صحیح بخاری 14

صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ حیلوں کا بیان ۔ حدیث 1893

53 / 100

صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ حیلوں کا بیان ۔ حدیث 1893

راوی: محمد بن کثیر , سفیان , ہشام , عروہ , زینب بنت ام سلمہ , ام سلمہ ما

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ يَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَأَقْضِيَ لَهُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ

محمد بن کثیر، سفیان، ہشام، عروہ، زینب بنت ام سلمہ، ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو صرف انسان ہوں تم میرے پاس مقدمہ لے کر آتے ہو، بہت ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کردو اس کی بات سن کر اس لئے جس کے موافق اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کروں تو وہ نہ لے کہ میں نے اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا الگ کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں