے تھے۔
حضرت ابوذر غفاریؓ بھی موجود تھے۔ دن تیزی سے ڈھلتا جا رہا تھا اور مجرم کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ صحابہؓ کی تشویش اور بے چینی میںمسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اچانک مدعیوں میں سے ایک بولا ’’ابوذر! ہمارا مجرم کہاں ہے؟‘‘ آپ نے کمال استقلال اور ثابت قدمی سے جواب دیا ’’ اگر تمہارا مجرم مکمل غروب آفتاب سے پہلے پیش نہ ہوا تو میں موجود ہوں، تم خاطر جمع رکھو۔عدالت فاروقی بھی جوش میں آئی۔
امیر المومنین سنبھل بیٹھے اور فرمایا ’’ اگر وہ نہ آیا تو ابوذر کی نسبت وہی کارروائی ہوگی جس کی شریعت متقاضی ہوگی‘‘۔ کچھ لوگ آب دیدہ ہوگئے، کچھ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور کچھ لوگوں نے مدعیوں سے کہنا شروع کردیا کہ ’’آپ لوگ خوں بہا قبول کرلو‘‘ لیکن ان دونوں بھائیوں نے صاف صاف انکار کردیا اور کہا ’’ہم خون کے بدلے صرف خون چاہتے ہیں‘‘ تمام لوگ اسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ اچانک مجرم ابتر حالت میں نمودار ہوا۔
اہل مجلس کو خندہ جبینی سے سلام اور معذرت پیش کرتے ہوئے امیر المومنین سے عرض کیا ’’میں اپنے چھوٹے نابالغ بھائی کا سب کچھ ماموں کے سپرد کرآیا ہوں اور حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں‘‘۔حضرت ابوذر غفاریؓ بہ آواز بلند مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’امیر المومنین! خدا کی قسم میں تو جانتا بھی نہ تھا کہ یہ کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے اور نہ اس روز سے پہلے کبھی اس کی صورت دیکھی تھی مگر جس طرح اس نے مجھ پر مان اور بھروسہ کیا، میرے دل نے گوارا نہ کیا کہ اس مسلمان بھائی بیٹے کو مایوس کروں، اس لئے اللہ کے بھروسے ضمانت دے دی تھی اور اس کے چہرے ……….نے بھی یقین سا دلایا تھا کہ یہ اپنے عہد میں سچا ہوگا‘‘۔
پرجوش حاضرین ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ کا چہرہ بھی چمک رہا تھا کہ دونوں مدعی بھائی آگے آئے اور عرض کیا۔
’’اے امیر المومنین! ہم نے اپنے باپ کا خون معاف کیا‘‘۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ’’مدعی نوجوانو! تمہارے باپ کا خوں بہا میں بیت المال سے ادا کردوں گا اور تم اپنی نیک نفسی کے ساتھ فائدہ بھی اٹھائو گے‘‘۔ دونوں بھائیوں نے عرض کیا ’’امیر المومنین! ہم اس حق کو خالصتاً خدا کی خوشنودی کے لئے معاف کر چکے لہٰذا اب کچھ لینے کا حق نہیں نہ لیں گے‘‘۔
قارئین! صدیوں بعد میں سوچ رہا ہوں کہ آج اس سے ملتی جلتی کسی صورت حال میں کوئی قاتل ہوگا جو فوراً اعتراف جرم کرلے گا؟ کوئی حضرت ابوذرؓ جیسا ہوگا جو ایک اجنبی مسلمان کا مان رکھ لے گا؟کوئی قاتل ہوگا جو حسب وعدہ خود چل کر مقتل پہنچ جائے گا؟ اور کوئی ایسے مدعی بھی ہوں گے جو باپ کا خون معاف کردیں گے اور خوں بہا لینے سے بھی انکار کردیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں