صحيح البخاري 69

صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1283

58 / 100

صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1283
حدیث نمبر:1283
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ ‏”‏ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ‏”‏‏.‏ قَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي، وَلَمْ تَعْرِفْهُ‏.‏ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَتَتْ باب النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْكَ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‏”‏‏‏‏.‏
اردو ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ ایک عورت سے گزرے جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبرکرو ۔وہ کہنے لگی: مجھ سے دور ہوجاؤ ، اگر یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔اس نے آپﷺ کو پہچانا نہیں ۔ پھر لوگوں نے اس سے کہہ دیا کہ یہ نبیﷺ تھے ۔وہ (گھبرا کر) نبیﷺکے دروازے پر آئی۔ وہاں دربان وغیرہ کوئی نہ تھے اور عذر کرنے لگی میں نے آپﷺ کو نہیں پہچانا، (معاف فرمائیے) آپﷺنے فرمایا: صبر تو جب صدمہ شروع ہو، اس وقت کرنا چاہیے۔
حدیث کی اردو تشریح:
تشریح : مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ “میں نے تمہیں قبر کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا‘ لیکن اب کرسکتے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں ممانعت تھی اور پھر بعد میں اس کی اجازت مل گئی۔” دیگر احادیث میں یہ بھی ہے کہ قبروں پر جایا کرو کہ اس سے موت یاد آتی ہے یعنی اس سے آدمی کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ “اللہ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو قبروں کی بہت زیارت کرتی ہیں۔” اس کی شرح میں قرطبی نے کہا کہ یہ لعنت ان عورتوں پر ہے جو رات دن قبروں ہی میں پھرتی رہیں اور خاوندوں کے کاموں کا خیال نہ رکھیں، نہ یہ کہ مطلق زیارت عورتوں کو منع ہے۔ کیونکہ موت کو یاد کرنے میں مرد عورت دونوں برابر ہیں۔ لیکن عورتیں اگر قبرستان میں جاکر جزع فزع کریں اور خلاف شرع امور کی مرتکب ہوں تو پھر ان کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہوگی۔

علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں: ان زیارۃ القبور مکروہ للنساءبل حرام فی ہذا الزمان ولا سیما نساءمصر یعنی حالات موجودہ میں عورتوں کے لیے زیارت قبور مکروہ بلکہ حرام ہے خاص طور پر مصری عورتوں کے لیے۔ یہ علامہ نے اپنے حالات کے مطابق کہا ہے ورنہ آج کل ہر جگہ عورتوں کا یہی حال ہے۔

مولانا وحید الزماں صاحب مرحوم فرماتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صاف نہیں بیان کیا کہ قبروں کی زیارت جائز ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں اختلاف ہے اور جن حدیثوں میں زیارت کی اجازت آئی ہے وہ ان کی شرط پر نہ تھیں، مسلم نے مرفوعاً نکالا “میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔”( وحیدی )
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے جو حدیث یہاں نقل فرمائی ہے اس سے قبروں کی زیارت یوں ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو وہاں رونے سے منع فرمایا۔ مطلق زیارت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔ اسی سے قبروں کی زیارت ثابت ہوئی۔ مگر آج کل اکثر لوگ قبرستان میں جاکر مردوں کا وسیلہ تلاش کرتے اور بزرگوں سے حاجت طلب کرتے ہیں۔ ان کی قبروں پر چادر چڑھاتے پھول ڈالتے ہیں وہاں جھاڑو بتی کا انتظام کرتے اورفرش فروش بچھاتے ہیں۔ شریعت میں یہ جملہ امور ناجائز ہیں۔ بلکہ ایسی زیارات قعطاً حرام ہیں جن سے اللہ کی حدود کو توڑا جائے اور وہاں خلاف شریعت کام کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں