442

صدر مملکت کی علماء کے ساتھ میٹنگ

18 اپریل 2020ء کو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے ملک بھر کے جید علمائے کرام کےساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے میٹنگ کی۔یہ میٹنگ اس حوالہ سے ایک تاریخ ساز تھی کہ اس میں چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے علماء نے بھی شرکت کی اور کچھ اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھیں۔اس میٹنگ کو کامیاب بنانے کے لیے جناب صدر محترم نے خصوصی دلچسپی لی اور صوبوں کے گورنرز اور دیگر اہم سرکاری شخصیات سے رابطہ کیا۔اس میٹنگ کو مؤثر اور ثمر بار بنانے کے لیے پیرزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے دن رات محنت کی۔آپکی ذاتی کوششوں سے علمائے کرام اور مشائخ عظام نے حکومتی فیصلوں کی تائید و حمایت کی۔وزیر محترم نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ آجکا سیشن بااختیار ہے صوبائی حکومتیں بھی اس حوالہ سے فیصلہ کرنے میں بااختیار ہیں۔علماء اور صوبائی حکومتوں کا فیصلہ وفاقی حکومت اپنا فیصلہ تصور کرے گی۔جناب وزیر محترم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایک بہت اہم بات ارشاد فرمائی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک بحث چھر گئی ہےکہ کرونا وائرس زائرین اور تبلیغی جماعت کی وجہ سے پھیلا ہےاس سے مذہب بدنام ہوا ہے۔مجھے تشویش ہےکہ رمضان کےبعد یہ بحث نہ چھڑ جائے کہ ملک میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ مساجد اور رمضان کی وجہ سے ہوا ہے۔انہوں نےحرمین شریفین کی بندش اور خاموشی پر وزیراعظم پاکستان کی افسردگی کا بھی ذکر کیا۔
امور صحت کے مشیر جناب ظفر مرزا نے کہا کہ یہ ہماری گزشتہ 150 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی وبا اور بیماری ہے۔1918 میں فلو کی وبا سے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔کرونا وائرس سے ابھی تک 21 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ڈیڈھ لاکھ افراد لقمئہ اجل بنے ہیں۔پچھلے 24 گھنٹوں میں450 افراد میں پوزیٹو آیا ہے۔اس وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں سماجی فاصلہ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔ہم نے بیرونی ماہرین کی مدد سے جو تخمینے لگائے تھےان کے مطابق پاکستان میں اب تک 18 ہزار کیسز ہونے چاہییں تھے مگر حکومت کی کوششوں سے وہ ابھی تک سات ہزار تک محدود ہیں۔جسکی بڑی وجہ اجتماعات پر پابندی ہے۔اس بیماری میں بیاسی فیصد(82%) وہ لوگ مبتلاء ہوئے ہیں جو پچاس سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔اسی فیصد(80%) وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی نہ کوئی بیماری ہے۔جبکہ 74 فیصد مرد ہیں۔یہ بیماری ساٹھ فیصد ایک دوسرے سے پھیلتی ہے۔15 اپریل کو آنے والی نئی تحقیق نے اور پریشان کردیا کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ کھانسیں یا چھینک ماریں یہ بیماری آپس میں باتیں کرنے یا جمائی لینے سے بھی ایک سے دوسرے کو منتقل ہوسکتی ہے۔اس طرح کچھ خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ان پر ہمیں توجہ کرنا ہوگی۔میں آپکو ڈرانا نہیں چاہتا مگر یہ سائنسی حقائق ہیں جو پبلش ہوچکے ہیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں دیگر ممالک کے فیصلوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیےاسی طرح ان ممالک کو بھی جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہاں کے مسلمان علماء کیا فیصلے کررہے ہیں۔حکومت کی رٹ کو چیلنج نہ کیا جائے۔علماء کو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ علماء اور ریاست کے درمیان کوئی مخالفت ہے۔
گورنر سندھ کا خیال تھا کہ صرف جامع مساجد کو کھولا جائے۔مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ علماء کا مقصد حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا نہین تھابلکہ شریعت کے مطابق اپنے نقطئہ نظر کا اظہار تھا۔یہ کوئی آرڈر نہیں تھا(وہ کراچی کے علماء کی میٹنگ کے اعلامیہ کے حوالہ سے بات کررہے تھے)وبا اللہ کی طرف سے آئی ہے اور وہی اسے دور کرسکتا ہے۔مساجد رجوع الی اللہ کے مراکز ہیں اگر وہاں جانے سے حقیقی طور پر ہلاکت کا شبہ ہویا بیمار ہوجانے کا شبہ ہو تومسجد میں نہ جایا جائے۔مگریقین اور ظن غالب ہو۔اگر محض احتمال ہوتو پھر یہ حکم نہیں ہے۔مسجدوں کو سب نمازیوں کے لیے کھلا رکھا جائے۔ہمیں اپنے حالات پر غور کرنا چاہیے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ دوسرے ممالک میں کیا ہورہا ہے۔اگرتراویح میں تعداد کی کوئی تعیین کردی جائے تو اس میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ہے۔
مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ میں شروعات میں مفتی تقی عثمانی کی باتوں کی تائید کرتا ہوں۔آج کی تاریخ تک کسی کو معلوم نہیں کہ یہ وبا کتنی دیر تک چلے گی۔سب سے زیادہ متاثر امریکہ ہوا ہےجب وہاں مختلف ریاستوں نے احتجاج کیا تو صدر ٹرمپ نے انکی پشت پناہی کی۔اگر شاہی فرمان جے ذریعہ سے کوئی چیز نافذ ہوسکتی ہے توہمیں یہاں بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ ڈاکٹرز نے کہا ہےکہ یہ صرف سامنے سے ہٹ کرتا ہے،دائیں بائیں اور پیچھے سے نہیں کرتا۔ہمیں ایسا فارمولا بنانا چاہیے جو ہر جگہ اپلائی ہوسکے۔جیسٹی فائیڈ فارمولا ہونا چاہیے۔ہم سانپ سیڑھی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ہمیں صرف اپنے ملک کی حقیقتوں پر عمل کرنا ہوگا۔یہ ملک کسی ایک کا نہیں ہے بائیس کروڑ کا ملک ہے۔ہمارے ساتھ معقولیت کی بات کرو۔ہم صرف قابل عمل بات پر عمل کریں گے۔
پنجاب سے مولانا غلام محمد سیالوی نے کہا کہ میں حکومت کی تمام تجاویز سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔جب حکومت اللہ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتی تب تک حکومت کی ہر بات پر عمل کرنا ضروری ہے۔علماء کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔اتحاد مدارس دینیہ کی کوئی شرعی حثیت نہیں ہے اور نہ یہ کوئی رجسٹرڈ ادارہ ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل ایک رجسٹرڈ،ادارہ ہے۔علماء کے لیے معاشی ہیکج کا اعلان کیا جائے اور علماء گرفتار نہ کیا جائے۔
کے پی سے مولانا اسماعیل نے کہا کہ آگاہی پیدا کی جائے ہم طبی ماہرین اور انکی مشاورت پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔تراویح نفل ہیں انکو گھر پر ادا کیا جائے۔پانچ افراد کی بات قابل عمل نہیں۔کرونا والا فون کی گھنٹی بند کی جائے یہ بہت زیادہ خوف پیدا کرتا ہے۔
بلوچستان سے جناب مولاناانوار الحق حقانی نے کہا کہ فرائض اور واجبات کی حیثیت الگ ہےالبتہ تراویح میں لچک ہوسکتی ہے۔ہمیں کسی اور ملک کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔اعتکاف ایک دو بندے بھی کرسکتے ہیں اجتماعی افطاری نہیں ہونی چاہیے۔
پیر خالد سلطان نے کہا کہ علماء کو حریف نہیں حلیف بنانا چاہیے۔مسجد کے ملازمین کا نقصان ہورہا ہےائمہ مساجد کا رزق مسجد میں آنے والے لوگوں سے چلتا ہے اس لیے انہیں کھولا جائے۔
اسلام آباد سے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اختلاف انفرادی معاملات میں ہوتا ہے اجتماعی معاملات میں اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی۔میٹنگ میں ہمارے اہل سنت کے نامور مذہبی سکالر جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمن نے بھی بہت ہی جچے تلے الفاظ میں اظہار خیال فرمایااور جناب صدر کو بہت اہم تجاویز پیش کیں۔
آخر میں پیر نقیب الرحمن نے دعاکرائی۔بعد میں صدر محترم نے میٹنگ میں طے ہونے والے 20 نکات میڈیا کو پیش کیے۔میںٹنگ کا آخری ایجنڈا ہمیشہ کی طرح کھانا تھا اور پھر احباب اپنے گھروں کی طرف روان دواں ہوگئے۔
مجموعی طور پر حکومت کے لیے یہ ایک بہت ہی کامیاب میٹنگ تھی۔یہ میٹنگ حکومت نے بہت ہی مضبوط منصوبہ بندی سے چلائی اور وہ کامیاب رہی۔
طالب دعاء گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں